شاہد الاسلام 7دن کے ’حراستی پیرول‘ پر رہا

سرینگر//قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے )کی خصوصی عدالت نے نظر بند مزاحمتی لیڈرشاہد الاسلام کے حق میں ایک ہفتے کیلئے ’حراستی پیرول ‘ جاری کردیا ہے ، موصوف کو ہدایت دی گئی کہ وہ دن صرف اپنے اہل وعیال کے ساتھ اور رات پولیس تھانے یا پولیس حراست میں گزاریں ۔یاد رہے کہ  چند روز قبل سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کیساتھ فون پر بات کر کے شاہد الاسلام کی اہلیہ کے بیمار ہونے پر اُنکی انسانی بنیادوں پر رہائی کا مطالبہ کیا تھا ۔ حراستی پے رول کی مدت ایک ہفتے کیلئے ہوگی اور ممکنہ طور پر اس میں توسیع بھی ہوسکتی ہے ۔ این آئی کی خصوصی عدالت نے موصوف کو ہدایت دی کہ وہ دن صرف اپنے اہل وعیال کے ساتھ اور رات پولیس تھانے یا پولیس حراست میں گزاریں ۔ شاہد الاسلام کو حراستی پے رول کے تحت صبح10بجے شام5بجے تک اپنے اہل وعیال کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا جبکہ باقی وقت اُنہیں پولیس حراست میں گزار نا ہوگا ۔ حراستی پے رول پر رہائی کے دوران وہ اپنے عیال کے علاوہ کسی سے بھی ملاقات نہیں کرسکتے ہیں جبکہ متعلقہ ایس ایس پی ہی اس بات کا فیصلہ کریں گے ،کہ وہ رات کہاں گزار یں گے ۔این آئی اے نے شاہد الاسلام کو جولائی2017میں ٹیرئر فنڈنگ کیس میں گرفتار کرکے تہاڑ جیل نئی دہلی میں مقید رکھا ۔12جنوری کو اُنکی اہلیہ کو دل کا دورہ پڑا تھا ،جسکے بعد اُنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ۔