سینٹرل یونیورسٹی کشمیرکے تعمیری کام میں بے ضابطگیاں،اے سی بی میں کیس درج

سرینگر//انسداد رشوت ستانی بیورو(اینٹی کورپشن بیورو) نے گاندربل میںسینٹرل یونیورسٹی کشمیرکے کاموں کی تکمیل میں بے ضابطگیوں کیلئے یونیورسٹی کے انجینئروں اور میسرزگرانکوانڈسٹریزلمٹیڈ راجباغ ،سرینگر کے خلاف ایک ایف آئی درج کیاہے۔سینٹرل یونیورسٹی کے افسروں کے  خلاف انسدادرشوت ستانی بیورو نے پولیس اسٹیشن اے سی بی،میں درج ایف آئی آرنمبر16/2021کے تحت تلاشی بھی لیں۔انسداد رشوت ستانی بیوروکوای ٹینڈر نوٹسET/01 of 2017-CUKMR/CD/F/N0.44/16/31 جسے یونیورسٹی نے تولہ مولہ کیمپس میں اکیڈمک بلاک کی تعمیر کیلئے جاری کیاتھااور اس پر 4,40,41,780.00.روپے لاگت آنے کاتخمینہ تھا۔یہ کام میسرزگرانکوانڈسٹریزراجباغ کو دیاگیا۔انسداد رشوت ستانی بیورونے  ماہرین کے ہمراہ کام کے معائنے کے دوران اسے غیر معیاری پایااور یہ ٹینڈر نوٹس کی شرائط کے منفی تھا۔کام کی خصوصیات کو ایک ترمیم کی آڑ میں تبدیل کیا گیا جسے نہ ہی جاری کیاگیا اور نہ ہی سرکاری ویب سائٹ پر شائع کیا گیا ۔تحقیقات کے دوران مزید کئی بے ضابطگیا ں بھی پائی گئیںجس کی وجہ سے سینٹرل یونیورسٹی کو71.61لاکھ روپے کا چونا لگایا۔ان حقائق کی بناپرفرم گرانکو انڈسٹریز کے مالکان،اُس وقت کے سینٹرل یونیورسٹی کے ایگزیکیٹو انجینئر(اب سبکدوش) ریاض احمد جیلانی،سیداحمد گورکھو جے ای،سی یو کے ،گاندربل۔سہیل بشیراُس وقت کے جے ای اینٹرل یونیورسٹی کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کیس درج کیا۔ہائی کورٹ کی وارنٹ کے بعد تحقیقات کے سلسلے میں تلاشی لی گئیں اور قابل اعتراض دستاویزات کو برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔کیس کی مزیدتحقیقات جاری ہے۔