سی بی آئی کے بعدآر بی آئی !

 اب یہ کتنی بار لکھا جائے کہ فلاں کام ( غیر جمہوری کام پڑھئے ) پہلی بار مودی حکومت میں انجام پایا ہے۔اگر روایات کو توڑنے میں اتنی ہی دلچسپی ہے تو’’سبری مالا‘‘ پر دئیے گئے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو بھی مان لینا چاہئے۔ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ جو روایت ہمارے حق میں نہ ہو اْسے نہ مانیںاور یہ حق امیت شاہ کو کس نے دے دیا ہے کہ وہ سرِعام کہتے پھریں کہ عدالتوں کو ایسے فیصلے سنانے سے احتراز کرنا چاہئے جن کا نفاذ ممکن نہ ہو؟اس کا مطلب ہے کہ وہ بالراست عدالت کی خود مختاری پر حملہ کر رہے ہیں اور پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ عدالت بی جے پی اور آر ایس ایس سے پوچھ کر اپنے فیصلے صادر کرے۔ان کے اس بیان پر ابھی تک کوئی عرضی ملک کے کسی بھی عدالت میں دائر نہیں کی گئی ہے۔یہ بہت افسوس کا مقام ہے۔اگر اسی طرح کا بیان اپوزیشن کا کوئی لیڈر دیا ہوتا جو کیسریا مفاد کے برعکس ہوتا تو اب تک نہ جانے کتنی عرضداشتیں بی جے پی ، آرایس ایس اور اس کی ذیلی طفیلی تنظیموں کی طرف سے فائل کر دئے گئے ہوتے ۔امیت شا کے اس بیان سے کھلے عام عدالت کی توہین ہوتی ہے ۔بھلا بتائیں کہ ملک میں جو گھمبیر ماحول پایا جاتاہے یا جس طرح کا ماحول بنا دیا جارہا ہے ،عدالتیں خاص طور پر عدالت عظمیٰ اپنے طور پر تو کچھ بھی نہیں کر سکتی کیونکہ اس پر جانب داری کا الزام لگ جائے گا۔ ویسے بھی دبی زبان میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ موجودہ حکومت نے رنجن گوگوئی کو با دل نخواستہ اس عہدے پر قبول کیا ہے۔
سابق چیف جسٹس دیپک مشرا کو موجودہ حکومت نے کافی سراہا لیکن موجودہ چیف جسٹس کے دور میں سرکار کی جانب سے اب تک عدالت کو کئی بار انتباہ مل چکا ہے ۔لگتا ہے کہ ارجیت پٹیل بھی کچھ نیک کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ تاریخ میں ان کے نام کو بھی اچھی طرح سے یاد کیا جا سکے۔ یہی سبب ہے کہ ملک کے باوقار اقتصادی و معاشی ادارے آر بی آئی یعنی ریزرو بینک آف انڈیا میں بھی طوفان مچا ہوا ہے اور حکومت یعنی مودی جی کی بے جا مداخلت سرِ عام ہو گئی ہے۔ یہاں بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ آر بی آئی کی 84 سالہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا جو مودی حکومت میں ہونے والا ہے یعنی حکومت آر بی آئی کی دفعہ 7 کا استعمال کرنے والی ہے جس کی رُو سے وہ آر بی آئی اور اس کے ڈائریکٹر ارجیت پٹیل کو مجبور کر دے گی کہ حکومت کے حساب سے وہ پالیسی بنائیں تاکہ فائنانشیل نان بینکنگ اداروں کو من مانی قرضہ جات مہیا کر سکے اور ساتھ ہی شرح سود حکومت اپنی سہولت کے حساب سے طے کرے.۔ارجیت پٹیل کو پتہ ہے کہ ایک بار وہ استعمال ہو چکے ہیں اور ان کی ناک کے نیچے سے نوٹ بندی کی گئی ہے۔دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ نوٹ بندی مہلک ثابت ہوئی ہے اور سینکڑوں جانوں کے اتلاف کے ساتھ ملک کے لاکھوں کروڑ روپے برباد اور بیکار ہوئے ہیں۔ پتہ نہیں کون سا دباؤ تھا کہ ارجیت پٹیل نوٹ بندی میں موصول ہوئے نوٹوں کو گننے میں 2 برس لگا دیں ؟
 اب شاید وہ پھر سے بدنام ہونا نہیں چاہتے ہیں۔ اگرچہ سابق گورنر رگھورام راجن کی طرح وہ بولنے میں ماہر نہیں ہیں اور میڈیا سے دور ہی رہتے ہیں، اسی لئے انہوں نے اپنے نائب وِرال آچاریہ کو آگے کیا اور وِرال نے ایک اقتصادی تقریب میں وہ سب کچھ اْگل دیا جس کی کم از کم مودی اور ارون جیٹلی توقع نہیں کر سکتے تھے۔ ایسا لگتا ہے گویا دبی ہوئی چنگاری اچانک بھڑک اٹھی ہے.۔بہت ممکن ہے کہ ارجیت پٹیل کہیں استعفیٰ نہ دے دیں۔مودی تو نکال نہیں سکتے کیونکہ انہوں نے ہی لایا ہے البتہ اپنے اسپیشل پاور کا استعمال کرتے ہوئے وہ دفعہ 7 کا استعمال کر بیٹھیں اور گورنر کو مجبور کریں کہ وہ وہی کام کریں جس کی نظیر نہیں ملتی۔ مودی جی کا سلوگن کتنا صحیح لگتا ہے کہ جو کام کانگریس نے 60 برسوں میں نہیں کیا، انہوں نے 60 مہینوں سے بھی کم وقت میں کر دکھایا کیونکہ چدمبرم جیسے ماہر وزیر خزانہ نے بھی اس دفعہ کا استعمال نہیں کیا اور آپسی سمجھ بوجھ سے آر بی آئی کے معاملات طے کرتے گئے.،جب کہ دیکھا جائے تو چدمبرم اور رگھورام راجن دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر ایک کامیاب ماہرین اقتصادیات ہیں۔ ایسے میں تصادم کی نوبت طے تھی لیکن اس کی نوبت نہیں آئی ۔
 راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کر کے رافیل سودے سے متعلق جو نئے راز افشا ء کئے ہیں، ان کے مطابق جیٹلی کو بھی پتہ ہے کہ سودا کتنے میں ہوا ہے۔ اگر وہ فائنانس منسٹر ہیں تب؟ وہ یوں کہ فرانس کی جس کمپنی ڈیسالٹ سے لین دین ہوا ہے، اْس نے اپنے سالانہ ریٹرن میں رافیل کی قیمت کو دکھایا ہے۔ اس ریٹرن کو راہل نے کبھی بھی میڈیا کو سونپنے کی بات کہی ہے۔ پتہ نہیں کہ انل امبانی کی کمپنی نے ریٹرن فائل کی ہے یا نہیں یا کبھی نہیں کرے گی۔ راہل نے یہ بھی کہا ہے کہ جس بنیاد پر انل امبانی کی کمپنی سے ڈیسالٹ نے شراکت داری کی ہے کہ اس کے پاس زمین ہے وہ زمین بھی ڈیسالٹ کے روپوں سے خریدی گئی ہے کیونکہ ایک خسارے والی کمپنی جس کی مالیت صرف 8 ؍لاکھ روپے ہوں، اس میں کیونکر کوئی فائدہ دینے والی کمپنی ڈیسالٹ 284روڑ روپے ٹرانسفر کرے گی؟ ظاہر ہے کہ رشوت کی یہ پہلی قسط ہے اور اسی سے زمینیں خریدی گئیں۔ اسی لئے ڈیسالٹ کا سی ای او جھوٹ بول رہا ہے کہ امبانی کی کمپنی کے پاس زمین ہونے کی بنیاد پر اسے پارٹنر رکھا گیا، جب کہ زمین بعد میں وجود میں آتی ہے۔ راہل کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسی لئے سی بی آئی چیف آلوک ورما کو راتوں رات ہٹایا گیا کیونکہ مودی کو ڈر تھا کہ کہیں ان کے خلاف کہیں ایف آئی آر نہ درج ہو جائے۔گجرات میں قتل عام پر آج تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکا کیونکہ ساری مشنری کو اپنے قابو میں کر لیا گیا تھا اور وہی پیٹرن مرکز میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ بہر حال ایسا لگتا ہے کہ پاپ کا گھڑا اب بھر چکا ہے اور بکرے کی ماں اب زیادہ دنوں تک خیر نہیں منا پائے گی۔
سی بی آئی ڈائریکٹر کی برخواستگی کے دوسرے دن ہی ان کے بنگلے پر آئی بی کے 4 ؍آفیسر جاسوسی کرتے ہوئے پکڑے گئے جنہیںآلوک ورما کے اسپیشل سیکوریٹی آفیسروں نے انہیں گھسیٹتے ہوئے پولیس اسٹیشن لے کر گئے۔ وہ تماشہ دن بھر چینل والوں نے دکھایا، وہ کس کے کہنے سے وہاں گئے اور جاسوسی کیوں کی؟ آئی بی سربراہ نے ایک آسان سا جواب دیا کہ یہ معمول کا واقعہ ہے اور ہمارے آفیسران ایسا کرتے رہتے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ چند سال قبل گجرات میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک لڑکی کی جاسوسی کی گئی تھی کہ کس طرح دونوں ( یعنی امیت شاہ بھی) نے اس کی جاسوسی کی تھی۔ بہرحال جب کسی کی جاسوسی کروائی جاتی ہے تو اس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے یا کسی کی داڑھی میں تنکا ہوتا ہے۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آئی بی یعنی انٹیلی جینس بیورو بھی نہیں بچا۔ وہاں بھی مداخلت جاری ہے۔ اس کے علاوہ سری لنکا کے بحران کے لئے وہ لوگ’’ را ‘‘کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔اس میں بھی مودی سرکار کی مداخلت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایک کر کے ہمارے پڑوسی دور ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے نیپال دور ہوا پھر مالدیپ، اس کے بعد سری لنکا اور پھر بھوٹان. پاکستان اور چین کی بات ہی فضول ہے۔ یہ سب مودی کے دورِ اقتدار میں ہوا ۔ ذرا برما یعنی میانمار سے دوستی ہے جو تین میں ہے نہ تیرہ میں اور جو دنیا بھر میں معتوب ہے۔یہ ہے مودی کی خارجہ پالیسی. خیر انہوں نے ملک کے تقریباً تمام جمہوری خود مختار اداروں کو مسخ کر دیا ہے۔
12 نومبر کوئی بہت دور نہیں ہے.۔جبراً چھٹی پر بھیجے گئے سی بی آئی ڈائریکٹر کے مقدمے کا فیصلہ آنے والا ہے۔ اگر ان کے حق میں آتا ہے تو سمجھئے ہمارے وزیر اعظم کام پر لگ جائیں گے اور ملک میں افرا تفری پھیل جائے گی، ممکن ہے کہ بی جے پی ایسا چاہتی بھی ہو!
 نوٹ :مضمون نگار ماہنامہ تحریرِ نو، نئی ممبئی کے مدیر ہیں  
رابطہ9833999883