سینکڑوں امریکی فوجی انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث

واشنگٹن// امریکی فوج میں سینکڑوں فوجیوں کا انتہا پسندی کی درگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوگیا۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون  کا کہنا ہے کہ 100 کے قریب امریکی فوجی انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔رپورٹ سامنے آنے کے بعد فوجی ارکان کے لیے نئی ہدایات جاری کردی گئیں۔ لائیڈ آسٹن نے انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کی پالیسیوں پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا۔خیال رہے کہ امریکی فوج کے درجنوں سابق ارکان کیپیٹل ہل پر حملے میں ملوث تھے۔ٹی آر ٹی کے مطابق 2013 میں امریکی فوج میں پانچ ہزار سے زائد جنسی زیادتی کے حملے ہوئے جو ایک برس قبل کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔خواتین فوجیوں کے دو فیصد کو جنسی زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مردوں میں یہ شرح 0.7 فیصد رہی۔54 فیصد واقعات میں فوجی ملازمین نشانہ بنے۔ جنسی زیادتی کے واقعات کے نصف میں شراب نوشی کا عمل دخل رہا۔ یہ جائزہ اس انکشاف کے بعد سامنے آیا جس میں بتایا گیا تھا کہ درجنوں سابق فوجیوں نے چھ جنوری کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے اجلاس گاہ پر ہونے والے حملے میں شرکت کی تھی۔