سی ڈی اسپتال بڈگام منتقل کرنیکا فیصلہ

 سرینگر //ریاستی سرکار نے سرینگر کے ڈلگیٹ علاقے میں قائم سی ڈی اسپتال کو سرینگر سے بڈگام منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلے میں اراضی کے حصول کیلئے نشاندہی ہورہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سی ڈی اسپتال میں جگہ کی کمی کی وجہ سے نئے اسپتال کی تعمیر ممکن نہیں ہوپار ہی تھی جس کے بعد میڈیکل کالج حکام نے اسپتال کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی سفارش ریاستی سرکار کو بھیج دی جو حکومت نے منظور کرلی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال کی تعمیر کیلئے اراضی کے حصول کیلئے ابتدائی کام شروع ہوچکا ہے۔پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈاکٹر سامیہ رشید نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا ’’انتظامیہ سی ڈی اسپتال میں کارپارکنگ میں بلڈنگ تعمیر کررہے تھے مگر کارپارکنگ کی جگہ بلڈنگ تعمیر نہیں کی جاسکتی‘‘۔انہوں نے کہا کہ اسپتال کے احاطے میں بلڈنگ تعمیر کی جائے تو مریضوں کا کیا ہوگا ۔ڈاکٹر سامیہ رشید نے کہا ’’سی ڈی اسپتال کی پرانی بلڈنگ تاریخی اہمیت کی حامل ہے اور اسلئے بلڈنگ کو منہدم نہیں کیا جاسکتا مگر ہم نے ریاستی حکومت سے اسپتال کو بڈگام منتقل کرنے کیلئے کہا ہے اور اس سلسلے میں سی ڈی اسپتال کیلئے بڈگام میں زمین کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے کہا ’’ ریاستی سرکار کی بڈگام کے ڈپٹی کمشنر کیساتھ بات چیت چل رہی ہے اور آئندہ چند دنوں کے اندر اندر زمین کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ دیگر اسپتالوں کو خوبصورت اور جازب نظر بنانے کیلئے ہم نے حکومت سے رقومات طلب کئے تھے مگر اب تک کچھ بھی نہیں ملا ہے جسکی وجہ سے اسپتالوں کی دیکھ ریکھ سست رفتاری کی شکار ہے۔ ڈاکٹر سامیہ رشید نے کہا کہ شعبہ صحت میں کسی بھی کام کیلئے ہمیں رقومات سال کے آخر میں ملتی ہیں جسکی وجہ سے ہم وقت پر کام بھی نہیں کر پاتے ۔ واضح رہے کہ سرینگر میں امراض چھاتی کی بلڈنگ کو فائر اینڈ ایمر جنسی محکمہ نے غیر موزون قرار دیکر اسپتال میں کسی بھی وقت آگ لگنے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے جو انتہائی خطر ناک ہوگا کیونکہ اسپتال میں آگ بجھانے کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر بڈگام ہارون ملک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 3ماہ پہلے انہیں پرنسپل میڈیکل کالج سرینگر کی جانب سے ایک درخواست موسول ہوئی ہے جس میں بمنہ کے نزدیک سرکاری اراضی دینے کی بات کہی گئی ہے۔انکا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر انہوں نے دو مقامات کی نشاندہی کی لیکن بعد میں بمنہ کے نزدیک ریشی پورہ بڈگام میں 60کنال سرکاری اراضی کا انتخاب ہوا اور اسکی نشاندہی بھی کی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ابھی مذکورہ اراضی کے کاغذات کی جانچ پڑتال ہورہی ہے جس کے بعد اراضی کو راستی سرکار کی تحویل میں دیا جائیگا۔انہوں نے کچھ مذکورہ اراضی تک پہنچنے کیلئے روڑ بنانے کی ضرورت ہے جس کے بعد ہی یہاں تعمیراتی کام شروع کیا  جاسکتا ہے۔