سی ٹی اسکین سے کووِڈ- 19کے زیادہ معاملوں کی نشاندہی ہوتی ہے:ڈاک

 سرینگر//گلے اور ناک کے پتلے مادہ کی جانچ سے زیادہ چھاتی کا سی ٹی اسکین کرنے سے مزید کووِڈ- 19معاملات کاپتہ چل سکتا ہے۔ اس بات کا انکشاف ڈاکٹرس ایسوسی ایشن آف کشمیرکے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ ناک اور گلے کے پتلے مادہ کی جانچ سے زیادہ چھاتی کاسی ٹی اسکین کرنے سے کوروناوائرس کی بہتر تشخیص ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آر ٹی پی سی آر جو گلے اور ناک کے پتلے مادہ کوکوروناوائرس کی جانچ کیلئے استعمال کرتا ہے وہ60سے70فیصد تک درست ثابت ہوتا ہے جبکہ 30فیصدمثبت کورونا معاملے اس جانچ میں چھوٹ سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک اورٹیسٹ ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ ہے جو50فیصد تک درست ثابت ہوتا ہے اوراس جانچ سے50فیصد کورونامثبت معاملے چھوٹ سکتے ہیں ۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سی ٹی اسکین کی درستگی86سے98فیصد تک ہے اوراس سے غلط منفی معاملات کی شرح بہت کم ہے ۔انہوں نے کہا ریڈیالوجی کے معروف جریدے میں شائع تحقیق کے مطابق 1014مریضوں کی سی ٹی اسکین سے معلوم ہواکہ88فیصد مریضوں کو کووِڈ- 19کا مرض ہے جبکہ آرٹی پی سی آر ٹیسٹ سے صرف59فیصد مریضوں میں کورونا کی تصدیق ہوئی تھی۔انہوں نے کہا منفی ٹیسٹ دکھانے والے 75فیصد مریضوں میں سی ٹی نے کورونا کاپتہ لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سی ٹی سے نہ صرف کوروناکی بہتر طور تشخیص ہوسکتی ہے بلکہ یہ مرض کی شدت کابھی صحیح پتہ دیتا ہے اور اس طرح یہ علاج کیلئے بہتر طوررہنمائی کرتا ہے اور انسانی جانوں کابچاتا ہے۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں ہمیں گلے اور ناک کے پتلے مادے کی جانچ سے متعدد مریض منفی ظاہر ہوتے ہیں جبکہ ان کاسی ٹی اسکین ان میں کورونا کی نشاندہی کرتا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ متعدد کورونا مریضوں کا پتہ ہی نہیں چلتا ہے کیوں کہ صرف آر ٹی پی سی آر مثبت معاملوں کو ہی رپورٹ کیاجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سی ٹی اسکین سے مریضوں کی کثیر تعداد مثبت ظاہر ہوتی ہے لیکن ان کی رپورٹ ہی نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ ناک اور گلے کے پتلے مادے کی جانچ سے جو مثبت معاملے منفی ظاہر ہوتے ہیں ،انہیں علیحدہ نہیں کیا جاتا ہے اور آبادی میں گھل مل رہے ہوتے ہیں اور اس طرح وہ اس بیماری کو پھیلانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں ۔