شبیر شاہ کی مسلسل نظربندی انتقام گیری :مولانا طاری

  سرینگر//فریڈم پارٹی کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد عبداللہ طاری نے پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ کی مسلسل نظر بندی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے آج تک زندگی کے 30سال جیل میں گزارے اور ریاستی حکام انہیں قید و بند میں رکھ کر انتقام گیری کا نشانہ بنارہے ہیں۔مولانا طاری نے حکمران ٹولے کی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شخصی آزادی اور خیالات کی جنگ کے دعوﺅںاورغبارے سے ساری ہوا نکل چکی ہے ۔انھوں نے انتظامیہ میں شامل ساجھے داروں سے پوچھا کہ وہ اس بات کا جواب دیں کہ اظہار آزادی کے سارے حقوق کیا صرف صاحب اقتدار لوگوں کے لئے محفوظ ہیں اور کب تک ہماری حق پر مبنی آواز کو بجبر دبانے اور گلہ گھوٹنے کی یہ روش جاری رہے گی۔مولانا طاری نے ریاستی حکام کے اس دوہرے پن اور دوغلی سیاست پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈبل کرنسی، حکمرانی اور مزاحمتی قیادت کو بات چیت میں شامل کرنے کا وعدہ کرنے والوں نے اب سبھی اختیارات اپنے نام محفوظ کرلئے ہیں ۔ مولانا طاری نے فریڈم پارٹی سے وابستہ قائدین و اراکین جن میں صوبائی صدر برائے جموں مولانا عبدالقیوم ،خورشید احمد باغوان، محمد یوسف ،اسد اللہ شاہ ،غلام محمد ،عبدالرشید،عبدالغفار ،محمد شفیع،محمد یونس،محمد عادل وگے اور رﺅف پاچہ پولیس تھانوں یا جیلوں میںن بند ہیں اور پلوامہ ،اسلام آباد ،شوپیان ،کلگام ،سرینگر،میں لگاتار شبانہ چھاپے ڈالے جارہے ہیں۔