شبیر احمد شاہ کیخلاف فرد جرم عائد، صحت جرم سے انکار

نئی دہلی//دلی کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ معاملے میںسینئر مزاحتمی رہنماء شبیر احمد شاہ اور ان کے ایک ساتھی کے خلاف فرد جرم عائد کردی ہے، تاہم دونوں نے قصوروار ہونے سے انکار کیا ۔ 23ستمبر کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے شبیر احمدشاہ اور محمد اسلم وانی کے خلاف چارج شیٹ دائر کی۔دونوں کو 14روزہ عدالتی تحویل کی مدت ختم ہونے کے بعدویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پٹیالہ ہائوس کورٹ دلی میںا یڈیشنل سیشنز جج سدھارتھ شرما کی عدالت میں پیش کرکے ان پر فرد جرم عائد کی گئی۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ شبیر احمد شاہ کے پاس کوئی ذرائع آمدن نہیں ہے ، اس لئے وہ انکم ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے، البتہ وہ مقامی لوگوں اور کچھ ہمدردوں سے عطیہ کے طور پر سالانہ8سے10لاکھ روپے وصول کرتے ہیں۔ ای ڈی نے عدالت کو بتایا ہے کہ شبیر شاہ پاکستان میں مقیم جنگجو تنظیموں سے رقومات حاصل کرتے ہیں جن کا استعمال جموں کشمیر اور بھارت کے دیگر حصوں میں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے کیلئے کیا جاتا ہے۔ بدھ کوشبیر شاہ اور محمد اسلم کو اسی عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے ان پر فرد جرم عائد کی۔معلوم ہوا ہے کہ دونوں نے ان پر عائد کئے گئے الزامات سے انکار کیا ہے اور ان کے خلاف باضابطہ مقدمہ چلانے کی عدالت سے استدعا کی ہے۔