سیرتِ طیبہؐ اور کسبِ حلال فکر و ادراک

بلال احمد پرے

نزولِ وحی کے ابتدائی موقع پر جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبرائے ہوئے گھر لوٹ آئے اور حضرت خدیجہؓ سے کمبل اوڑھنے کے لئے فرمایا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زوجہ سے نزولِ وحی کے دوران پیش آئے واقع کی ذکر کی ۔ اس پر حضرت خدیجہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح کے الفاظ سے تسلی دی کہ ” آپؐ کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ، مہمان نوازی کرتے ہیں، جن کے پاس کچھ نہیں، اُنہیں کما کر دیتے ہیں ’’ جیسے انمول اوصاف حمیدہ گنوانے لگی ۔ یہ سبھی اوصاف اس بات کی خوب عکاسی کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت بھی اس قدر خود کفیل تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسروں کو بھی مدد فرمایا کرتے تھے ۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجارتی سرگرمیاں بڑی دیانتداری، وفا شعاری، اعتماد سازی، بھروسہ مندی، صاف و شفاف اصول و ضوابط کے ساتھ انجام دی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیارے چچا جان ابو طالب اور حضرت زبیرؓ کے ساتھ تجارتی اسفار طے کیے ۔ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجارت کو اپنا پیشہ بنایا اور اپنا ذریعہ معاش بھی کمایا ۔ اس کے علاوہ حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ عنہ کے مال سے بھی بے حد خوبصورت انداز میں خوب کمائی کے ساتھ تجارت کیا ۔ اور یہاں آپ ﷺ نے اس تجارت کو بحیثیت اجارہ داری (representative) یعنی اجرت کے طور پر لیا ۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجارت کی سرگرمیاں بڑی ہی دلکش اور منفرد انداز میں انجام دی ہے ۔ جس سے دیکھ کر نہ صرف خدیجہ کا غلام میسّرہ متاثر ہوا تھا بلکہ حضرت خدیجہؓ بھی بذات خود بے حد متاثر ہوئیں ۔ حالانکہ تجارت کی یہ ترغیب آپﷺ کو اپنے آبا و اجداد سے وراثت میں ملی تھی ۔ اپنے غیر معمولی اوصاف حمیدہ کی بنیاد پر ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں صادق و امین کے لقب سے مشہور ہو گئے ۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’فضائلِ تجارت‘‘ میں فرماتے ہیں کہ ”میرے نزدیک کمائی کے ذرائع تین ہیں؛ تجارت، زراعت اور اجارہ ۔”
تجارت کی کامیابی کے لیے معاملات کی صفائی، راست بازی، حسن معاملہ، صدق و دیانت، اور لڑائی و جھگڑے سے پرہیز اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں ۔ حضرت قیسؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمانہٴ جاہلیت میں میرے شریک ہوتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شرکاء میں سے بہترین شریک تھے، نہ بحث و تکرار، نہ لڑائی و جھگڑا کرتے تھے ۔ اس سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ ہماری تجارت اور شراکت داری کیسی صاف و شفاف، ہمدردانہ اور دوستانہ تعلقات سے مضبوط ہونی چاہئے ۔ نہیں تو شراکت داری زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی ہیں ۔ یہاں دو شرکاء کو آپس میں دو دل ایک سوچ کے تحت اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے کوشش کرنی چاہئے ۔
اسی طرح ایک تاجر کے اندر تجارت میں خرید و فروخت کرنے پر وعدہ کی پاسداری ضروری ہونی چاہئے ۔ ایسا نہ ہو کہ نیت میں کھوٹ ہو، دوکھہ دہی کرنے اور دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر نقصان پہنچانے کا مقصد ہو ۔ بلکہ یہ ذہن میں رہیں کہ نبوت ملنے سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن ابی حمسآءؓ سے خرید و فروخت کا ایک معاملہ کس خوبصورت طریقے سے کیا ۔ خریدی گئی شئے کی قیمت میں سے کچھ رقم ان کے ذمہ باقی رہ گئی تھی، تو حضرت عبداللہ ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ کل اسی جگہ آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بقیہ رقم ادا کر دے گا ۔ پھر وہ بھول گیا، اور اس سے تین روز بعد یاد آیا ۔ وہ فوراً اسی مقام پر گیا، تو دیکھ کر حیران ہوا کہ حضرت رسول اکرم ﷺ اسی جگہ تشریف فرما ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” اے نوجوان! تم نے مجھے اذیت پہنچائی، میں تین دن سے اسی جگہ پر تمہارا منتظر ہوں ۔” (أبی داؤد)
