شاہبازؔ راجوروی

مے￿ ک￿ر کَتھ باتھ کَستام س￿ت￿ شہبازؔ

وُونکھ اتھ شا￿عری چھُم نا یہِ اِکرام

ترجمہ: میں کسی کے ساتھ یونہی محو سخن رہا اور لوگ اسے میری شاعری سمجھ بیٹھے۔ چلئے یہ بھی میرے لیے ایک اکرام ہے۔
شاہباز راجوروی ریاست جموں و کشمیر کی جنوبی سرحد پر کشمیری شعر و ادب کی ایک معتبر، توانا اور نمائندہ آواز ہیں جو ایک کثیٖر لسانی ماحول میں اپنی مادری زبان کی شمع کو فروزاں رکھے ہوئے ہیں اور خطہ پیرپنچال میں اس زبان میں ایک سالار ادب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ نئی فکری بصیرت سے آراستہ ایک دیٖدہ آگاہ، وسیع التجربہ اور دانشورانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں اور گذشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے پرورش لوح و قلم کرتے ہوئے کشمیری زبان کو اپنی صلاحیتوں سے بہرہ ور کررہے ہیں اور ایک خلاق سخنور کے طور پر مستند مانے جاتے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اُردو، پہاڑی اور گوجری زبانوں کے مشاغل ادب میں بھی آپ ایک پہچان بنائے ہوئے ہیں۔
شاہبازؔ صاحب جن کا پورا نام خواجہ غلام نبی نائیک ہے، ضلع راجوری کے بہروٹ قریہ سے متعلق ہیں۔ آپ ایک کثیر الجہات ادیب، شاعر، ناقد اور اِنشا پرداز ہیں۔ جن کی دو کشمیری شعری تخلیقات کو ریاستی کلچرل اکادمی کی جانب سے اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔
شامر￿ شفق (سُرمئی شفق) شاہباز صاحب کا پانچواں کشمیری مجموعہ کلام ہے جو حال ہی میں زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منظرِ عام پر آیا ہے۔ 116 صفحات کی ضخامت لئے ہوئے یہ شعری مجموعہ آپ کی غزلیات، منظومات اور قطعات و فردیات پر مشتمل ہے جو آپ کی فنی اور فکری تابانی کا مظہر ہے۔ اس مجموعہ شعر میں تقریباً چالیس غزلیات آٹھ منظومات اور قطعات و فردیات شامل ہیں، جو تقریباً ۲۰۱۲ء کے بعد ہی آپ کے فِکر سخن کا نتیجہ ہیں۔ کتاب کے آغاز میں کشمیری زبان کے معروف نقاد، ڈاکٹر غلام نبی حلیمؔ کا پیش گفتار کے عنوان سے ایک نظر افروز تبصرہ سُپرد قلم کیا ہوا ہے جو اس مجموعہ شعر کے فنی محاسن اور مصنف موصوف کی شاعرانہ شخصیت اور قدوقامت کو اُجاگر کرتا ہے۔ اس مجموعہ شعر کا اِنتساب مصنف کی رفیقہ حیات کے نام ہے جو حال ہی میں واصل بحق ہوکر ایک عمر رسیدہ مقام پر آپ کے لیے فراق مہجوری اور یادوں کا ایک انبار چھوڑ کر چلی گئیں ہیں۔ کتاب میں شامل سانحاتی منظومات اسی حُزن و ملال کی زائیدہ ہیں جو فرط غم کا گہرا تاثر لئے ہوئے ہیں اور قاری کے ذہن کو اپنی گرفت میں لئے بغیر نہیں رہتیں۔ کتاب کی آخری پُشت پر شاہبازؔ صاحب کا متین اور پُروقار فوٹو گراف شامل ہے جس میں آپ کی تیز بین نگاہوں کی سیمابی کیفیت جھلکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ کتاب کے پہلے حصے میں غزلیات شامل ہیں جو آپ کی شعر گزاری کے اسلوب اور فکر و احساس کے  ہفت رنگ ابعاد کا مظہر ہیں۔ بقول ڈاکٹر حلیم ’’شاہباز ایک دور اندیش، ایک بالغ نظر اور مفکرانہ سوچ کے مالک ہیں جن کی فکری توانائی کا اثر بدیر قائم رہے گا۔ آپ کے محسوسات کو ایک دوام حاصل ہے جو قاری کو متاثر کئے بغیر نہیں رہتے اور اُسے اپنا ہم خیال بنادیتے ہیں اور یہی آپ کی ذاتی اور فنی کامرانی بھی ہے (پیش لفظ، شامری شفق ص ۱۰)۔
