شاعرِ کشمیر کی69ویں برسی پر کلچرل اکیڈیمی میں تقریب

سرینگر// کلچرل اکیڈیمی اور مہجور فائونڈیشن سرینگر نے شاعرِ کشمیر پیرزادہ غلام احمد مہجور کو69ویں برسی پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔اس دوران تقریب میں صحافی اور سماجی کارکن مشتاق شمیم کی تصنیف’’ صحافت‘‘کی رسمِ رونمائی بھی انجام دی گئی۔ اکیڈیمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجزاور مہجور فائونڈیشن کے اشتراک سے اکیڈیمی کے سمینار ہال میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں مقررین نے شاعرِ کشمیر کی زندگی اور ادبی کارناموں کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی ۔ تقریب کی صدارت پروفیسر اسلم نے کی جبکہ سلام الدین بجاڑ، عابد احمد(ایڈیٹر انگریزی کلچرل اکیڈیمی اور ڈاکٹر حسرت حسین بھی ایوانِ صدارت میں موجود تھے۔استقبالی تقریر میں مہجور فائونڈیشن کے نائب صدر پروفیسر اسماعیل آشنا نے شاعرِ کشمیر کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ مہجور کے کارناموں پر ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریب میں پروفیسر فاروق فیاض نے ’’ جوش اور مہجور کا تقابلی مطالعہ‘‘کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا جسے حاضرین نے کافی سراہا۔پروفیسر اسلم نے تقریب کے انعقاد کے لئے منتظمین کو مبارکباد پیش کی جنہوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود اس تقریب کے انعقاد کو ممکن بنایا۔ تقریب میں سلام الدین بجاڑ،مجید مسرور،ڈاکٹر حسرت حسین ،عابد احمد،غلام نبی حلیم نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ تقریب میں صحافی اور سماجی کارکن مشتاق شمیم کی تصنیف’’ صحافت‘‘کی رسمِ رونمائی بھی انجام دی گئی۔ تقریب میں اور لوگوں کے علاوہ مشتاق بالا، نور الدین ہوش، جی این شاکر، سیدمسعود شاداب،منظور یوسف، یوسف صمیم ،مُصور معراج، دلبر وانی گامی، یوسف سلیم، دلشاد مصطفی، عاشق مشتاق، قوام الدین شلوتی، ڈاکٹر گلزار احمد راتھر، ڈاکٹر شبنم رفیق، مقبول ساجد،مجید مسرور، ڈاکٹر حسرت حسین موجود تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض معروف براڈکاسٹر اشفاق لون نے انجام دئے جبکہ تحریکِ شکرانہ فاونڈیشن کے سرپرست پیرزادہ ابدال مہجور نے پیش کی۔اس سے قبل تقریب کی ابتداء کلامِ مہجور سے کی گئی جسے معروف لوک فنکار عبدالغفار ڈار کانہامی اور اُن کے ساتھیوں نے پیش کیا۔