سی بی آئی میں محکمہ مال کے عہدیداروں کیخلاف 2نئے کیس درج

سرینگر//مرکزی تحقیقاتی ایجنسی سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے 25ہزار کروڑ روپے کے روشنی اراضی مبینہ گھوٹالے سے متعلق محکمہ مال کے عہدیداروں اور دیگر افسراں کے خلاف  دو مزید ایف آئی آر درج کرلیے ہیں،جس کے نتیجے میں اب تک کیسوں کی مجموعی تعداد7 ہوگئی ہے۔تفتیشی ایجنسی نے یہ مقدمات جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کے تحت درج کئے۔سی بی آئی حکام کے مطابق  ان میں سے، ایک معاملے میں ، ایجنسی نے سجاد پرویز کے علاوہ محکمہ مال کے  نامعلوم  اہلکاروں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق ، اپریل 2007 میں روشنی ایکٹ کے تحت ایک بااختیار کمیٹی نے پرویز کو تجارتی زمرے کے تحت7کنال اور7 مرلہ ریاستی اراضی کے ملکیت کے حقوق 45 لاکھ روپے فی کنال دئیے تھے۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ویجی لنس کی تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ روشنی ایکٹ کے تحت پرویز قابض نہیں تھا اور اسے مالکانہ حقوق نہیں دیئے جاسکتے تھے۔ویجی لنس رپورٹ میں مزید کہا گیاوہ صرف’’پائور آف اٹاورنی کی وجہ سے اصل قابضوں اشوک شرما اور بپن شرما کا صرف ایک مجاز ایجنٹ تھا۔ ویجی لینس انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے ’’اس کے باوجود بااختیار کمیٹی نے اس کی ملکیت کی اجازت دی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایک زمینی رپورٹ اور سائٹ پلان نے واضح طور پر ظاہر کیا ہے کہ پٹے پر دی گئی زمین میں سے ایک حصہ  ربن ڈیولپمنٹ ایکٹ کا شکار ہوا ہے،تاہم’’اس حقیقت کو دھیان میں نہیں لیا گیا تھا۔‘‘سی بی آئی ایف آئی آر میں بتایا کہ بااختیار کمیٹی نے 28 اپریل 2007 کو اپنی میٹنگ میں اس معاملے کو تجارتی  زمرے کے تحت فیصلہ کیا۔ ’’تاہم ، بعد میں آنے والی کمیٹی نے مستحق کی شکایت پر عمل کرتے ہوئے اسی سال اگست میں اس کو رہائشی زمرے میں لایا‘‘،جبکہ اس نے فیلڈ عہدیداروں سے زمین کے استعمال کی نوعیت کا تعین نہیں کیا۔‘‘ملحقہ جائیدادوں کے معاملے میں ، بااختیار کمیٹی نے 65 لاکھ روپے فی کنال’ کی قیمت مقرر کی تھی، لہذا ، یہ الزام لگایا گیا ہے کہ پرویز کو تجارتی زمرے کے تحت  دی جانے والی اراضی سے سرکاری خزانے کو تقریبا 2کروڑ15لاکھ کروڑ روپے مل سکتے تھے ، بجائے اس کے کہ مستحق کے ذریعہ  ایک کروڑ17لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ رقم وصول کی جاسکے۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے’’اس طرح ، محکمہ مال کے عہدیداروں نے خزانے کو 97لاکھ 70ہزار  روپے کے قریب نقصان پہنچایا۔‘‘سی بی آئی نے نامعلوم سرکاری ملازمین اور دوسروں کے خلاف دوسری ایف آئی آر درج کی تھی جہاں سری نگر میں غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کے مالکانہ حق کے معاملات نمٹاتے وقت مناسب طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا تھا۔بہت سارے معاملات میں جہاں مجاز اتھارٹی نے وصولی کی شرحیں طے کی تھیں ، ان کو سرکاری خزانے میں نہیں جمع کیا گیا،جبکہ ایک خاص معاملے میں ، ملکیت 48 لاکھ روپے فی کنال کے حساب سے دی گئی تھی ، جبکہ اس وقت کا موجودہ مارکیٹ ریٹ 70لاکھ روپے تھا۔مارچ 2014 میں ، کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ سابق ریاست جموں و کشمیر کی اسمبلی میں رکھی گئی تھی اور اس میں بتایا گیا ہے کہ نجی مالکان کو 2007اور2013کے درمیان فروخت کی جانے والی اراضی جس کا ہدف سرکار نے 25ہزار448کروڑکروڑ روپے  مقرر کیا تھا،کے بجائے صرف 76 کروڑ کمانے میں کامیاب ہوگئی ہے،اور اس طرح روشنی ایکٹ کا مقصد ناکام ہوا۔کمپیٹولر اینڈ آڈیٹر جنرل(سی اے جی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اگرچہ ریاست نے کافی اراضی کھو دی ہے لیکن بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانا جو روشی ایکٹ کا بنیادی مقصد حاصل نہیں کیا جاسکا۔ریاست جموں وکشمیر اسٹیٹ لینڈز (قبضہ کنندگان کو ملکیت کے حقوق کی فراہمی) ایکٹ یا روشنی ایکٹ کو نومبر 2001 میں اس وقت کی ریاستی اسمبلی نے منظور کیا تھا اور اس کا اطلاق مارچ 2002 میں کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد سرکاری اراضی کو نجی مالکان کو فروخت کرنا تھا تاکہ پن بجلی منصوبوں کے لئے رقومات جمع ہوں۔اس ایکٹ میں 2005 اور 2007 میں دو ترامیم ہوئی۔ دسمبر 2018 میں ، اس وقت کے جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے متنازعہ ایکٹ کو منسوخ کردیا تھا۔