’سینی‘ طبقے کیلئے ذات سرٹیفکیٹ کی اجرائی ہائیکورٹ کی طرف سے جاری کرنے پر روک

 عظمیٰ نیوز سروس

سرینگر//جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم نامہ جاری کیا ہے، جس میں سرکاری حکام کو ’سینی برادری ‘کو ذات کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر روک لگانے کی ہدایت دی ہے جب تک کہ حکومت سماجی طور پر کمزور اور پسماندہ طبقے کے طور پر ان کی سماجی حیثیت کا حتمی طور پر تعین نہیں کرتی ہے۔یہ ہدایت سینی کمیونٹی کے ممبروں کی طرف سے ایک درخواست کے بعد ہے جس میں ان کی درجہ بندی کو ‘کمزور اور پسماندہ طبقے’ کے طور پر کرنے کی مخالفت کی گئی ہے اور ریزرویشن کے فوائد حاصل کرنے میں اپنی عدم دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔جسٹس رجنیش اوسوال نے کیس کی صدارت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سینی برادری کے ارکان کو اس وقت تک کوئی سرٹیفکیٹ نہیں دیا جانا چاہئے جب تک حکومت ان کی سماجی حیثیت کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرتی۔

 

موجودہ سرٹیفکیٹ بھی اس تعین کے زیر التوا عارضی طور پر معطل ہیں۔عدالت نے ہدایت کی”جب تک اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے حتمی فیصلہ نہیں لیا جاتا، سینی برادری کے کسی بھی رکن کے حق میں کوئی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جاتا ہے اور پہلے سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ اس وقت تک اثر انداز نہیں ہوں گے، جب تک کہ سینی برادری کی حیثیت سماجی طور پر کمزور اور پسماندہ نہیںقرار دی جاتی ہے‘‘۔درخواست گزار کے وکیل نے استدلال کیا کہ حکومت کا حکم سینی برادری کی خواہشات کے خلاف دیاگیا تھا۔ وکیل نے کہا کہ سینی برادری کو کمزور اور پسماندہ زمرے میں شامل کرنے کا حکم، فی الحال نافذ العمل نہیں ہے اور اسے معطل کر دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اس کے نتیجے میں کیس کو نمٹا دیا، درخواست گزار کو اجازت دی کہ وہ دوبارہ عدالت سے رجوع کرے اگر مجاز اتھارٹی کی جانب سے سینی برادری کی حیثیت سے متعلق کوئی منفی فیصلہ کیا جاتا ہے۔