یہ وعدہ پاسداری کی وہ تعلیم تھی، جس سے ہر حال میں ہمیں برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اور اس کے اندر کاروبار کو چار چاند لگانے کا راز مضمر ہے ۔
حضرت نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجہؓ سے نکاح کرنے کے بعد سامانِ تجارت کو بحرین میں اس وقت کی مشہور و معروف بین الاقوامی تجارتی منڈی میں شرکت کرنے کے غرض سے لے لیا ۔ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ سے زیادہ نفع کما سکیں اور دوسری جانب اپنے تجارتی سامان کو بین الاقوامی سطح تک پروموٹ (promotion) بھی کر پائیں ۔ جس سے اس تجارتی مال کی پہنچان دور دراز شہروں تک پہنچ سکیں اور اپنے شہر کی اقتصادی حالت کو مزید بڑھایا جائے ۔
الغرض تاجر ہو یا کاشتکار، شریک ہو یا مضارب، مزدور ہو یا کوئی بھی محنت کَش، شہری ہو یا دیہاتی، پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ؛ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے لئے ہر شعبے میں رہنمائی ملے، تو اس کے لیے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک ہستی میں کامل نمونہ موجود ہے ۔
آج کے دور میں مختلف چیزوں کے لئے قومی اور بین الاقوامی سطح پہ تجارتی میلے سجائے جاتے ہیں ۔ جس کے لئے مختلف وزرات اور محکمہ جات مل جل کر یہ میلے منعقد کرتے ہیں ۔ ہمارے یہاں وادئ کشمیر و صوبہ جموں میں محکمہ سیاحت اور صنعت و تجارت خصوصی طور پر اس طرح کے میلے منعقد کرتے رہتے ہیں ۔ جس سے نہ صرف تجارت پیشہ لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ دستکاروں کے ساتھ ساتھ کاشت کاروں کے لئے بھی سود مند ثابت ہوتا ہے ۔ اسی طرح تجارت کو پروموٹ کرنے کے لئے ہمارے یہاں مختلف تجارتی سامان کو سرکاری سطح پہ ایک خاص جغرافیائی پہنچان (Geographical Indication) دی گئی ہے – جس میں کشمیری پشمینہ (Kashmiri Pashmina)، کانی شال (Kani Shawl)، پیپر ماشی (Paper Machie)، ختم بندھ (Khatamband)، گھبہ (Kashmiri Handmade Carpets)، زعفران (Saffron)، اخروٹ لکڑی (Walnut Wood) جیسی products قابل ذکر ہیں ۔ جن کی قیمت میں اس سے نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ اس طرح کے پروڑکٹس کے ساتھ ملاوٹ کرنے میں بھی قابو پایا گیا ہے ۔
کشمیر کے پھل؛ سیب، بادام، اخروٹ، اور کیش کراپ؛ زعفران جیسی products کو دنیا بھر میں اپنی ایک منفرد پہچان ہے ۔ جنہیں دنیا کے کونے کونے میں اپنی خوشبو، زائقہ اور رنگ جیسی خصوصیات کی بنیاد پر بڑی ڑیماند (Demand) ہے ۔ کاشت کاروں کے ساتھ ساتھ تجارت پیشہ لوگوں کو چاہئے کہ دہلی سے باہر نکل کر ملک کی دوسری بڑی تجارتی منڈیوں اور شہروں میں اپنے تجارتی سامان کو لے جا کر اچھے دام میں فروخت کیا کریں ۔ اسی طرح سیّاحتی سطح پہ یہاں کے Handicrafts اشیاء کی ایک الگ پہچان ہے ۔ جس سے ملک کے سبھی بڑے شہروں میں پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے ۔ لیکن سیرت طیبہ ؐ کے تناظر میں ہمیں بھی چاہیے کہ ان سبھی پروڈکٹس کو دنیا کی بڑی بڑی تجارتی منڈیوں میں پہنچانے سے پہلے ان کے معیاری کوالٹی اور purity کو برقرار رکھتے ہوئے لے جانا چاہئے ۔ اس طرح سے ان کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ ہو جائے گا بلکہ ان کی ایک الگ پہنچان بھی بنائی جائے گی ۔ لیکن ہمیں انہی اصولوں اور ضوابط کے تحت یہ تجارت کرنا چاہئے جو ہمیں آقا نامدار حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکھا گئے ہیں ۔
اسی طرح اجارہ داری (اُجرت پر لینے) کے طریقے سے ہمیں یہی تعلیم ملتی ہے کہ کسی دوسرے کے مال کو فروخت کرنے کے غرض سے اس کی تجارت کرنے اور اس پر سفر طے کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ یہ سُنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے ۔ آج کل اسی طرح کی تجارت کے لئے مختلف لوگ مختلف چیزیں اپنا منافع کمانے کے غرض سے فروخت کرتے ہیں ۔ جن میں اکثریت شعبہ طب سے وابستہ medical representatives کی ہیں ۔ جنہیں مختلف کمپنیاں اپنی ادویات فروخت کرنے پر چند فیصدی رقم بطورِ اُجرت کے طور پر دیں دیتی ہے ۔ اسی طرح کپڑے، ہینڈی کرافٹس مصنوعات وغیرہ کی تجارت کرنے والے لوگ ہیں ۔ جنہیں اسلام کے وہی اصول و ضوابط اپنانے کی ضرورت ہیں جو رہبرِ کامل، امام الانبیاء، خیر الانام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھلائے ہیں ۔(جاری)
(ہاری پاری گام ترال،رابطہ ۔ 9858109109)
[email protected]