شب برأت عقیدت و احترام اورتزک و احتشام کیساتھ منائی گئی

سرینگر//شب برات کی تقریبات انتہائی عقیدت و احترام اورتزک و احتشام کیساتھ منائی گئیں جس دوران وادی کی تمام مساجد ، خانقاہوں اور زیارت گاہوں میں شب خوانی ہوئی اور انتہائی فضیلت وبرکت والی اس رات میں لاکھوں فرزندان توحید نے بارگاہ الٰہی میں اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرنے کے ساتھ ساتھ خصوصی دعائیں بھی کیں ۔ وادی میں شب برات کی سب سے بڑی تقریب آثار شریف درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوئی جہاں ہزاروں فرزندان توحید نے رات بھر شب خوانی کی اور بارگاہ الٰہی میںسربسجو د ہو کر اپنے گناہوں کی مغفرت مانگی ۔ درگاہ حضرت بل میں شب برات کی مقدس تقریب میں شرکت کرنے کیلئے وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔اس موقعے پر رضا کار تنظیموں کی طرف سے مشروبات کا انتظام رکھا گیا تھا جبکہ محکمہ ٹریفک کی جانب سے بھی معقول انتظامات کئے گئے تھے ۔  تاریخی جامع مسجدسرینگر میں شب برات کی تقریب میں مقررین نے شب برات کی فضیلت پر روشنی ڈالی جسکے دوران ہزاروں فرزندان توحید نے رات بھر شب بیداری کی اور اللہ کے حضور میں سربسجود رہ کر اپنے گناہوں کی بخشش طلب کی اور ریاست کی امن و آشتی کیلئے خصوصی دعائیں مانگیں ۔ جناب صاحب صورہ میں بھی شب برات کی تقریب میں لوگ شب خوانی میں محو رہے جسکے دوران علماء نے شب برات کی مناسبت سے روشنی ڈالی ۔خانقاہ معلیٰ ،زیارت حضرت سلطان العارفین ؒ مخدوم صاحب،دستگیر صاحب سرائے بالا و خانیار ، آثار شریف شہری کلاشپورہ ،حضرت سید صاحب سونہ وار، اقرا مسجد سرائے بالا ، جامع مسجد قدیم بٹوارہ ، سید عنقبوت ؒ صاحب بٹوارہ ،چرار شر یف ، پنجورہ شوپیان ، تجر شریف سوپور ، بانڈی پورہ ، ہندوارہ ، جامع مسجد کپوارہ کیساتھ ساتھ وادی کی تمام مساجد ، خانقاہوں اور زیارتگاہوں میں شب خوانی کا اہتما م کیاگیا جسکے دوران ائمہ مساجد نے تفصیل کیساتھ شب برات کی اہمیت اور فضیلت کو اُجاگر کیا ۔حکومت اور انتظامیہ نے بھی درگاہ اور دوسری جگہوں تک پہنچنے کیلئے ٹرانسپورٹ کے خاطر خواہ انتظام کیں تھے اور اس حوالے سے نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے بھی مسافروں کو خانقاہوں اور درگاہوں تک لانے اور لے جانے کیلئے اقدامت اٹھائے تھے۔ادھر چرار شریف میں زائرین نے شکایت کی کہ وہاں شب برات پر معقول انتظامات نہیں کئے گئے تھے ۔غلام قادر بیدار کے مطابق بابرکت شب کے موقعہ پرقصبہ میں بجلی ،پانی اور ٹرانسپورٹ سہولیات کا کوئی انتظام نہیں تھا جس کی وجہ سے یہاں وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے زائرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