سیرتِ رسولؐ اور عالم انسانیت

نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ِ مبارکہ عالم اسلام اور عالم انسانیت کے لئے ایک عظیم تحفہ ہے، انعام ہے اور اللہ کا احسان عظیم ہے۔ چنانچہ ماہ ربیع الاول پوری امت مسلمہ کے لئے موسم بہار کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس مہینہ کو نبی آخر الزمان محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کا شرف حاصل ہے اور آپ کی ولادت با سعادت نے دنیا کو مسخر کردیا۔جاہلیت کا خاتمہ ہوگیا ، انسان نے زندگی گزارنے کا سلیقہ پالیا،خواتین کو قدر و منزلت مل گئی ، قتل و غارت گری، بت شکنی نورِ توحید سے جگمگا اٹھی، بندوں کا رشتہ خالق سے جڑ گیا۔گویاآپؐ کی ولادت پوری انسانیت کے لئے ایسا ہمہ گیر اور انمول تحفہ تھا، جس نے نہ صرف صحرائے عرب بلکہ پورے عالم میں انقلاب برپا کیا۔اس لئے ہمیں آج پھر میلادالنبی ؐکے مقاصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے اوراس کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں ہر خاص و عام تک پہنچا نے کی ضرورت ہے۔ 
 قرآن مذہب اسلام کا آئین ہے :  
 دنیا آج بھی بھٹک رہی ہے اور ہم بھی بھٹک رہے ہیں، دنیا بھٹکے یہ بات سمجھ میں آتی ہے مگر ہم کیوں بھٹک رہے ہیں جبکہ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی روشن کتاب آج بھی موجود ہے، جس میں دنیاکے وجود سے لے کر دنیا کے فنا ہونے تک کا ذکر ہے۔ قرآن ہی مذہب اسلام کا دستور ہے اور آئین ہے اور قرآن کے نازل ہونے کے بعد ساری آسمانی کتابوں کے بارے میں اعلان کردیا گیا کہ وہ برحق تو ہیں اور برحق ماننا بھی ہے مگر عملدرآمد قرآن کے اصول و ضوابط پر ہی ہو گا یعنی قرآن آجانے کے بعد ساری کتابوں پر عملدرآمد منسوخ کردیاگیا ہے۔ قرآن ہی اسلام کا نظریہ ہے، اسلام کا دستور ہے، مکمل ضابطۂ حیات ہے اور قرآن ایسی کتاب ہے ،جس میں رائی کے دانے کے برابر بھی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھی ہے اور قرآن کے نزول اور تحفظ سے متعلق آیت بھی قرآن میں ہی موجود ہے جو ایک چیلنج ہے ،ان لوگوں کے لئے جو لوگ قرآن پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ 
سیرۃ النبی کما حقہ بیان ہی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ آخری پیغمبر کا مقام ومرتبہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں ان کے احکامات سے منہ موڑنا وجہ بربادی ہے۔ دونوں جہاں میں ذلت و رسوائی ہے اور ہمیں اگر ذلت و رسوائی سے بچنا ہے تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر عمل کرنا ہوگا، اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ۔
 اولاد کی پرورش :   
اولاد کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں پاکیزگی لائیں تاکہ ہوش سنبھالتے ہی اسے احساس رہے کہ میں مسلمان ہوں۔ اور جب مسلمان ہوں تو مجھے اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل کرناہے ۔مسجدوں میں جانا ہے اور نمازوں کی پابندی کرنا ہے۔ کسی کا دل نہیں دکھانا ہے، کسی کا مذاق نہیں اڑانا ہے، خیانت کی راہ پر لگنے والا مشورہ نہیں دینا ہے، ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرنا ہے کہ سیرت رسول عالم ؐاسلام اور عالم انسانیت کے لئے مشعلِ راہ ہے اور ذریعہ نجات ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم امتیوں پر اتنا احسان ہے کہ ہم پوری زندگی ذکر و اذکار کرتے رہیں تو بھی احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتے مگر ہاں ہم اپنا بگڑا مقدر ضرور سنوار سکتے ہیں۔
 نبی پاکؐ کا اخلاق کریمانہ :  
  نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق و کردار اس قدر بلند تھا کہ آپ غیروں کو بھی مصیبت میں دیکھتے تو بے چین ہوجاتے اور اس کی مدد فرماتے آپ ؐ پچیس سال کے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا چالیس سال کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنوارے اور حضرت خدیجہ ؓدو دو شوہر سے بیوہ پھر بھی حضرت خدیجہؓ سے عقد نکاح فرمایا۔ پوری دنیا کے لئے آج بھی یہ سبق آموز ہے۔ آزادی نسواں کا نعرہ لگانے والوں ہوش میں آؤ، ہوائی جہاز میں خواتین کو تعینات کرکے سینہ پھلا تے ہو مگر یہ بھول رہے ہو کہ تم نے اس وقت جہاز میں خواتین کو جگہ دی جب وہ جوان تھی۔ کیا کبھی کسی ایسی خاتون کو تعینات کیا، جب اس کے چہروں پر جھریاں پڑ گئی ہوں اور وہ بوڑھی ہو چکی ہو؟ نبی سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرامؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، ایک یہودی کی میت کو لیجاتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہوگئے ۔صحابہ کرامؓ نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو یہودی کی میت ہے ،پھر بھی آپؐ کھڑے ہوگئے تو فرمایا محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہاں وہ یہودی ہے لیکن ہے تو انسان۔ ایک انسان کی جاتی ہوئی میت کو دیکھ کر میں کھڑا ہوا تاکہ دنیا جانے کہ انسانیت بہت بڑی چیز ہے۔
اور آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کی پریشانیاں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، بغض و کینہ ہمارے اندر اتنا زیادہ ہے کہ ہمارا معاشرہ تباہ ہوتا جارہا ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جو قوم عریانیت کی مخالف تھی، زنا کے قریب نہیں جاتی تھی ،آج وہی قوم عریانیت کی چادر اوڑھنے لگی، مسلم خواتین بازاروں کی رونق بننے لگیں اور مسلم نوجوان کا یہ حال ہے کہ لڑکیوں کو زناکاری کی نظروں سے دیکھنا فخر سمجھنے لگا ۔یاد رکھیں بارہ ربیع الاول نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا دن ہے اور یہ دن ہی ہر مسلمان کے لئےہر برائی کو جڑ سے اکھاڑنے کا عہد کرنے کا بھی دن ہے، بے سہاروں کو سہارا دینے کا بھی دن ہے، پیار محبت عام کرنے کا بھی دن ہے، یتیموں سے بے پناہ محبت کرنے کا بھی دن ہے، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت کرنے کا بھی دن ہے، مساجد کو سجدوں سے آباد کرنے کا عہد کرنے کا دن ہے، یہی میلادالنبی کا پیغام ہے اور اس پیغام کو عام کریں خود عمل کریں اور دوسروں کو عمل کرنے کی دعوت دیں۔ ہمیں اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانات کے ساتھ بھی زیادتی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم  کے اخلاق کریمانہ کی برکت ہی ہے کہ بہت ہی کم عرصے میں پوری دنیا میں اسلام کا شامیانہ تن گیا اور لوگ جوق در جوق اسلام کے شامیانے میں داخل ہونے لگے۔ آج بچے، بوڑھے اور جوان سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیرت نبوی اور احادیث نبوی کا مطالعہ کریں تب معلوم ہوگا کہ سیرت نبوی ہی مسلمانوں کے لئے اور پوری انسانیت کے لئے آئیڈیل اور ماڈل ہے اور یہی کامیابی کی ضامن ہے ۔
رابطہ: 8299579972