شاہراہ چھٹے روز بھی بند، آج بھی بحالی کے امکانات مسدود

بانہال +سرینگر //کشمیر وادی کا زمینی رابطہ سنیچر کو چھٹے روز بھی باقی دینا سے منقطع رہاکیونکہ شاہراہ پر مسلسل پسیاں اور پتھر گرنے کا عمل جاری ہے ۔ جموں سرینگر شاہراہ پر مسلسل چار روز سے رامسو ،رام بن ، گانگرو ،ماروگ ، بیٹری چشمہ علاقوں میں پسیاں اور پتھر گر رہے ہیں جس کے سبب شاہراہ کو چھٹے روز بھی گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بحال نہیں کیا جا سکا ۔حکام کا کہنا ہے کہ شاہراہ پر پہلے 2 دن تک لگاتار برف باری کے بعد چار روز سے پسیاں اور پتھر گرنے کا عمل جاری ہے اور حکام کو سڑک بحال کرنے میں انتہائی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے سنیچر کی صبح بانہال ، کھڑی اور جواہر ٹنل علاقے میں دوبارہ برف باری کا سلسلہ شروع ہوا اور یہ سلسلہ شام 5بجے تک جاری رہا۔ برف باری کے نتیجے میں بھی شاہراہ سے پسیاں ہٹانے کے کام میں رکاوٹیں پیش آئیں۔ حکام کے مطابق شاہراہ کو بحال کرنے کیلئے مسلسل کوششیں جاری ہیں لیکن لگاتار پیساں گرنے سے کام متاثر ہورہا ہے ۔
ادھر ٹریفک حکام نے کہا ہے کہ اتوار کو بھی شاہراہ بحال ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایک ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اگر شاہراہ ٹریفک کی آمد و رفت کیلئے بحال بھی کی گئی تو صرف درماندہ ٹریفک کو چھوڑنے کی اجازت ہوگی۔ٹریفک پولیس نے بتایا کہ بیٹری چشمہ، گاگرو اور انوکھی فال پر مٹی کے تودے اور پتھر گرنے کے تازہ واقعات پیش آئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا ’شاہراہ کے مختلف مقامات پر قریب 3 ہزار گاڑیاں ،جن میں زیادہ تعداد ٹرکوں کی ہے، درماندہ ہیں‘۔ ادھر پچھلے چار روز سے سرینگر میں درماندہ کرناہ کے شہری کی میت کوکل بذریعے ہوائی جہا ز کرناہ پہنچایا گیا ہے جبکہ وہاں سے تین بیماروں کو وادی کے ہسپتالوں میں لایاگیا ۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاقے کیلئے دن میں تین سے چار پروازوں کے ذریعے مسافروں اور بیماروں کو اپنے اپنے مقامات تک پہنچانا تھا تاہم موسم کی خرابی کی وجہ سے جہاز ایک ہی پرواز بھر سکا۔