سیرت رسول ؐ کے چند پہلو

موجودہ امت سے قبل بہت سی قوموں پراللہ نے عمومی عذاب نازل کرکے انہیں تہس نہس کردیا،وجہ یہ تھی کہ وہ بھیانک جرائم میں ملوث تھے ،لیکن جن جن جرائم کی وجہ سے گذشتہ قومیں تباہ وبربادکی گئی،وہ تمام جرائم موجودہ امت کے کسی نہ کسی حلقہ میں موجودہیں اس کے باوجودبھی ان پرعمومی عذاب نہیں آرہا ہے ،کیونکہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء کررکھی ہے :میں نے اپنے رب سے مطالبہ کیا کہ میری امت کو (عمومی غرق) سے ہلاک نہ کیا جائے تو رب نے مجھے یہ عطاکیانیزمیں نے اپنے رب سے مطالبہ کیا کہ میری امت کو(عمومی) قحط سے ہلاک نہ کرنا تواللہ نے مجھے یہ عطاء کردیا(یعنی اس امت کوکسی بھی عمومی عذاب سے ہلاک نہیں کیاجائے گا ) ۔یقینا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعاء موجودہ امت پراحسان عظیم ہے۔
اخلاق و کردار:دنیاوالے کسی سے محبت کرتے ہیں تو وہ کرداراورخوبیوں کی عظمت بنا پہ کرتے ہیں،مثلاکوئی کسی فن میں ماہرہے تولوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ،کوئی بڑابہادرہے تولوگ اس پربھی فداء ہوجاتے ہیں ،کوئی بہت اخلاق مندہے تووہ بھی لوگوں کامحبوب بن جاتاہے،وغیرہ وغیرہ یعنی کوئی انسان عمدہ کرداراوراچھی خوبی کامالک ہے تواس کی وجہ سے لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہراچھے معاملات میں اعلی کرداراورعمدہ خوبیوں کے مالک تھے ،مثلابہادری کولیجئے دس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے والے صحابی رسول انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت اور سب لوگوں سے زیادہ بہادر تھے ایک مرتبہ مدینہ والوں کو کچھ خوف ہوگیا اور ایک طرف سے کچھ آواز آرہی تھی تو لوگ اس آواز کی طرف گئے آنحضرت سب سے آگے تشریف لے گئے اور آپ نے اس واقعہ کی تحقیق کی آپ ابوطلحہ کے گھوڑے پر بغیر زین کے سوار تھے، اور گلے میں تلوار حمائل تھی اور آپ فرما رہے تھے کہ ڈرو مت کوئی خوف نہیں ہے اس کے بعد فرمایا، البتہ ہم نے اس گھوڑے کو دریا کی طرف سبک سیر دیکھا۔یہ توبہادری کاحال ہے اوراخلاقی معاملات میں آپ کس مقام پرفائز تھے اس کی گواہی خودخالق کائنات نے دی ہے :
اور بیشک آپ بہت بڑے (عمدہ) اخلاق پر ہیں۔ (القلم:4) 
آپ ؐکے اخلاق کا حیرت انگیز نمونہ اس حدیث میں ملاحظہ فرمائیے:عمربن العاص ؓکہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ الفت کامظاہرہ کرتے ہوئے ان میں سب سے بدترین شخص سے بھی پوری طرح متوجہ ہوکربات کرتے تھے ،چنانچہ آپ ؐمجھ سے بھی اس قدرتوجہ کے ساتھ گفتگوکرتے کہ میں یہ سمجھ بیٹھا کہ میں لوگوں میں سب سے افضل ہوں، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ بیٹھا کہ اے اللہ کے رسول ؐ میں بہترہوں یا ابوبکر؟آپ ؐ نے فرمایا:ابوبکر۔میں نے پھرپوچھا : اے اللہ کے رسول ؐ میں بہترہوں یاعمر؟ آپؐ نے فرمایا:عمر۔میں نے پھرپوچھا : اے اللہ کے رسول ؐ میں بہترہوں یاعثمان؟آپ ؐ نے فرمایا:عثمان۔تو جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوالات کئے توآپ ؐ نے حق گوئی سے کام لیا،کاش کہ میں نے آپؐ سے یہ سوالات ہی نہ کئے ہوتے۔ 
غورکریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عام صحابی کے ساتھ ایسے اخلاق کامظاہرہ کیا کہ اس سے متاثر ہوکرصحابی مذکورنے یہ سمجھ لیاکہ یہ تمام صحابہ سے افضل ہیں تبھی تواللہ کے نبی ؐان کے ساتھ اتنے اعلی اخلاق کامظاہرہ کررہے ہیں لیکن جب انہوں نے سوالات کیا تب انہیں معلوم ہوا کہ صحابہ کا مقام اپنی اپنی جگہ مگررسول اکرم ؐ کااخلاق سب کے ساتھ یکساں ہے۔
کامیاب قائد و سپہ سالارروئے زمین نے انسانی تاریخ میں بے شمار قائد و رہنما دیکھےہونگے مگر قائد اعظم اور رہبر کاملؐ جیسا بے باک ، نڈر، اور عظیم و کامیاب قائد نہیں دیکھا ہوگا کیونکہ آپ ؐ میں وہ ساری خوبیاں اور سارے کمالات موجود تھے جو ایک کامل سپہ سالار میں ہونے چاہیے۔ اس لئے کہ ایک سپہ سالار میں جو خوبیاں ہونی چاہئے وہ یہ ہے :عورتوں اور بچوں ، بوڑھوں ، بیماروں کو قتل نہ کیا جائے ۔ بھاگنے والوں کا تعاقب نہ کیا جائے ، نہ ان کا مال لوٹا جائے ، جو مقابلہ میں نہ آئے اُن پر حملہ نہ کیا جائے ۔سپہ سالار سب سے قوی ہو ، میدان کارزار سے واقف ہو ۔مشورہ طلب کرنے والاہو ، مشورے پر عمل کرنے والا ہو ، فوری فیصلہ کرنے والا ہو ، دشمن اگر صلح کرنا چاہے تو فوری معاہدہ ہو ، دشمن کی طاقت کا اندازہ کرنے والا ہو ، جدید ہتھیاروں سے واقف ہو اور چلانے کی صلاحیت رکھنے والا ہو اور اﷲ رب العزت نے اپنے حبیب کو ان تمام نعمتوں سے سرفراز فرمایا تھا۔
آپ رسول اللّٰہ ؐ کی زندگی کے کسی بھی گوشے پہ نظر ڈالے کبھی بھی آپ نامراد اور ناکام نظر نہیں آتے سفر ہو یا حضر جنگ ہو یا امن ہر محاذ پہ آپ کامیابی سے ہمکنار نظر آتے ہیں، آپؐ کی مکی و مدنی زندگی ساری کی ساری صفحات قرطاس پہ حرف بحرف مکتوب ومذکور ہے کہیں بھی آپ ناکام تو دور کی بات مایوس بھی نظر نہیں آتے۔ مسلم دنیا ایک عالمِ دین مولانا حبیب عبدالرحمن بن حامد الحامد آپ کی قائدانہ شان اس انداز سے بیان کرتے ہیں :حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے پہلے تیرہ سالہ مکی زندگی میں صحابہ کے ایمان و یقین کو مکمل کیا۔ سوائے دو اقعات کے مکہ کی سرزمین پر خون خرابہ نہ ہوا ۔ ایک تو حضرت حمزہؓ کا ابوجہل پر حملہ کرکے زخمی کرنا ، دوسرے حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کا نماز میں خلل ڈالنے والے مشرکوں میں سے ایک مشرک کو اونٹ کی ایک ہڈی سے زخمی کرنا ۔ یہ دور تھا مظلومی میں صبر کرنے کا ۔
اور جب ۱۲ صفر ۲ ہجری کو احکاماتِ خداوندی نازل ہوئے اور بتلایا گیا کہ اب ظلم و زیادتی برداشت نہ کی جائے بلکہ مقابلہ کیا جائے ۔ ان احکامات کے بعد حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے جنگی کاروائیوں میں حصہ لیا۔ یہ حضور ؐ کا مدنی دور ہے جس میں دو ہجری سے آٹھ ہجری تک آپؐ جنگوں میں مصروف رہے ۔ جو جنگ میں حضور اکرم ؐ بہ نفس نفیس شریک رہے وہ غزوہ اور جس میں مجاہدین کو روانہ کرتے وہ سریہ کہلاتی ہے ۔اس طرح حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے جن جنگوں میں یا غزوات میں بحیثیت سپہ سالاری کے فرائض انجام دیئے ان کی تعداد ۲۷ ہے۔ اور اﷲ رب العزت نے ہر مرحلہ اور غزوہ میں کامیابیوں سے نوازا اور آپ ؐہر غزوے میں کچھ نہ کچھ نمایاں کام انجام دیتے رہے ۔
