سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت کا بدلہ لیاجائیگا:امت شاہ

جموں//بھارتیہ جنتاپارٹی کے قومی صدر امت شاہ نے کہاہے کہ وزیر اعظم نریندرمودی کی قیادت والی حکومت ملک بھر میں رہ رہے ہر ایک غیر قانونی مہاجر بشمول جموں میں روہنگیاکو باہر نکالنے کیلئے وعدہ بند ہے ۔بھگوتی نگر جموں میں پارٹی کے بوتھ سطح کے ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا’’اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کشمیر سے کنیاکماری تک غیر قانونی آبادکاروں کو ملک سے باہر نکالاجائے، ہماری حکومت آسام کی طرز پر این آر سی مشق شروع کرے گی ‘‘۔بھاجپا کے قومی صدر نے کانگریس صدر راہل گاندھی سے بھی جموں ، مغربی بنگال اور ملک کے دیگر علاقوں میں غیر قانونی روہنگیا مہاجرین پراپنا موقف واضح کرنے کو کہا ۔ان کاکہناتھا’’راہل گاندھی کو بھی جموں اور ملک کے دیگر علاقوں میں روہنگیا مہاجرین کی آبادکاری پر صاف موقف کے ساتھ سامنے آناچاہئے ، جموں کوئی دھرمشالہ نہیں ہے کہ جو بھی یہاں آئے اور مہاجر بن کر بس جائے، ہماری حکومت آسام ماڈل کو اپنائے گی اور کشمیر سے کنیاری کماری تک تمام غیر قانونی آبادکاروں کو نکال باہر کرے گی ‘‘۔امت شاہ نے کہاکہ ان کی حکومت نے سپریم کورٹ میں بھی یہ وضاحت کی تھی کہ روہنگیاکو ملک کے کسی بھی حصے میں نہیں رہنے دیاجائے گا۔انہوںنے کہاکہ بی جے پی کے نزدیک جموں وکشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے اور اسے کوئی بھی الگ نہیں کرسکتا۔ان کاکہناتھا’’اس سرزمین کی حفاظت کرتے ہوئے جن سنگھ کے بانی ڈاکٹر شیامہ پرساد مکھرجی نے اپنی جان تک دے دی لہٰذا ہماری پارٹی کے نزدیک جمو ں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور کوئی بھی اسے الگ نہیں کرسکتا‘‘۔سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت پر انہوں نے کہاکہ پاکستان یہ تاثر دینے کی کوشش کررہاہے کہ جموں و کشمیر میں امن و قانون کی صورتحال ٹھیک نہیں لیکن ہم اس بزدلانہ حملے میں اپنے سپاہیوں کی ہلاکت کا بدلہ لیں گے ۔بھاجپا صدر کاکہناتھا’’ہمارے جوانوں کو لڑائی کا موقعہ بھی نہیں دیاگیا، اگر پاکستانی حمایت یافتہ دہشت گرد انہیں لڑنے کا موقعہ دیتے تو ہمارے جوان ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتے لیکن میں اس سٹیج سے یہ یقین دلاتاہوں کہ ہمارے جوانوں کی قربانی ضائع نہیں جائے گی اور اس کا سختی سے بدلہ لیاجائے گا،وزیر اعظم مودی نے پلوامہ حملے کے بعد سیکورٹی فورسز کو کھلی چھوٹ دے دی ہے‘‘۔انہوںنے کہاکہ ان کی حکومت جنگجوئوں کے ساتھ سمجھوتے والی پالیسی اختیار نہیں کرسکتی۔امت شاہ کاکہناتھا’’سابق حکومتوں کے برعکس نریندر مودی کی قیادت والی حکومت ملی ٹینٹوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائے گی ،ہم نے عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کیاہے اورپڑوسی ملک کو دہشت گردی والا ملک قرار دینے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے ‘‘۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی واحد لیڈر ہیں جو پاکستان کو سخت جواب دے سکتے ہیں۔ان کاکہناتھا’’ملک کو سیکورٹی مسائل کا سامناہے ، صرف مودی ہی ملک کو سیکورٹی دے سکتے ہیں ،اسے عالمی طاقت بنانے میں آگے لیجاسکتے ہیں اور ان میں پاکستان کو کراراجواب دینے کی صلاحیت ہے‘‘۔امت شاہ نے کہاکہ اگرآج تک کشمیر کے ساتھ مسئلہ کالفظ جڑاہے تو یہ سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔انہوںنے کہا’’میں کانگریس کے صدر پر یہ واضح کرناچاہتاہوں کہ اگر کشمیرپر آج سوالات کھڑے ہوتے ہیں تو یہ راہل گاندھی کے پرنانا جواہر لعل نہروکی ناکامی کی وجہ سے ہے ،جب ہماری فوج پاکستانی زیرانتظام کشمیر پر قبضہ کے قریب تھی تو وہ نہرو ہی تھے جنہوںنے اسے روک دیا‘‘۔انہوںنے کہاکہ 1947کی تقسیم کے وقت نہرو کشمیر کو اس طرح سے نہیں نمٹاپائے جس طرح سے اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے جوناگڑھ اور حید رآبادسے نمٹا جبکہ نہرو کشمیر مسئلہ کو اقوام متحدہ لیکر چلے گئے ۔امت شاہ کاکہناتھا’’میں راہل گاندھی سے پوچھناچاہتاہوں کہ کون کشمیر مسئلہ کو اقوام متحدہ میں لے گیا،یہ آپ کے پرنانا پنڈت جواہر لعل نہرو تھے جنہوںنے ایسا کیا ،انہوں نے کیوں سردار پٹیل کو کشمیر معاملے سے نمٹنے کا موقعہ نہیں دیا،راہل گاندھی ان سوالات کے جواب دیں‘‘۔اپنے خطاب میں امت شاہ نے این سی ، کانگریس اور پی ڈی پی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان جماعتوں پر سیاسی حکمرانی اور ملک کو مالی طور پر نقصان پہنچنے کا الزام لگایا۔انہوںنے کہاکہ کشمیر میں ترقی صرف دو خاندانوں تک محدود رہی اوریہ خاندان دہائیوں تک مرکزی امداد کو اپنے لئے استعمال کرتے رہے جبکہ کانگریس جس نے ملک میں 55سال تک راج کیا ، بھی لداخ اور جموں کے لوگوں کو انصاف فراہم نہیں کرسکی لیکن پہلی مرتبہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے جموں اور لداخ کی فلاح و بہبود کے اقدامات کئے ۔انہوں نے فاروق عبداللہ کے بیان پر کہا’’آپ اور آپ کے الفاظ کی طرح ہم ملک اور ریاستوں کو باہر سے نہیں چلاسکتے ، ہم چوبیس گھنٹے اپنے لوگوں کی فلاح وبہبود کیلئے کام کرتے ہیں ، کوئی فاروق عبداللہ اور ان دیگرسے پوچھے کہ کس کا پیسہ باہر ہے، یہ حقیقت میں جموں و کشمیر کے عوام کے پیسے کو بیرون ملک آسائش والی زندگی کیلئے استعمال کرتے ہیں‘‘۔ان کاکہناتھاکہ بی جے پی حکومت فاروق عبداللہ کے سامنے جوابدہ نہیں ہے جو یہ بتائے کہ اس نے اپنے دور اقتدار میں کیا کیا بلکہ ہم جموں ، وادی اور لداخ خطوں کے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔انہوں نے پی ڈی پی پر ریاست میں ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا ۔