سیکورٹی حصار میں دنیشور شرما کا دورہ ترال

 ترال//مذاکرات کار دنیشور شرما نے جمعرات کو ترال کا دورہ کر کے ٹائون ہال میں کئی وفود سے ملاقات کی ۔دورے کے پیش نظر پورا قصبہ فوجی چھانی میں تبدیل ہوا تھا جس کے دوران قصبے میں تمام تجارتی اور کار باری ادارے بند رہے۔ مرکزی سرکار کی جانب سے نامزد مذاکرات کار نے کئی عوامی وفود سے دن بھر ملاقات ک اور انکی باتیں غور سے سنیں۔ترال اور اونتی پورہ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے 6وفود بھی ملاقی ہوئے جن میں سکھ فرقے سے وابستہ ایک گروپ بھی شامل تھا۔اونتی پورہ سے تعلق رکھنے والے چند وفود ،جن میں ایک کھلاڑیوں کا وفد بھی شامل تھا، نے بتایا کہ انہوں نے اونتی پورہ میں کھیل کے میدان کا مطالبہ کیا ہے جبکہ جو بیارہ سے تعلق رکھنے والے2 وفود نے بتایا کہ انہیں علاقے میں فورسز کے ساتھ اراضی کے معاملے کو لے کر کچھ مسئلہ چل رہا ہے اسی سلسلے میں انہوں نے مذاکرات کار سے ملاقات کی اور انہوں نے مسائل کے حل کی یقین دہانی کی۔ گردوارہ پربندھک کمیٹی کی قیادت میںملاقی ہوا۔ جنہوں نے مذکرات کار کے سامنے اقلیتی درجے کا مطالبہ رکھا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا  ہے کہ سیول اور پولیس انتظامیہ کی طرف سے کئی غیر سرکاری تنظیموں کو ملاقات کی دعوت دی گئی تھی تاہم ان میں کل6وفود نے ملاقات کی ۔ملاقات کے لئے انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے مقامی صحافیوں کی ایسوسیشن کوبدھ کی رات دیر گئے ملاقات کی دعوت دی تھی تاہم مقامی جنرلسٹ ایسوسی ایشن  کے صدر نے بتایا کہ ہم صحافت سے وابستہ ہیں ہم صرف تقریب کے دوران پیشہ وارانہ فرائض انجام دے سکتے ہیں۔ اسی طرح مقامی غیر سرکاری رضا کار تنظیم سیول سوسائٹی ترال کو بھی دعوت دی گئی تھی تاہم انہوں نے بھی ملاقات سے معذرت کا اظہار کیا ۔ چیئرمین نے بتایا کہ ہم علاقے کی تعمیرو ترقی کے لئے کام کر رہے ہیں مسئلہ پر بات کرنے کے لئے لوگ موجود ہیں جو بات کریں گے۔شرما کی آمد کے موقعہ پر اونتی پورہ سے ترال تک فورسز کا سخت پہرہ بٹھایا گیا تھا جس کے دوران فورسز کی درجنوں بکتر بند گاڑیا ںبس اسٹینڈ اور قصبے کے اندرونی  سڑکوں کھڑا تھیں جبکہ فورسز کی بھاری تعداد کو ٹاون ہال کے ارگرد مکانوں اور دکانوں کے چھتوں پر تعینات کیا گیا تھا ۔کار باری ادارے صبح کچھ وقت کے لئے کھل گئے تھے  تاہم پھربند ہوئے اور بازاروں میں سناٹا چھایا رہا۔ دن کے ایک بجے کے قریب مذکرات کار واپس چلے  گئے جس کے ساتھ ہی بعد دوپہر حالات دوبارہ معمول پر آگئے ۔