غزوۂ بدر میں حضور اکرم ﷺ نے دشمن کی عسکری طاقت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی چھوٹی سی جماعت کے ساتھ مقابلہ کیا اور صحابہ کو ہدایتیں دیںکہ جنگ میں اپنی طرف سے پہل نہ کرنا ، دشمن دور ہوں تو پتھروں سے ، قریب آنے پر تیروں سے اور قریب آنے پر نیزوں سے اور دو بدو ہو تو تلواروں سے مقابلہ کریں۔ عورتوں اور بچوں کو نہ مارا جائے ۔ جو مقابلے کیلئے آئے اس سے ہی مقابلہ کیا جائے ۔ پھر آپ ؐ نے صف بندی کروائی جس کی ابتداء مسلمانوں کو نماز ہی کی حالت میں سکھائی گئی تھی ۔ جنگ بدر میں پہلی مرتبہ صف بندی ہوئی جس کا دشمن تصور بھی نہیں کرسکتا تھا ۔ اس سے پہلے جنگ کی یہ حالت ہوتی جو جس کے سامنے آجاتا اس سے لڑائی ہوتی ۔اس جنگ میں حضور نے ہواؤں کاخیال رکھا ، اس لئے کہ مخالف ہوا تیروں کو ضائع نہ کرے ، سورج کی شعاعوں کا بھی خیال رکھا گیا کہ کہیں آنکھیں چندیا نہ جائیں اور کامیابی حاصل کی ۔غزوۂ اُحد میں دشمن کے حرکات اور سکنات سے باخبر رہنا ۔ ان کی عسکری طاقت سے واقفیت حاصل کرنا ۔ صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کرنا ۔ کم عمر بچوں کو جنگ میں شریک نہ کرنا ، میدان کارزار کا انتخاب کرنا ۔ احد پہاڑ کو پیچھے رکھنا تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کرے اور شہر مدینہ کو سامنے رکھنا کہ اگر دشمن اہل مدینہ کی عورتوں اور بچوں کو کوئی نقصان پہنچائے تو میدان کارزار سے ہی اس کو دیکھ لینا اور فیصلہ کرتے ہوئے اس کا سدباب کرنا ۔
غزوۂ خندق سے پہلے ان کی تیاریوں سے واقفیت حاصل کرتے ہوئے صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کرنا اور خندق کی کھدائی کرتے ہوئے دشمن کی طاقت کو توڑنا تاکہ دشمن کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے ۔
صلح حدیبیہ میں دشمن مسلمانوں کی طاقت سے مرعوب ہوکر معاہدہ کرنے کیلئے آنا اور معاہدہ کرنا ۔خیبر کے محاصرے کے بعد مقابلہ میں نئے ہتھیار منجنیخوںسے جو دبابے کی شکل میں قلعوں میں دراڑ ڈالنے کا کام کرتی ہیں استعمال کرنا ۔فتح مکہ میں اپنی عسکری طاقت کو اتنا زیادہ کردینا کہ دشمن ہتھیار اُٹھانے کی جرأت بھی نہ کرے ۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کی معاشی ناکہ بندی بھی کرنا ۔ نہ صرف یہ بلکہ صحابہ کرام و مجاہدین کو اپنے خیموں کے سامنے آگ کے الاو دو دو جگہ لگانے کا حکم دینا تاکہ دشمن مجاہدین کی تعداد کا اندازہ ہی نہ لگاسکے ۔غزوہ تبوک میں دشمن کے مقام تک پہنچ کر آمادہ جنگ کرنا لیکن دشمن مقابلہ کیلئے باوجود تعداد سامان جنگ رکھنے کہ نہ آسکا جس سے مسلمانوں کو بڑا فائدہ پہنچا اور سارے لوگ جو اس وقت رومیوں سے مرعوب تھے مسلمانوں کی صف میں آنے لگے ۔آپ اقوام عالم کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو ایسا (حضور اکرم ؐ جیسا ) سپہ سالار نظر نہ آئے گا بلکہ دو ایک جنگ میں کامیابی ہوگی اور بس !مگر ۲۷ ستائیس جنگوں کی قیادت اور سپہ سالاری کرنے والے فاتح اعظم پر نظر ڈالیں تو صرف کامیابی ہی کامیابی نظر آئے گی۔الغرض آپ کی زندگی ہر اعتبار سے کامل اور مکمل نمونہ ہیں آپ بیٹے، والد، بھائی، شوہر، پڑوسی، رشتہ دار، تاجر، امام، معلم ہونے ساتھ ساتھ ایک عظیم انسان و محسنِ انسانیت اخلاقیات کے اعلی مقام پہ فائز ہیں تاقیامت آنے والے انسانوں کے لیے آپ میں بہترین نمونہ ہے اور دوجہاں کی کامیابی کی ضمانت آپ کے طریقہ حیات اپنانے میں ہے۔
ورنہ یہاں بھی ناکامی اور وہاں بھی۔(ختم شد) 
پتہ ۔ پلہالن