شاید ہم مرنے والے ہیں انشائیہ

ایس معشوق احمد

صاحبو جب سے ہم بیمار ہوئے عجیب وسوسوں کے شکار ہیں۔گھر کے دروازے پر مہمان بھی دستک دے تو ہمیں گمان ہوتا ہے کہ ملک الموت تشریف لارہے ہیں جو ہمیں گھیسٹ کر اپنے ساتھ لے کر ہی جائیں گے۔ان کے ساتھ جو فرشتے ہیں وہ ہمارے نامہ اعمال کو دیکھ کر ایسے گالیاں دے رہے ہیں جیسے طلاق یافتہ بیٹی کے سابقہ شوہر کو مختلف النوع اور انواع و اقسام کی گالیوں سے نوازا جاتا ہے۔جہنم میں ڈالنے کی دھمکیاں بھی ہمیں ویسے ہی مل رہی ہیں جیسے طلاق سے قبل لڑکی کے میکے والے سسرال والوں کو دیتے ہیں۔مرزا کہتے ہیں کہ انسان موت سے خوف کھانے لگ جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ دانا چالیس سال کا ہوگیا ہے یا مالدار ۔ہماری دانائی پر شک کرنے والے نادان سن لیں کہ ہم اتنے دانا ہیں کہ اس دور دغا بازی میں آسانی سے دوسروں پر اعتبار کرلیتے ہیں اور ان کے دام فریب میں آکر اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔رہی مال کی بات تو پیسہ ہم سے اتنا دور بھاگ رہا ہے جتنا شیرشاہ کو دیکھ کر ہمایوں دور بھاگا تھا ۔ ہماری آنکھ لگتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یم دوت سرہانے بیٹھا ہے اور اس کے ہاتھ ہمارے ٹینٹوے پر ہیں۔حد تو یہ ہے کہ ہمیں خواب بھی کفن دفن کے ہی آتے ہیں۔ ہمارے یار دوست خوش ہیں ، رشتے دار گپیں مار رہے ہیں، ہنسی مذاق ہورہا ہے ، ہمارے عیبوں ، برائیوں ، خوبیوں کا تذکرہ ہورہا ہے۔اگر کوئی پریشان ہے تو بس وہ محسن جس نے ہمیں قرض دیا تھا اور وہ اس غم میں ہلکان ہورہا ہے کہ ڈوبتی رقم کو کیسے اور کن حربوں سے نکالا جائے۔ہم بیدار ہوئے تو ملک الموت سے زیادہ ڈر قرض داروں سے لگا کہ موت کے فرشتے نے تو فی الحال زندہ چھوڑ دیا مگر قرض داروں سے بچنا محال ہے وہ ہمارا گلہ دبا کر ہی مانیں گے۔
مرنے سے پہلے ہم توبہ کرنا چاہتے ہیں اور ان تمام حسینوں سے معافی کے طلبگار ہیں جن کے دل میں ہم نے مکان تو تعمیر کیا لیکن اس میں رہنے کا ہمیں موقع نہیں ملا، جن سے ہم نے سیاستدانوں کی طرح بے تحاشا وعدے تو کئے لیکن وفا نہ کرسکے، جن کو ہم نے پلکوں پر بٹھانے کا عہد کیا تھا لیکن ہماری اوقات انہیں خاک پر بٹھانے کی بھی نہ تھی، جن کے شیش محل دل پر ہم نے پتھر برسائے ان کی یاد آتی ہے تو آنکھیں بہہ جاتی ہیں۔ان کی یادوں میں ہم اتنا روئے کہ ؎
رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
دھوئے گئے ہم اتنے کہ صحت یاب ہو گئے
صحت یاب ہونے کی دیر تھی کہ اب ہمیں نہ مرنے کے خیالات آتے ہیں ، نہ ہم وحشت ناک خواب دیکھتے ہیں، نہ فرشتوں کی ہیبت ناک نظروں کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے اور نہ ہمیں جہنم میں ڈالنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ہم دنیا کے بازار میں، دھوکہ بازی کے لین دین میں، جھوٹ اور فریب کاری میں ایسے ملوث ہوئے جیسے مفلس شخص قرضے میں خود بخود مبتلا ہوتا ہے۔ایماندار تھے تو ہماری حالت اس غریب شخص جیسی تھی جو بازار میں گھوم پھر رہا ہے لیکن جس کی جیب پھٹی ہوئی ہے اور وہ چاہ کر بھی کچھ خرید نہیں سکتا۔ اس کی نظریں بازار کی رنگ برنگی اشیاء سے نہیں ہٹ رہی ہیں لیکن بےچارا مجبور ہے اور ضروریات کے بوجھ تلے اس کی کمر جھکی ہوئی ہے۔جب سے صحت یاب ہوئے ہم نے حرام کھانے اور مختلف طریقوں سے مال کمانے کے گر سیکھ لئے ہیں اور حرام مال سے ہمیں اتنی محبت ہوئی ہے جتنی ماں کو اپنی اکلوتی اولاد سے ہوتی ہے۔ہم بظاہر عیش کی زندگی تو گزار رہے ہیں لیکن سکون اور نیند سے محروم ہوئے۔ہم دنیا میں اتنے کھوئے ہوئے ہیں کہ یہ تک ہمیں خیال نہ آیا کہ ایک دن ہمیں مرنا ہے اور اپنی ہر حرکت ، ہر عمل ، ہر بات کا حساب دینا ہے۔انسان کا ضمیر مردہ ہوجائے تو وہ حلال اور حرام میں تمیز کرنا بھول جاتا ہے۔مرزا کہتے ہیں کہ انسان اپنے انجام کو بھول جائے اور قبر کی تاریکی کو دور کرنے کا سامان نہ کرپائے تو وہ غلفت کا شکار ہے۔صاحبو شاید نہیں بلکہ یقیناً ہر فرد کو مرنا ہے ۔ وہ خوش بخت وسوسوں کے شکار نہیں ہوتے جو اپنی جیب کی بجائے قبر کو یاد رکھتے ہیں اور اس کو روشن کرنے کی فکر کرتے ہیں۔ہم سوچ بچار کررہے ہیں اور توبہ کا دروازہ ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ مرنے کے بعد رسوا نہ ہوں اور نہ غالب کی طرح یہ خواہش کریں کہ ؎
ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اُٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

���
کولگام کشمیر،موبائل نمبر؛8493981240