سی بی آئی بنام کولکتہ پولیس: لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی دن بھر کے لئے تک ملتوی

نئی دہلی// مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے غلط استعمال کے الزام پر راجیہ سبھا میں منگل کے روز ترنمول کانگریس سمیت متعدد اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے شدید ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی گئی۔وقفے کے بعد ایوان کی کارروائی شروع ہونے پر ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے صدر جمہوریہ کے خطاب پر بحث شروع کرنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کے بھوپندر یادو کا نام پکارا تو ترنمول کانگریس کے ڈیریک اوبرائن کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ انہوں نے نوٹس دیا ہے اور اس پر پہلے بحث ہونی چاہئے ۔ اس کے ساتھ ہی ترنمول کانگریس اور حزب اختلاف کے دیگر اراکین نعرے بازی کرتے ہوئے چیئرمین کے نشست کی جانب بڑھنے لگے ۔اس سے پہلے خزانہ کے وزیر مملکت پی رادھا کرشنن نے ایوان میں ذیلی مطالبات زر پیش کیے ۔ ہنگامے کو دیکھتے ہوئے مسٹر ہری ونش نے کہا کہ ضابطے کے مطابق ارکان کو صدر جمہوریہ کے خطاب پر بحث کرنی چاہئے ۔ پارلیمانی امور کے وزیر مملکت وجے گوئل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کے ذریعہ پوچھ گچھ کے معاملے کو واضح کر دیا ہے ، اس لئے اراکین کو صدر جمہوریہ پر بحث کرنی چاہئے ۔ تاہم، ہنگامہ کرنے والے ارکان پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا اور ڈپٹی چیئرمین نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس سے پہلے آج صبح چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے بھی اسی معاملے پر ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کی تھی۔ اس بیچ مغربی بنگال میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور کولکتہ پولیس کے درمیان تصادم کے معاملہ پر آج لوک سبھا میں مسلسل دوسرے دن ھنگامہ ہوا اور وقفہ سوالات ایک بار ملتوی ہونے کے بعد وقفہ صفر کے دوران ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ترنمول کانگریس کے ارکان نے مرکزی حکومت پر سی بی آئی کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ کر نعرے لگائے اور شور شرابہ کیا۔ وہیں، برسراقتدار پارٹی کے رکن نشی کانت دوبے نے مغربی بنگال کی ترنمول کانگریس حکومت کو برخاست کرکے وہاں صدر راج لگانے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے رکن بھی مختلف مسائل کو لے کر اسپیکر کی چیئر کے قریب آ گئے اور ھنگامہ کرنے لگے ۔وقفہ سوالات تقریباً 50 منٹ کے لئے ملتوی رہنے کے بعد دوپہر 12 بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی ترنمول کانگریس کے رکن نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے . وہ ‘سی بی آئی طوطاہے ’ اور ‘چوکیدار چور ہے ’ کے نعرے لگانے لگے ۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے شور شرابے کے درمیان ہی ضروری کاغذات ایوان میں رکھوائے ۔ اس دوران کانگریس کے کچھ اراکین بھی رافیل طیارے سودے میں مبینہ بدعنوانی پرکھنے کے لئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی مانگ کو لے کر ہاتھوں میں پوسٹر لیے نعرے لگاتے ہوئے صدر کی چیئر کے قریب پہنچ گئے ۔ ان پوسٹروں پر ‘ہمیں جے پی سی چاہئے ’ اور ‘سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے کے لئے وزیر اعظم معافی مانگیں’ لکھے تھے ۔ وہ ‘جے پی سی شروع کرو’ کے نعرے لگا رہے تھے ۔ضروری کاغذات ایوان میں رکھوانے کے بعد مسز مہاجن نے ھنگامہ کر نے والے ممبران سے اپنی اپنی سیٹ پر واپس جانے کی درخواست کی۔ وقفہ سوالات شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے اراکین سے کہا‘‘برائے مہربانی آپ اپنی نشست پر واپس جائیں’’۔ لیکن ارکان نے ان کی بات نہیں سنی اور شور شرابے کے درمیان ہی انہوں نے وقفہ صفر کی کارروائی شروع کر دی۔یو این آئی