شاہبازؔ صاحب کی شعری ترسیل اور اسلوب سخن اختصار میں جامعیت لیے ہوئے ہے جو (brevity is the wit of soul) کے مصداق ہے۔ جس میں مقامی لب و لہجہ کی ایک ایسی بُو باس پائی جاتی ہے جو آپ کو ایک خاص پہچان اور شناخت عطا کرتا ہے۔ آپ ایک پُرمعلومات اور کثیر مطالعہ شخصیت ہیں اور عصری آگہی کا بھرپور شعور رکھتے ہیں۔ آپ کے مشاہدات اور محسوسات میں ایک فکر انگیز بصیرت کا وجدان پایا جاتا ہے جو رِوایت اورجدّت کا امتزاج لئے ہوئے ہے اور جس میں ایک دانشور، سخنور، شاہد و ناطق نظر آتا ہے۔ آپ کا فکری کینواس وسیع ہے جس کے پس منظر میں آپ کا گہرا تجربہ اور مشاہدہ شامل ہے۔ آپ ایسے برمحل رموز و علائم کا استعمال کرتے جس میں ایک گہری معنویت، تخلیقی تمازت اور مقامی مانوسیت جھلکتی ہے۔ شاہبازؔ صاحب کبھی حیات و کائنات کے متعلق تہہ در تہہ حقائق اور اسرار و رموز کو موضوع سخن بناکر اپنی بصیرت فکر کا عندیہ دیتے ہیں اور کبھی عصر حاضر کی بدلتی ہوئی برق رفتار اور میکانکی زندگی کے اقدار داخلی اور خارجی انتشار کا احساس دِلاکر قاری کو ایک لمحۂ فکریہ عطا کرتے ہیں:
یوت آو کُنے یتہِ نیرِہ کُنے انسان چھُ پُر اسرار متیو
کُس لول بری کُس تھاوی کن اد￿ چون بنی غمخوار متیو
اکہِ نہ￿ اکہِ د￿ہ نیرنُے 
توتہِ زندہ روزن منگان
چھ کھُر￿ لد ا￿م￿ سا￿ری ستھر کانے 
دِوان تسلا مکیٖن دوسرا چھُس
ترجمہ:(۱)  انسان ایک پُراسرار مخلوق ہے۔ اکیلا ہی دُنیا میں آجاتا ہے اور اکیلا ہی چلا جاتا ہے۔ اس لیے کسی سے بے اعتنائی کا شکوہ کرنا بے جا ہے۔
(۲)  یہ جانتے ہوئے بھی کہ زندگی عارضی ہے۔ انسان زندہ رہنے کے لیے انتھک ہاتھ پائوں مارتا رہتا ہے۔
(۳) زندگی کے دھاگوں کی تمام اٹیاں اُلجھی ہوئی ہیں لیکن پھر بھی انسان ان کو سلجھانے کے لیے اپنے دل کو تسلی دیتا رہتا ہے۔
اور اسی طرح یہ اشعار    ؎
اند کتہِ چھُ خاب زارن یا ہاوسن امارن
ک￿م￿ وو￿ن زِ دراو شر یتہِ ژھور بانہ￿ اوس دُنیا
٭٭
بانہ￿ ہ￿ل￿ ک￿ل￿ چا￿ن￿ تے
کرالہ￿ چونُے چھا ہُنر
ترجمہ: (۱) انسانی خواہشات کی کوئی حد نہیں ہے۔ یہاں کسی کے ارمان پورے نہیں ہوتے۔ دُنیا ایک کشکول کی مانند تہی دامن ہے۔
(۲) اے کوزہ گر، تمہاری کاریگری کا یہ کون سا کمال ہے۔ کہ تمہارے اکثر برتن ٹیڑھے میڑھے نظر آتے ہیں۔ مُراد انسانوں کی یکسان شکل و صورت سوچ اور صلاحیتوں کا نہ ہونا ہے۔
شاہبازؔ صاحب کا کلام خیال آفرینی اور پیکر تراشی سے متعصف ہے۔ آپ اپنی شبیہ کاری سے اپنے فن اور شعری ترسیل کو گہری معنویت اور اعتباریت عطا کرتے ہیں۔ جب آپ سماجی نابرابری، اخلاقی بے راہ روی اور عصری زندگی کی کشاکش کا ذکر کرتے ہیں تو یوں نقشہ کھینچ دیتے ہیں   ؎
تھوکس ژ￿ٹ￿ ژ￿ٹ￿ بہ￿ کھمبرل وَتھ
نہ نیبے کان￿ہہ تہ￿ گے مے￿ بُل
اوسا ییِ کین￿ہہ ا￿دم￿ لون
