شامی باغی ادلب میں ترکی سے کریں گے تعاون

بیروت//ترکی کے اتحادی شامی باغیوں نے کہا ہے کہ وہ ادلب میں انقرہ کی سفارتی کوششوں کی حمایت کریں گے لیکن وہ اپنے ہتھیار یا علاقے حوالہ نہیں کریں گے ۔ترکی کی حمایت یافتہ باغی گروپ 'دی نیشنل فرنٹ فار لبریشن 'نے ہفتہ کو اعلان کیا-''جنگ کی آفات سے شہریوں کو بچانے کے ترکی کے تعاون کی کوششوں کو کامیاب بنانے میں ہمارا مکمل تعاون رہے گا''۔ لبریشن نے کہا''ہماری انگلی ٹریگر پر رہے گی اور ہم اپنے ہتھیار یا ہماری زمین یا بغاوت کو نہیں چھوڑیں گے ''۔لبریشن نے ایک بیان میں کہا''ہم روسیوں، حکومت (شامی) اور ایرانیوں کی جانب سے کسی بھی دھوکہ کے لئے محتاط رہتے ہیں۔ خاص طور پر ان لوگوں کی جانب سے بیان جاری کرنے کے بعد جس میں اس معاہدے کو عارضی ہونے کے اشارے ہوسکتے ہیں''۔قابل غور ہے کہ ترکی اور روس نے پیر کو ایک معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق شمال مغربی شام میں حکومت اور باغی جنگجوؤں کے درمیان ایک غیر فوجی زون بنایا جائے گا. اس سے یہ علاقہ ایک بڑی جارحانہ کارروائی سے بچ جائے گا جس کے لئے حکومت نواز فورسز کو منظم کیا جا رہا تھا۔معاہدے کے تحت 'بنیاد پرست' باغیوں کو 15 اکتوبر تک زون سے ہٹ جائیں گے ۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ علاقے 15 سے 20 کلو میٹر گہراہو گا اور باغی و سرکاری جنگجوؤں کے درمیان رابطہ لائن کے ساتھ تقسیم کرے گا۔یو این آئی