شاہراہ پر پسیاں اور پتھر گرنے آنے والے 20مقامات ’ ریڈ زون ‘قرار

سرینگر // جموں سرینگر شاہراہ کا چار گلیاری منصوبہ مکمل کرنے میں مزید تاخیر ہونے کا امکان ہے اور تعمیراتی کمپنی خود اس بات کا اعتراف کررہی ہے کہ 2021تک  شاہراہ کی تعمیر مکمل نہیں ہوگی۔شاہراہ پر پچھلے 3برسوں سے یکطرفہ ٹریفک سال بھر چلتا ہے،اوراب اپریل کے مہینے میں بھی شاہراہ کئی کئی دن تک بند رہنے کی نوبت آگئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہراہ کے فور لین کام کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حمل میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے کیونکہ تعمیراتی کام اور پہاڑوں کے کٹائو کی وجہ سے بیٹری چشمہ اور منکی موڈکے گردونواح میں موجود اونچی پہاڑیوں پر مزیدپسیاں اور چٹانیں کھسکنے کا عمل جاری رہتا ہے نیزہلکی بارش سے بھی مٹی کے تودے اور پتھر گر آتے ہیںجو مسافروں کیلئے کبھی بھی جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ بیٹری چشمہ کے گردونواح کی پہاڑیوں میں 20سے زائد  sliding points کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے، جو شاہراہ کو دشوار ترین راستہ بنارہے ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیاکے مطابق نیشنل ہائی وے ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کودوحصوں میں تقسیم کردیا ہے جن میں رام بن بانہال اور بانہال ادھمپور شامل ہیں۔کشمیر صوبے میں سڑک کی فورلینگ کا کام سرینگر شہر سے شروع ہوکرپلوامہ، اننت ناگ ،قاضی گنڈ، رام بن ، ادھمپور ضلع سے ہوتے ہوئے جموں شہر میں اختتام پذیر ہونا تھا،اس دوران اگرچہ پانتہ چھوک سے قاضی گنڈ تک سڑک کو 4 گلیاری بنایا گیا ہے لیکن بانہال سے رام بن تک اکثر مقامات پر کام جاری ہے جس کے مکمل ہونے میں تاخیر ہو رہی ہے ۔مرکزی سرکار نے سال 2015میںشاہراہ کے ادھمپوربانہال اور بانہال رام بن منصوبوں کو منظوری دی تھی ۔ مرکزی سرکار کی کیبنٹ کمیٹی  برائیاقتصادی امور نے 22جنوری 2015کو3,382.66 کروڑ روپے واگذار کئے جن میں بانہال ادھمپور کے 40.07کلومیٹر سیکٹر کیلئے 1,758.68 کروڑ روپے جبکہ رام بن بانہال کے32.10کلومیٹر سیکٹر کیلئے1,623.98کروڑ روپے واگذار کئے گئے۔لیکن اسکے بائوجود بھی بانہال رام بن سڑک کی تعمیر میں مصروف کمپنی مقرر رہ وقت پر کام مکمل کرنے سے قاصر ہے جسکی وجہ سے آئندہ کئی برسوں تک مسافروں اور مقامی لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
  فور لین شاہراہ پرجس طریقے اور سست رفتاری سے کام جاری ہے ، ایسا لگتا ہے کہ سڑک کی تعمیر میں مزید 3سے 4سال کا وقت درکار ہوگا‘‘۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیاکے پروجیکٹ ڈائریکٹر دنیش راج نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ موسم خراب رہے یا پھر خشک، بانہال رام بن کے درمیان چار گلیاری سڑک پر پسیاں اور پتھر گر آنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے جبکہ اس سال سڑک کو بحال رکھنے میں بھی انہیں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔انہوں نے بتایا کہ فورلین کا کام 2021میں مکمل کرنے کا ٹارگٹ رکھا گیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ موسم کس طرح اُن کا ساتھ دے گا ۔انہوں نے کہا کہ وہ پچھلے تیس برسوں سے کشمیر کی موسمی صورتحال سے واقف ہیں اور یہ سب جانتے ہیں کہ بانہال سے رام بن کا علاقہ کس قدر خطرناک اور دشوار گذار ہے ۔ٹریفک پولیس ذرائع کے مطابق سڑک کی فورلینگ کی وجہ سے کئی مقامات  پنتھیال ، رامسو، انوکھی فال ، بیٹری چشمہ، منکی موڑ اور کھیرمیں متواتر طور پر چٹانیں کھسکنے سے سڑک بار بار بند ہورہی ہے اورباربار چٹانیں کھسکنے سے ٹریفک کی نقل وحمل میں کافی دشواریوں کا سامنا ہے۔ آئی جی پی ٹریفک الوک کمار نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سال منکی موڑ کے مقام پر لگاتار پسیاں گر رہی ہیں اور اُن کو ہٹانے میں سرکاری مشنری کو کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کا کام صرف گاڑیوں کو چلانے تک ہی محدود ہے سڑک کی تعمیر کا کام اُن کے ذمہ نہیں ہے تاہم انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ سڑک اس بار زیادہ تر بند رہی ہے ۔