رتہ￿ سہلابس ترا￿ون￿ ژھال
یا دِم ا￿ندری کٹھس گاش
نتہ￿ افتابے کھٹتھے تھاو
ترجمہ: (۱) پتھریلے راستوں پر چلنا میرا مقدر ٹھہرا اور میں ٹوٹ کر رہ گیا، لیکن مجھے نشانِ منزل کا کوئی سراخ نہ ملا، مجھ سے بڑی بھول ہوگئی۔
(۲) کیا انسان کی قسمت میں یہی نوشتہ اَزل تھا کہ خون کے دریا میں غوطہ زن ہوکر رہ جائے۔
(۳) اے منبع نور! یا میرے اندرون کی تاریکی کو دور کر یا اپنے سورج کو پسِ پردہ ہی رکھ دے۔
شاہبازؔ راجوری ایک صاحب فراست اور انسان دوستی کے علمبردار ہیں۔ آپ نہ صرف اپنے گردوپیش کا بلکہ عالمی سطح کے سیاسی، سماجی عوامل اور آشوب کا درک رکھتے ہیں۔ حقوق انسانی کی پامالی، بربریت اور معصوموں اور بے گناہوں کو درندگی کے ہتھے چڑھتے ہوئے آپ آتش زیرِ پا ہوکر تلملا اٹھتے ہیں اور یوں صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
یی￿لہِ ا￿چھ￿ گاشے ژورِ نیوُکھ
ل￿درن، م￿ختن کر کُس باو
د￿ہ دِشہ کَکون زالے و￿ن￿
پوت ون بولان کاوے کاو
شا￿عری شہباز کیا￿ہ
نار￿ہ ت￿ت￿ وردن منگان
ترجمہ: (۱) جب بصارت چشم ہی چھن جائے تو موتیوں کی مالائوں کو پرکھنے والا کون رہے گا۔
(۲) چکوروں کو آئے دن پھندوں کا سامنا ہے اور اب صحرائی بستیوں میں صرف کوّے ہی کوّے نظر آئیں گے۔
(۳) اے شہباز میری شاعری میرے دل کی جلن کی پکار ہے اور میں اپنے دل کے پھپھولوں کو ڈھانپنے کی کوشش کررہا ہوں۔
آپ جہاں خود احتسابی کی بات کرتے ہیں وہیں رہبران سماج کو حدف تنقید بناکر طنز کی ایک گہری کاٹ پیدا کرلیتے ہیں اور قاری کے ذہن کو جھنجوڑ کر رکھ دیتے ہیں:
سودا کو￿رتھ بے پژھ دستار اتھو گو
را￿وی ژے￿ پر￿زنتھے رتہِ نووہے بدن
ژکہِ چھُکھا ژتہِ میا￿ن￿ پا￿ٹھ￿ سوز ر￿س
زاہدا کتھ زیٹھرا￿وِتھ ب￿ل￿ ن￿ماز
ترجمہ: (۱) آپ نے ایسا سودا کیا کہ اپنی ساکھ ہی کھودی اور اپنی پہچان کو ختم کردیا۔ اور جسم کو لہولہان کرکے رکھ دیا۔
(۲) اے زاہد خشک، لگتا ہے کہ تم بھی میری طرح عشق حقیقی سے خالی ہو اس لیے تم عبادت میں زیادہ دکھاوے سے کام لے رہے ہو۔
اور اسی طرح کے نظم کا یہ بند   ؎
امامت ک￿ر ت￿م￿
یس ا￿س دِلس من￿ز لات و منات
ا￿س￿ مریم زاد￿ہ
رامژ￿ہ گبہِ و￿ن￿ 
(نظم: ہواہس من￿ز اہرام)
ترجمہ: قیادت کے لیے وہی آگے بڑھا جس کے دل میں لات و منات بسے تھے اور ہم مریم کی اولاد گمشدہ بھیڑوں کی مانند رہ گئے۔
عصری آگہی کے ساتھ ساتھ شہباز صاحب اپنے گردوپیش میں پھیلے ہوئے فطری اور جمالیاتی حُسن سے بھی روحانی آسودگی اور طمانیت کا اظہار کرتے ہیں:
ژ￿ وو￿نہِ پھٹراوتن
فولادی ژھ￿پہ￿ پا￿ری لگہِ ہے
دِتم پے
کس چھُ صانع
یم￿ ژ￿ کو￿رکھ ……………(نظم: گ￿لابس کُن)
ترجمہ: اے خوبصورت گلاب! اپنی فولادی خاموشی کو ذرا توڑدے اور مجھے اس راز سے واقف کر کہ یہ کس صانع نے آپ کو اس قدر خوبصورتی عطا کی ہے؟ اور اس کی اپنی خوبصورتی کا کیا عالم ہوگا۔
