سینکڑوں طالبات اور والدین کادیرینہ مطالبہ | زنانہ کالج ترال سرکار کی منظوری کے باوجود تعمیر نہ ہوسکا

سید اعجاز

ترال//ترال کے قریب120دیہات کیلئے ایک زنانہ کالج کی تعمیر کرنے کا وعدہ ہنوز وفا نہیں ہورہا ہے ۔اگرچہ گزشتہ5برسوں میں 2بار کالج تعمیر کرنے کومنظوری مل گئی تاہم انتظامیہ اور عوام کالج کے لئے بہتر جگہ کا انتخاب کرنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے پروجیکٹ دو بار منسوخ ہوا۔ ترال میں نصف درجن سے زیادہ ہائر سیکنڈری سکول اور ایک کالج قائم ہے جہاں کم وبیش 3ہزار طالبات زیر تعلیم ہیں۔گورنمنٹ ڈگری کالج ترال میں اس وقت970طالبات زیر تعلیم ہیں،گرلزہائر سکنڈری سکول ترال میں صرف 11ویں اور 12ویںجماعت کی541طالبات زیر تعلیم ہیں ،ہائرسیکنڈری سکول لرگام میں92،ہائرسیکنڈری سکول ستورہ میں180طالبات زیر تعلیم ہیں ۔ ہائر سکنڈری سکول ڈاڈسرہ میں 105طالبات ،ہائر سکنڈری سکول نور پورہ میں دونوں جماعتوںمیں343لڑکیا ںزیر تعلیم ہیں ۔

مدرسہ تعلیم الاسلام جامعہ البنات میں50طالبات زیر تعلیم ہیں جبکہ ایم ٹی آئی ہائر سکنڈری سکول میں 100کے قریب طالبات زیر تعلیم ہیں ۔ ترال میں قائم گورنمنٹ ڈگری کالج 1988 سے کام کر رہا ہے اور گزشتہ35سال کے دوران تعلیمی میدان میں اس کالج نے کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں ۔کالج کے قیام کے ساتھ ہی یہاں کے لوگوں نے بچیوں کے لئے قصبے میں ایک الگ کالج کی مانگ کی تھی ۔ عوامی مطالبہ پیش نظر رکھتے ہوئے2018میں سیول سوسائٹی ترال نے گورنر انتظامیہ کواس بارے میں ایک مفصل رپورٹ لکھی جس میں ترال میں ایک کالج برائے خواتین قائم کرنے کی اپیل کی گئی ۔اس سلسلے میں ڈائرایکٹر کالجز کی جانب سے 31اگست2018کو پرنسل گورنمنٹ ڈگری کالج ترال کو ایک خط زیرنمبرDC-HE/Demand 2018 میں کالج پرنسپل کو یہ کہا تھا کہ سیول سوسائٹی ترال کی جانب سے ایک یادداشت دی گئی جس میں انہوں نے قصبے میں زنانہ کالج قائم کرنے کا مطالبہ کیا ۔

کالج نے ایک کمیٹی تشکیل دی اورحکومت کو ایک رپوٹ تیار کرکے دی جس کے بعد سرکار نے باضابطہ 2019میںوادی کے مختلف علاقوںکے ساتھ ساتھ ترال کے لئے ایک ڈگری کالج کی تعمیر کو منظوری دی ۔اس سلسلے میں عوام بشمول سیول سوسائٹی ترال لڑکیوں کے لئے کالج کو بس اسٹینڈ کے ساتھ ہارٹی کلچر کی اراضی یا قصبے میں تعمیر کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ انتظامیہ ترال سے چند کلو میٹر دو رپشاڈ نامی جگہ پر کالج تعمیر کرنے پر بضد رہی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہارٹی کلچر کی زمین کو کالج کی تعمیر کے لئے نہیں دیا جاسکتا ۔سیول سوسائٹی ترال کے چیئر مین نے اس سلسلے میں کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ہم چاہتے ہیں طالبات کے لئے الگ کالج تعمیر کیا جائے لیکن انتظامیہ اس کالج کو ایک ویران گائوں میں تعمیر کرنا چاہتی ہے جو بچیوں کے لئے کسی بھی طرح مناسب نہیں ۔انہوں نے بتایاکہ ہارٹی کلچر کو اس اراضی کے بدلے پشاڈ میں جگہ فراہم کی جائے ۔اشفاق احمد کار نے بتایا کہ ترال بازار میں سرکار جہاں چاہے بنائے کیونکہ ترال تک پہنچنے میں بچوں کو پہلے ہی10,15یا20کلو میٹر دور سے آنا پڑتا ہے جبکہ ایک علاقے سے بچیاں آئیں گی۔