! شادی بیاہ کی مجلسیںاور غیر شرعی رسوم معاشرت

حمیراعلیم

کہنے کو ہم اسلامی مسلمان ،ہیں لیکن ہمارے روزمرہ کے معمولات، طرز زندگی، خوشی اور غم منانے کے طریقے اور رسوم و رواج ،ہمارے دین سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں اور اسلام سے کوسوں دور ہیں۔ شاید اس کی بنیادی وجہ ہماری اپنے مذہب سے ناآشنائی ہے۔

آئیے ذرا جائزہ لیتے ہیں کہ ہم کن غیر شرعی رسوم کی ادائیگی میں اپنے آپ کو خوار کئے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے شادی کی رسوم کو دیکھتے ہیں۔اسلام نے قرآن میں شادی کو نکاح کہا ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ ولی، دو گواہ اور دلہا دلہن ہوں۔مہر یا کوئی اور شرط ہو تو مقرر کیے جائیں اور دلہا دلہن کو لے کر گھر جائے، جہاں حسب استطاعت ولیمہ کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق صرف دلہا یا اپنے چند بزرگوں، دوست احباب یا اہل خانہ کے ساتھ دلہن کے گھر جائے اور نکاح کر لیا جائے۔حضرت خدیجہؓ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح بعثت سے قبل ہوا ،چنانچہ اس نکاح میں چند رشتے دار آپ کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کے گھر گئے تھے۔ بعثت کے بعد حضرت زینب ؓ اورحضرت عائشہؓ کے نکاح میں صرف آپ ؐدلہن کے گھر گئے اور انہیں رخصت کرواکر لائے۔ آپؐ نے حسب استطاعت ولیمے میں اونٹ پکا کر بھی دعوت کی اور پنیر کھجور کھلا کر بھی۔نہ قرآن میں اور نہ ہی حدیث میں کہیں بڑی تعداد میں بارات لے جانے کا ذکر ہے نہ ہی جہیز کا،یہ تو تھا اسلامی نکاح۔جس پر آج بھی بہت سے لوگ عمل پیرا ہیں۔مسجد میں یا کسی اسلامی ادارے میں نکاح کیا جاتا ہے اور رخصتی کروا کر دلہن کو گھر لے جاتے ہیں، ولیمہ کر لیا جاتا ہے۔یعنی اسلامی شادی میں صرف نکاح، ولی، گواہ، مہر اور ولیمہ کی رسوم ہیں۔ جب کہ ہمارے ہاں کی شادی جو چند سال قبل تک مہندی، ڈھولکی، مایوں، بارات اور ولیمے تک محدود تھی۔اب ون نی پرپوزل، منگنی، شادی کے مہنگے کارڈز، ہین اینڈ اسٹیج پارٹی، برائڈل شاور، بیچلرز پارٹی، قوالی نائٹ، ڈھولکی، مایوں، مہندی، شیندی، ڈانس پارٹی، گیم نائٹ، بارات ، چاول یا اناج پھینکنے، پالکی یا بگھی میں ہال میں داخلے، ویڈنگ کیک کاٹنے، کچھ ایلیٹ کلاس ویڈنگز میں ویڈنگ ٹوسٹ، فرسٹ ڈانس، والد یا بھائیوں کا دلہن کو دلہا کے حوالے کرنا، قرآن کے سائے میں رخصت کرنا، جوتا چھپائی ، دودھ پلائی، رستہ روکنا، اور دیگر رسوم ،جہیز کی نمائش،ولیمہ، چوتھی کی رسم، مکلاوہ اور کھیر پکائی، ولیمے والے دن دلہن کے خاندان کا دلہا کے گھر ناشتہ لے جانا، دلہا کی گاڑی، ہال، کمرے کوتازہ پھولوں سے سجانا، بیلیں کروانا اب تو چند نو دولتیے موبائلز، قیمتی گھڑیاں اور ڈالرز بھی بیلیوں میں اُڑاتے ہیں، پیسوں والے ہار پہنانا، ڈانسرز کو بلانا( معذرت کے ساتھ پہلے یہ کام پروفیشنل خواتین و حضرات کرتے تھے، اب ہم خود کفیل ہو گئے ہیں اور اپنے خاندان کی خواتین کے ساتھ خود ہی محفل سجا لیتے ہیں اور ان پروفیشنلز سے بڑھ کر رنگ جماتے ہیں) ہیلی کاپٹر یا مہنگی ترین گاڑی میں رخصتی، ہنی مون پر یورپ کے ٹور، سلامی، برتن( جسے نیوندرا بھی کہا جاتا ہے) کئی کورس میلز،پر مشتمل ہوتی ہے۔
اگر ان کی تاریخ دیکھی جائے تو ساری رسوم مغربی عیسائی اور مشرقی ہندو شادی والی ہیںاور غیر ضروری بھی۔ میں ان کے بارے میں تفصیل نہیں لکھ رہی کہ آرٹیکل خاصا طویل ہو جائے گا ۔آپ وکیپیڈیا پر ان کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں ۔ فرض کریں ان سب پر نہایت قلیل رقم بھی خرچ کی جائے تو لاکھوں کا بل بنتا ہے۔مخیر حضرات تو اربوں خرچ کر کے اپنی خوشی پوری کرتے ہیں یہ الگ بات کہ چند کیسیز میں کچھ دن یا ماہ بعد یہ خرچ بیکار چلا جاتا ہے اور طلاق ہو جاتی ہے۔

