سینٹرل یونیورسٹی میں لیگل ایڈکلنک کاافتتاح

گاندربل//سینٹرل یونیورسٹی کشمیر میں شعبہ قانون کے اہتمام اور ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی کے تعاون سے ’’آزادی کا امرت مہا اتسو‘‘ کے سلسلے میں لیگل ایڈ کلینک کا افتتاح عدالت عالیہ کے جسٹس علی محمد ماگرے نے کیا۔مہمان خصوصی جسٹس علی محمد مگرے نے اپنے کلیدی خطاب میں حاضرین کو آگاہ کیا کہ ایسے قانونی اداروں کو معاشرے کو معیاری قانونی امداد فراہم کرنے کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار کونسل آف انڈیا نے یہ حکم دیا ہے کہ ہندوستان کے تمام لا ء کالجوں اور یونیورسٹیوں کو قانونی امداد کے مراکز یا کلینک قائم کرنے ہوں گے جو کہ قانونی تعلیم کے کچھ معیاروں کو پورا کرنا ہے ، لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس کا مقصد ان قانونی امداد کے کلینکوں اور پروگراموں کے ذریعے قانونی شعور کو فروغ دے کر طلبا کو اپنی برادری کی خدمت میں شامل کرنا ہے۔انہوں نے معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کو قانونی خدمات کی فراہمی میں طلبا کو شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور قانون کی طالبات کو اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے طالب علم اور جج بننے کے ذاتی تجربے حاضرین  کو سنائیں۔انہوں نے اس طرح کے اقدام کے لیے سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کی انتظامیہ کو مبارکباد دی۔وائس چانسلر پروفیسر معراج دین میر نے اپنے صدارتی خطاب میں قیدیوں کے حقوق کے تحفظ میں لیگل ایڈ کلینک کی خدمات کواُجاگرکیا اور کہا کہ یہ کس طرح پسماندہ اور کمزور لوگوں کو بااختیار بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی آگاہی فراہم کرنا انصاف تک فوری اور موثر رسائی کو یقینی بنانے کی طرف پہلا قدم ہے۔ ہندوستان اور خاص طور پر جموں و کشمیر میں قانونی خدمات کے حکام کے کردارکو اجاگر کرتے ہیں۔