شالیمار کی بحالی پرپہلے مرحلے میں 9.5کروڑ صرف ہونگے

سرینگر//کمشنر سیکریٹری پھولبانی ، باغات اور پارکس شیخ فیاض نے مشہور مغل باغات شالیمار باغ کا دورہ کیا تاکہ باغ کے تحفظ اور بحالی کے مجوزہ منصوبے کا جائزہ لیا جاسکے۔ کمشنر سیکرٹری نے افسران کی ایک میٹنگ طلب کی جس میں ڈائریکٹر فلوری کلچر کشمیر ، ڈپٹی ڈائریکٹر سینٹرل محکمہ فلوری کلچر کشمیر ، ڈپٹی ڈائریکٹر آرکائیوز ، آرکیالوجی اینڈ میوزیم ، ایگزیکٹیو اِنجینئر ، ڈی او ایف کے کے ساتھ اے اِی اِی ،، فلوری کلچر آفیسر مغل گارڈنز ، اسسٹنٹ فلوری کلچر آفیسر مغل باغات شالیمار ،ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ ڈی او ایف کے  کے نمائندوں نے شرکت کی۔اِس کے علاوہ جے ایس ڈبلیو فائونڈیشن کے نمائندے ابھانارائن لامبا کننلٹنٹ جے ایس ڈبلیو فائونڈیشن ، سنجے دھر آر ٹ کنزرویشن ماہر جے ایس ڈبلیو فائونڈیشن مقرر کئے گئے ہیں۔فلوری کلچر ڈیپارٹمنٹ نے جے ایس ڈبلیو فائوندیشن کے ساتھ شالیمار اور نشاط گارڈن کی بحالی کے ترقیاتی منصوبے کے لئے مفاہمت نامے پر دستخط کئے ہیں۔کمشنر سیکرٹری نے جے ایس ڈبلیو فاؤنڈیشن پر زور دیا کہ وہ ٹائم لائنز پر سختی سے عمل کریں اور جلد از جلد پروجیکٹ پر کام شروع کریں۔جے ایس ڈبلیو فائونڈیشن سی ایس آر کے حصے کے طور پر مغل باغ شالیمار کی بحالی کے کاموں کے لئے پہلے مرحلے میں 9.5 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے ۔ جے ایس ڈبلیو فائونڈیشن کے نمائندوں نے میٹنگ کو اِس سکیم کے بارے میں جانکاری دی جو یاد گاروں کی بحالی اور عمارت کے حصے میں اَپنائی جائے گی۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ باغ میں پہلے پویلین جسے گلابی پویلین کے نام سے جانا جاتا ہے کے آرٹ کے تحفظ کا کام شروع ہوچکا ہے۔میٹنگ میں باغ میں کنزرویشن لیبارٹری کے قیام اور اَپنانے کے طریقوں اور طریقہ کار پر غور کیا گیا۔اِس کے علاوہ اُنہوں نے گارڈن میں موجود یاد گاروں پر بھی تبادلہ خیال کیا جس میں بلیک پویلین ، نور محل اور میڈ کوارٹرز شامل ہیں اور ان کی بحالی اور تحفظ کے لئے طریقہ کار اِختیار کیا جائے گا۔میٹنگ کو بتایا گیا کہ گارڈن کے یاد گار حصے میں تحفظ ، مرکزی وستا کی بحالی ، ایلومنیشن ، فوارے ، واٹر چینلوں ، گارڈن کی میومیٹری میں اِصلاحات ، بائونڈری وال اور واچ ٹاور ز بھی شامل ہیں۔کنسلنٹنٹ جے ایس ڈبلیو فائونڈیشن ابھار ائن لامبا اور ڈپٹی ڈائریکٹر آرکائیوز نے میٹنگ کو طریقہ کار اور تکنیکوں کے بارے میں بتایا جو یاد گاروں کی بحالی اور تحفظ کے دوران اَپنایا جائے گا۔ڈائریکٹر فلوری کلچر کشمیر نے باغ کے اندر پلانٹ کنزرویٹری کے قیام کے بارے میں بتایا جہاں مغل دور کے پودے جیسا کہ کنزرویشن پلان میں شناخت اور اِکٹھا کیا گیا ہے جو ایک مدر سٹاک کے طورپر کام کریں گے اور ان کی طرف سے فراہم کردہ مماثل پودوں کی سکیموں کے مطابق بڑھایا اور پودے لگائے جائیں گے ۔