شاہراہ نے کیا ناک میں دم، 2ماہ میں21بار بند

بانہال //جموں سرینگر شاہراہ منگل کو ایک بار پھر پسیاں گر آنے کے نتیجے میں 6گھنٹے تک بند رہی۔اس دوران انوکھی فال کے مقام پر ایک آلٹو کاربھاری چٹانوں کی زد میں آگئی ،جسکی وجہ سے گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ،تاہم اس میںسوار 4افراد معجز یاتی طور محفوظ رہے ۔اس دوران سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ شاہراہ گزشتہ 2ماہ میں 21بار بند کی گئی۔جنوری میں ابھی تک شاہراہ 12روز تک بند رہی جبکہ نومبر اور دسمبر میں کم سے کم 9بار بند کی گئی ہے۔ادھرشاہراہ پرگاڑیوں کی آمدورفت منگل کی دوپہر بعد سے پنتھیال کے مقام پر گرتے پتھروں کی وجہ سے بند ہوئی اورمنگل کی شام چھ بجے دوبارہ بحال کی گئی ۔ پیر کی شام شیر بی بی کے علاوہ بانہال اور جواہر ٹنل کے درمیان شاہراہ پر پھسلن پیدا ہوئی جس کی وجہ سے لگ بھگ 2000 مال اور 2 سو کے قریب مسافر گاڑیاں بانہال ، ناچلانہ ، رامسو ، رام بن اور چندرکوٹ کے مقام پر روک دی گئیں ۔
اس درماندہ ٹریفک کو منگل کی صبح وادی کی طرف جانے کی اجازت دی گئی اور معمول کے مطابق کشمیر سے جموں آنے والے ٹریفک کو درماندہ ٹریفک کے نکالنے تک لور منڈا اور قاضی گنڈ میں منگل کی صبح سے ہی روک دیا گیا۔ شاہراہ کی خرابی کی وجہ سے ٹنل کے دونوں طرف جگہ جگہ درماندہ مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور لور منڈاکے مقام پرمسافروں نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے۔ اس دوران پنتھیال اور شیر بی بی کے درمیان رات دیر گئے تک ٹریفک جام لگارہا۔ ٹریفک ذرائع  نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں سے کشمیر کی طرف پیر کو آنے والے درماندہ ٹریفک کا بیشترحصہ منگل کی شام تک ٹنل پار کرچکا تھا جبکہ تین سے چار سو کے قریب ٹرک پنتھیال کی پسی اور ڈگدول کے درمیان روک دیئے گئے ہیں کیونکہ پتھروں کے گرنے کا سلسلہ شام چھ بجے تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ پتھروں کا سلسلہ رکتے ہی شام  چھ بجے کے قریب تعمیراتی کمپنی کی مشینری کی مدد سے شاہراہ کو پنتھیال کے مقام پربحال کیا گیا اور اس دوران درماندہ پڑے ٹریفک کو قاضی گنڈ اور لور منڈا سے منگل کی شام جموں کی طرف چھوڑ دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ بْدھ کے روز ٹریفک کو وادی کشمیر سے جموں کی طرف آنے کی اجازت ہوگی۔