شبیر شاہ کی سلامتی ، حکام کی خاموشی سے اہل خانہ فکر مند

سرینگر// تہاڑ جیل میں فریڈم پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ کی سلامتی سے متعلق خدشات ظاہر کرتے ہوئے انکے اہل خانہ اور جماعت نے کہا کہ حکام کی طرف سے’’مجرمانہ خاموشی‘‘ سے تشویش میں مزید اضافہ ہواہے۔ سنیئر مزاحمتی لیڈر شبیر احمد شاہ کی سلامتی سے متعلق چہ می گوئیوں اور افواہوں کے بیچ فریڈم پارٹی نے اتوار کو فریدم پارٹی سربراہ کی سلامتی سے متعلق تشویش کا اظہار کیا۔صنعت نگر میں واقع پارٹی دفتر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد عبداللہ طاری نے شبیر احمد شاہ کی گرفتاری کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔اس موقعہ پر پارٹی کے ترجمان بشیر عزیز نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے شبیر احمد شاہ کی صحت سے متعلق افوہوں  کے پیش نظر اہل خانہ اور انکی پارٹی کو انکی سلامتی سے متعلق خدشات ہے۔ انہوں نے کہا’’ حکام کی طرف سے مجرمانہ خاموشی کے نتیجے میں شبیر احمد شاہ کی سلامتی مزید مشکوک بن گئی ہے،جبکہ فریڈم پارٹی سربراہ کے وکیل نے بھی کہا کہ کچھ غلط ہے،جس کے بعد شاہ کے اہل خانہ،رشتہ دار اور حامیوں کو انکی سلامتی سے متعلق فکر لاحق ہوچکی ہے۔‘‘ اس دوران انہوں نے سرکار کی طرف سے شبیر احمد شاہ کی سیکورٹی واپس لینے سے متعلق حکم نامہ کو بھی مسترد کرتے ہوئے،کہ شبیر احمد شاہ کو کوئی بھی سیکورٹی حاصل نہیں تھی،کیونکہ وہ جیل میں مقید ہیں۔ انکا کہنا تھا’’ شبیر احمد شاہ کو کھبی بھی سیکورٹی حاصل نہیں تھی،اور ماضی میں بھی انہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس نازک مرحلے پر ثابت قدم رہیںکیونکہ’’ نئی دہلی نے گزشتہ2دنوں سے ایڈوائزری جاری کر کے کشمیریوں کے خلاف نفسیاتی جنگ چھیڑ دی ہے۔