سینکڑوں کنال اراضی کو سیراب کرنے والی نہر کی مرمت نہ ہو سکی

کوٹرنکہ //سب ڈویژن کوٹرنکہ کے کنڈی علاقہ میں محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کی جانب سے نہر کا مرمتی کام ہی نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے ہزاروں کنال اراضی پر دھان کی پنیری لگانے کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے جبکہ کسانوں نے بتایا کہ اب و بارشوں کا انتظار کررہے ہیں ۔کسانوں نے متعلقہ حکام اور مقامی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ سیلاب کے دوران آبپاشی نہر کی دیواروں میں پڑے ہوئے کھڈوں کی مرمت کرنے کی جانب کوئی دھیان ہی نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے اپر کنڈی ،لوہر کنڈی و دیگر ملحقہ علاقوں کی زراعی اراضی کی سینچائی ہی نہیں ہو سکی ۔کسانوں نے بتایا کہ مذکورہ آبپاشی نہر کی مدد سے 500ہیکٹر سے زائد اراضی کو سیراب کیا جاتا تھا لیکن متعلقہ محکمہ کی لاپرواہی کی وجہ سے مذکورہ اراضی ابھی تک بنجر ہی پڑی ہوئی ہے ۔سابقہ سرپنچ تاج ٹھا کر نے بتایا کہ کسان اب خود بالٹیوں کے ذریعے ہی کھیتوں کی سینچائی کرنے پر مجبور ہوتے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر چہ انتظامیہ کسانوں سے ٹیکس وصول کرتی ہے لیکن نہروں کی مرمت اور ان کی بحالی کویقینی بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی جارہی ہے جس کی وجہ سے آج ان کی سینکروں کنال اراضی بنجر ہو تی جارہی ہے ۔موصوف نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں سے آبپاشی نہر کی مرمت کے سلسلہ میں متعلقہ حکام سے رابطہ قائم کیا جارہا ہے لیکن اس وقت تک کوئی عملی کام نہیں کیا گیا ۔کسانوں نے بتایا کہ متعلقہ حکام کی لاپرواہی سے ان کی دھان کی فصل 15دن کی تاخیر سے لگائی جائے گی ۔کسانوں نے ضلع تر قیاتی کمشنر راجوری سے معاملہ میں مداخلت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ آبپاشی نہر کی مرمت کروائی جائے تاکہ ان کی فصلوں کا نقصان نہ ہو۔