شامری شفق کے شعری مجموعہ میں ’’سانحاتی نظم‘‘ کے عنوان سے ایک اثر انگیز مرثیہ موجود ہے جو شاعر کی نیک سیرت اور وفاشعار رفیقہ حیات کی جدائی کے غم کا زائدہ ہے۔ داغ مفارقت کی یہ حُزینہ لے کر ایک موج تہہ نشین کی طرح شاہباز صاحب کے قلب و ذہن پر چھائی نظر آتی ہے، جو   ع   ’گفت آید در حدیث دیگراں‘ کے مترادف پوری انسانی زندگی کا دردِ فراق لئے معلوم ہوتی ہے۔ اس نظم میں درد جدائی کی ایسی تصور کشی کی گئی ہے، جو قاری کو اشک افشانی پر مجبور کرتی ہے    ؎
بہ￿ شاندس چھُس بہِتھ چا￿نس مزارس
سدر سونچ￿ک￿ غم￿ک￿ گرداب ا￿ش￿ ددراے
… سُہ یاون کال
یادن ہُند طلوطم
س￿ قربت وا￿نسہ ر￿چھمُت بوگ
اچانک غا￿ب گے￿ تم￿ لفظ انبارے بہ￿ چاریوس
(اکھ سانحاتی نظم)
ترجمہ: میں آنکھوں میں آنسوئوں کی بارش لئے ہوئے تمہارے مرقد کے کونے پر، غمِ فراق کے سمندر میں ہچکولے کھارہا ہوں۔ اور تمہاری وفا شعاری اور عہد شباب کی یادوں کا اعادہ کررہا ہوں۔ آج وہ یک جان و دو قالب والا ساری عمر کا رشتہ یک لخت ختم ہوگیا۔ میں گھونگا بن کر رہ گیا ہوں اور میری عقل بھی گویا مجھے اب جواب دینے لگی ہے۔ مفارقت کی یہ نوحہ سرائی آپ کی کئی اور منظومات اور قطعات میں بھی دیکھی جاسکتی ہے جو مطالعہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر:
صبح شامن نظر چھم مرقدس کُن
ژھر￿ر ا￿ند￿ پ￿ت￿ مے￿ باسان کیازِہ ونتم؟
س￿ بِربارے سُہ چرگیُش لولہ￿ ماحول
نیتھ￿ اسباب سا￿رے کیازِہ ونتم؟
ژے￿ ترووتھ نا یتیُک غم خانہ￿ و￿ل￿ و￿ل￿
تہ￿ م￿کلووتھ اوڈے افسانہ￿ و￿ل￿ و￿ل￿
ترجمہ: (۱) میں شام و صبا تمہارے مرقد کی طرف نظر اُٹھائے ہوں۔ چاروں جانب مجھے اُداسی نظر آتی ہے۔ گویا تم تمام رونق اور چہل پہل کو سمیٹ کر رخصت ہوگئیں۔
(۲) تم نے دنیا کے اس غم خانے کو پہلے ہی چھوڑدیا اور زندگی کے ادھورے افسانے کو ہی ختم کردیا۔
آپ کے کلام میں کسی وقت ایسے اشعار بھی نظر سے گزرتے ہیں جن میں جذبات کی ایسی فراوانی پائی جاتی ہے کہ وہ مقررہ اوزان کو پھلانگتے ہوئے نظر آتے ہیں مثال کے طور پر یہ چند شعر   ؎
گژھن بر پوش پھُلیے￿ ہرد اژوُن
یِمو تہراج چمنے کو￿ر ا￿س￿ کم تام
کُس چھ دردِ دل تہ￿ راز باوُن کیُت
اکھ کن￿ر تاحیات اَزماون کیُت
مہ بامبر ژول نہ وُنہِ روتُل
پھ￿لن صبح رنگ ژھٹن کتہِ گُل
بطور مجموعی شاہباز صاحب کے شعری تجربات، تخلیقی تمازت اور خلاقانہ صلاحیتوں کے غماز ہیں۔ آپ اپنی شعری ترسیل کے لیے مختلف ہیتی اسالیب کا استعمال کرکے اپنی فنی قدرت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آپ کے شعری تلازمات میں ایک خلاقانہ عنصر موجود ہے جس کو دور سے پہچانا جاسکتا ہے۔ شاہبازؔ صاحب اپنے شعری سفر میں اس وقت ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں پر آپ کا ہر تجربہ اور مشاہدہ ایک توانائی اور وقار لیے ہوئے ہے۔
یہ شعری مجموعہ کشمیری شعری ادب میں ایک ایسا اضافہ ہے جو کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ اس مختصر سے جائزہ کو آپ کے ہی اس شعر پر ختم کیا جاتا ہے    ؎
بہ￿ چھُس شاہباز￿ؔ ژھاران پا￿ن￿ پانس
لمان چھم لونچہِ یتہِ کا￿تیاہ مژر وَن
ترجمہ: (اے شاہبازؔ! میں خود اپنے آپ کی تلاش میں ہوں۔ یہاں کتنے آرزوئے شوقِ ہیں جو میرے دل کے دامن کو کھینچے چلے جارہے ہیں)۔
٭٭٭٭٭