اصل مسئلہ تو ان سفید پوشوں یا غریب لوگوں کو ہوتا ہے جو ان شاہانہ شادیوں کے احوال دیکھ کر دوسرے کا منہ لال دیکھ کر اپنے منہ پر تھپڑ مارنے کے موافق شادی کو اپنے لیے عذاب بنا لیتے ہیں۔ اپنی استطاعت سے بڑھ کر ان رسوم پر پیسہ خرچ کرتے ہیں اور جوازبھی ۔’’بچوں کی خوشی ہے شادی تو ایک ہی بار ہوتی ہے، کیا کریں لوگوں کو بھی تو منہ دکھانا ہے، اگر یہ سب نہ کیا تو رشتے دار کیا کہیں گے، اگر یہ سب نہ کیا تو بچی کی سسرال میں عزت نہیں ہو گی وغیرہ‘‘، جیسے بودے بہانے ہوتے ہیں۔

یاد رکھیے، کسی بھی غیر شرعی فعل میں نہ سکون ہے نہ آسانی۔بیٹی یا بیٹا بیاہنا والدین کا فرض ہے ،انہیں گھر بنا کر دینا، جہیز سے بھرنا، لاکھوں کی سلامیاں اور فضول رسوم نہیں۔جب ہم ان رسوم کو فرض بنا لیتے ہیں تو یہ لسی میں پانی ڈال کر اسے لمبا کرنے کی طرح بڑھتی ہی جاتی ہیںاور ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، خصوصا ًبچی کے والدین کے لیے۔کیونکہ بعض خاندانوں میں بچے کی پیدائش سے لے کر بیٹی کے مرنے تک ہزاروں رسمیں ادا کی جاتی ہیں، انہیں ہم اگلی قسط میں دیکھیں گے۔

یقین مانئے، شادی اس صورت میں بھی ہو جاتی ہے جب لڑکا اپنے والدین بہن بھائیوں اور چند احباب کے ساتھ مسجد جا کر نکاح کر کے دلہن کو گھر لے آئے اور ولیمہ کے نام پر چائے کا ایک کپ یا شربت کا ایک گلاس اہل خانہ، دوستوں یا اہل محلہ کو پلا دے۔کیونکہ اگر کوئی ہزاروں بندوں کو دعوت دے کر بیس کھانوں کا مینیو بھی سرو کرے گا تب بھی کوئی خوش نہیں ہوتا ،کسی نہ کسی کو تکلیف ضرور ہوتی ہے کہ کھانا اچھا نہیں تھا۔

ان سب رسوم کی ادائیگی پر بہت سے احکام الہٰی کی نافرمانی بھی ہوتی ہے۔جیسے کہ مخلوط محافل، ڈانس، میوزک، بے پردگی، اسراف اور کھانے کا ضیاع۔خواتین ایک جوڑے کو کسی دوسری تقریب میں پہننا گناہ سمجھتی ہیں کہ سب نے دیکھا ہے ،مووی میں آ چکا ہے۔بیوٹی سیلونز سے میک اَپ، جوتوں، جیولری کام والے کپڑوں پر لاکھوں کا خرچہ کیا جاتا ہے، محض چند گھنٹوں کے لیے اور پھر یہ سب بیکار پیٹیوں بیگز میں بند پڑا رہتا ہے۔

کوئی خاندان پردہ نہ بھی کرتا ہو توعموما ًاپنی خواتین کو کزنز، دوستوں یا اجنبی لوگوں کے سامنے نہیں لاتے۔مگر شادی یا دیگر تقریبات میں وہی خواتین سج دھج کر مووی میکرز اور آج کل تو ہر ایک کے ہاتھ میں کیمرہ ہے ، اجنبیوں کے سامنے ایسے ادائیں دکھا رہی ہوتی ہیں اور ناچ رہی ہوتی ہیں کہ ریڈ لائٹ ایریا کی پروفیشنلز اور فلموں کی ایکٹریسز کو بھی مات دے جاتی ہیں( الفاظ ذرا سخت ہیں مگر حقیقت یہی ہے)ان کے مضر اثرات کیاہیں، ہم سب ان سے واقف ہیں۔

اس لیے اپنی زندگی کو آسان بنائیے۔نکاح اور ولیمہ کو بمطابق قرآن و سنت بنائیے بجائے قرآن سر پر رکھ کر رخصتی کرنے کے اسے کھول کر پڑھیے اور اس کے مطابق شادی کیجئے۔مرد یہ عہد کر لیں کہ جہیز نہیں لیں گے اور مسجد میں نکاح کریں گے۔جس جوڑے میں دلہن گھر لائی جائے وہ بھی شوہر کی کمائی سے اور سادہ ہو گا۔اور خواتین عہد کر لیں کہ بغیر لمبی چوڑی بری، زیورات اور دیگر سہولیات کے نکاح پر آمادہ ہو گی۔شوہر کی استطاعت کے مطابق جیب خرچ اور مہر لکھوائیں گی تو شادی کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں غیر شرعی رسوم سے بچنے اور دین پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔( جاری ہے)