شاہراہ پر بندش کیخلاف مفاد عامہ عرضی

نئی دہلی// ریاستی سرکار کی طرف سے جموں سرینگر شاہراہ پر ہفتے میں دو دن شہری ٹریفک پر پابندی کے حکم نامہ کو چیلنج کرنے کی عرضی کو عدالت عظمیٰ نے خارج کردیا۔ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس،جسٹس رنج گگوئے اور جسٹس دیپک مہتا پر مشتمل ڈویژن بینچ کو ریاستی سرکار کے وکیل نے کہا کہ شاہراہ پر شہری ٹریفک پر بندشوں کا حکم نامہ انتخابات کو مد نظر رکھتے ہوئے لیا گیا اور اس کا اطلاق31مئی تک جاری رہے گا۔ بینچ نے دلائل سننے کے بعد کہا’’ہم اس بات پر مائل نہیں ہیں کہ عرضی کو التواء میں رکھا جائے۔‘‘ یہ درخواست عوامی نیشنل کانفرنس کے سنیئر نائب صدر مظفر احمد شاہ اور سماجی کارکن یاسمین ثنا اللہ نے سپریم کورٹ میں پیش کی تھی۔ ایڈوکیٹ سہیل ملک کی وساطت سے پیش کی گئی اس عرضی میں سرکار کے شاہراہ پر ہفتے میں دو روز تک شہری ٹریفک کی نقل و حرکت کے فیصلے کو’’ سخت گیر اور مضحکہ خیز‘‘ قرار دیا گیا تھا،جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ متاثر ہونگے،اور اس کے اثرات بلاواسطہ معیشت اور سماج پرپڑیں گے۔ عرضی میں کہا گیا تھا’’ اس متاثر کن حکم نامہ کا مطلب وادی کو مقفل کرنا ہے جس کے نتیجے میں10ہزار گاڑیاں،جو ہر گھنٹہ شاہراہ پر چلتی ہیں،متاثر ہونگی،جبکہ ان گاڑیوں میں مریض،طلاب،سیاح اور تاجروں کے علاوہ سرکاری ملازمین بھی سفر کرتے ہیں۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ اس طرح کا حکم نامہ1999کے کرگل جنگ کے دوران بھی اجراء نہیں کیا گیا تھا۔تاہم عدالت عظمیٰ نے  یہ عرضی خارج کردی۔