سید جمال الدین افغانی ؒ

اُنیسویں صدی عیسویں کی عظیم شخصیات میں ایک عظیم نام سید جمال الدین افغانی ؒ کا ہے۔ سید محمد جمال الدین بن سید صفدر افغانستان میں ضلع کا بل کی بستی سعد آباد میں 1837 ؁ء میں ایک شریف گھرانے میں پیدا ہوئے۔ امام تر مذی ؒ سے ہو کر آپکا نسب نامہ حضرت حسین ؓ سے ملتا ہے۔ آپ کی پرورش خالص افغانی ماحول میں ہوئی، جسکی وجہ سے غیرت وآزادی اور حمیت و خودداری آپ میں رچی بسی تھی۔ آپ کو اپنے زمانے میں مروج علوم عربیہ و ادبیہ اور شرعی و عقلی علوم کا حظ وافر قدرت نے عطا کیا ہوا تھا۔ آپ افغانی انقلابی مزاج رکھتے تھے اور آپ کی فکر آفاقی تھی۔
گوکہ آپکی شخصیت گو ں نا گوں صفات کی حامل تھی ، کہ آپ بیک وقت عظیم فلسفی ، دانشور، مصلح، داعی، مفسر، ادیب و شاعر ، خطیب اور علم الکلام و العقائد سے واقف تھے لیکن سیاسی پہلو آپکی شخصیت میں نمایاں ہے۔ اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ جمال الدین افغانی ؒ کی زند گی کا اہم اور عظیم پہلو سیاسی خدمات ہیں۔ یہ وہ پہلو ہے جسکے گر د آپکی زند گی گردش کرتی ہے۔ افغانی ہمیشہ اس فکر میں رہتے تھے کہ امتِ اسلامیہ اپنی غفلت سے جا گے اور اُن سا مراجی طاقتوں کے مذموم ارادوں کو بھانپے، جو اسلامی ممالک کو اپنا لقمہ تر اور آسان شکار سمجھتی تھیں، افغانی کی یہ کوشش تھی کہ اسلام اور مسلمان اپنی شانِ رفتہ کو پا لیں اور دیگر اقوام عالم کی طرح عزت و بلندی اور شرافت اور عظمت انہیں حاصل ہو۔ امام محمد عبدہ پہلے وہ شخص تھے جن کو اپنے شیخ و مربی کے اغراض سے جانکاری ہوئی، چنانچہ وہ اپنے استاذ کے سیاسی مقصد کے بارے میں کہتے ہیں۔
"آپ کا سیاسی مقصد جس کی خا طر آپ نے سعی و کوشش کی اور اپنی ساری زند گی جس کے لئے وقف کر دی تھی وہ وحدت اسلامی اور اسلامی مملکت کا قیام تھا اور اُن اُسباب کی نشاندہی کرنا جن کی مدد سے یہ ممکن ہو سکتا تھا تاکہ امتِ مسلمہ طاقتور امتوں کے ساتھ کھڑی ہو اور اسلامی مملکت دیگر زور آور ممالک کے شانہ بشانہ ہو سکے۔ اسلام و دین حنیف اپنی شان رفتہ کی طرف لوٹ آئے، اسلامی ممالک میں وہ بر طانیہ کے اثر و رسوخ کو ختم کر نا چاہتے تھے۔ انگریز سے آپ کو ایسی عداوت تھی جس کا بیان کرنا طویل ہے۔"( محمود ابو ریہ: جمال الدین افغانی صفحہ۵۱) 
افغانی ؒ جو حکیم ہونے کے ساتھ ساتھ تہذیب و تمدن کے حقائق سے بھی پوری طرح واقف تھے، کاارادہ کسی ایک ایسے اسلامی ملک کا قیام نہ تھا کہ سارے اسلامی ممالک اس کے تابع ہوں، یہ اپنے آپ میں ایک مشکل امر تھا، کیونکہ حالات ایسے تھے کہ سارے اسلامی ممالک کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنا مشکل تھا۔ سید جمال الدین افغانی ؒ مسلمانوں کو متنبہ کرنے اور اتحاد پر ابھا ر نے کے تعلق سے صراحت کرتے ہیں۔ "میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ تمام ممالک (اسلامی) کا ایک حاکم ہو کیونکہ یہ اگر چہ مشکل ہے لیکن امید کرتا ہوں کہ تمام کا حاکم اعلیٰ قرآن مقدس ہو اور اتحاد کا نقطہ دین اسلام اور ہر ملک کا حاکم اپنی طاقت کے بقدر دوسرے کی حفاظت کی کوشش کر ے اسلئے کہ ایک کی زند گی دوسرے کی زند گی ہے اور ایک کا بقاء دوسرے کا بقاء "بحوالہ(جمال الدین افغانیؒ: العروۃ الوثقیٰ۔ ص۳۵)
 افغانی ؒ اور اسلامی بلاک
تحریک اسلامی اتحاد اُن اہم سیاسی حرکات میں سے ہے جو انیسو یں صدی میں عالم اسلام میں جلوہ گر ہوئیں، اس تحریک ( الجامعہ الا سلامیہ ) نے دور رس اور متاثر کن نتائج چھوڑ ے اور سیاسی شعور اور مذہبی بیداری کو چہا ر دانگ عالم میں پھیلا دیا۔ مسلمان اس کو اپنی و حدت کا ایک ذریعہ سمجھتے تھے اور اجنبی مد اخلت سے مقابلہ کا ایک ہتھیار۔ جب کہ انگریز ( استعماری و سامراجی طاقتیں) اس کو اپنی سلطنت اور اثر و رسوخ کے پھیلائو کے خلاف تصور کرتے تھے، چنانچہ وہ کہتے تھے کہ یہ ایک رجعت پسند تحریک ہے جو پیچھے کی طرف دیکھتی ہے اور اس کے افکار قرون وسطیٰ کے افکار کی عکاسی کرتے ہیں"۔(ماخوذ از کتاب" جمال الدین الا فغانی و اثر ہ فی العالم الاسلامی الحدیث "ص۱۴)
عالم اسلامی پر جو حالات چھائے ہوئے تھے وہ سید جمال الدین افغانی کیلئے پیغام رسانی کے کام آئے اور ان حالات نے لوگوں کو اسلامی وحدت اور اسلام کے سنہر ے دور کیلئے آمادہ کیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی اتحاد کا شعور جاگ اٹھا اور یہ شعور اس حدتک مضبوط ہو ا کہ اس دور میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ سید جمال الدین افغانی ؒ کی دعوت پہلی دعوت نہ تھی، اس سے پہلے بھی اصلاحی ، دینی اور سیاسی حر کات چلتی آرہی تھیں۔ یہ دعوت سابقہ دعوتوں اور حرکات کا ہی ایک طبعی تطور تھا اور ایک ایسی اسلامی بیداری کا سبب جو اسلامی ممالک میں روز افزو ں بڑھتی جا ری تھی۔ اسی لئے بعض مور خین نے افغانی ؒ کو تنظیم اسلامی اتحاد کا منظم کہا ہے نہ کہ موجد و بانی( جمال الدین افغانی و اثر ہ العام اسلامی الحدیث لجد الباسط محمد حسن ، ص۱۶۳)
افغانی اپنے پیش رو مصلحین سے مختلف تھے، سابقین کی اصلاحی حرکات اُن ممالک جن میں اُن کا ( مصلحین) ظہور ہوا تھا تک محدودتھیں جب کہ افغانی نے محدود پیمانہ کو چھوڑ کر سارے عالم اسلامی کو اپنی دعوت و سرگرمی کا میدان بنا یا، سابقہ اصلاحی حرکات یا تو مطلقاً قدیم کی طرف لوٹنے کی جیسا کہ وھابیہ اور سنوسیہ تحاریک میں ہو ا تھا یا پھر مغربی تہذیب و تمدن سے استفادہ کر نے کی داعی تھیں، جس کی مثال ہندوستان میں سر سیدا حمد خانؒ اور ترکی میں مدحت پاشا کی دعوت میں نظر آئی۔ افغانی ؒ نے مختلف چیزوں کو لے کر اسلامی اتحاد کی بات کی اور بتایا کہ بتقا ضائے وقت جس طرح عالم اسلامی دین اسلام کی حقیقت اور اس کے آفاقی پیغام کو سمجھنے کا محتاج ہے، بالکل اسی طرح اُسے مغربی تہذیب و تمدن سے بھی استفاد ہ کی ضرورت ہے۔ افغانی کی تحریک مشرقی اسلامی تحریک تھی جس میں مغرب سے استفادہ مشرق کی وراثت پر ایمان کی شرط کے ساتھ مشروط تھا۔ بحوالہ( السیاستہ و الا ستر تجیتہ فی الشرق الائو س ط، ج ا، ص ۲۸۹، عربی) 
اسلامی اتحاد کی بنیادیں :
دراصل اسلامی اتحاد کا نعرہ اسلامی ممالک کی طرف سے کہیں بھی د شمنانہ کوشش نہ تھی اور نہ ہی یہ مذہبی ونسلی تعصب پر مبنی تھا۔ یہ صرف مغرب کے مشرق پر تسلط کے خلاف قائم اتحاد تھا۔ افغانی ؒ کا خیال تھا کہ عالم اسلامی کا اتحاد تین رابطوں ے ممکن ہو سکتا ہے اور افغانی کی نظر میں یہ تین رابطے، رابطۂ، دین ، رابط ٔ حج اور رابطٔ خلافت کی شکل میں تھے۔
رابطہ ٔ دین:
افغانی ؒ سمجھتے تھے کہ دین و مذہب کا رابطہ اور تعلق ہی اصل رابطہ ہے جس پر اتحاد اسلامی کی بناء قائم ہو سکتی ہے۔ دین اسلام فی نفسہ ایک عالمی بلاک ہے جس نے مسلمانوں میں بھائی چارہ پیدا کیا ہے اور سب کو اپنے فضل سے بھائی بھائی بنایا ہے۔ یہ دین اہل اسلام کو دیگر امم پر فوقیت اور وقار عطا کرتا ہے :’ تمام مسلمان بھائی بھائی ہے‘ اور’ اسلام میں کوئی تعصب نہیں‘ کہہ کر اتحاد اور اتفاق کی دعوت دیتا ہے۔ اس لئے افغانی مذہبی رابطہ کو از سر نوزند ہ کرنا چاہتے تھے تاکہ مسلمان پھر سے اپنے تا بناک ماضی کی طرف لوٹیں اور اپنے مقام خاص پر پھر سے فائز ہوں۔
رابطۂ حج:
سید جمال الدین افغانی ؒ اس عظیم رابطہ کو اتحاد اسلامی و بھائی چارہ کا بنیادی عامل تصور کرتے تھے ، ہر سال چہار دانگ عالم سے مکہ  المکرمہ میں لاکھوں مسلمان جمع ہوتے ہیں جن میں اسلامی احوال و قضایا کے ماہرین بھی وارد ہوتے ہیں جو مسلمانوں کے احوال و کوائف پر تبادلہ فکر بھی کرتے ہیں۔ ان میں شامل تمام خطباء اور و اعظین سے افغانی باہم مر تبط ہونے کے ساتھ سااتھ امت اسلامیہ کو جوڑ نے اور ایک پلیٹ فارم پر لانے کی اپیل کرتے ہیں ،جس اتحاد کا مرکز کعبتہ اللہ ٹھہرے ۔ افغانی ؒ رابطہ بین المسلمین کے لئے حج کی اہمیت و افادیت کو بخوبی جانتے تھے، اسی لئے اتحاد اسلامی کی دعوت کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کے لئے موسم حج پر بہت اعتماد کرتے تھے۔
 رابطہ خلافت:
جمال الدین افغانی ؒ کا خلافت کے تعلق سے یہ ایمان تھا کہ یہی عمل اسلامی دنیا کو یکجا اور متحد کر سکتا ہے۔ مسلمانوں کو اپنے تابناک ماضی سے جوڑ سکتا ہے، ازسر نو خلافت کا احیاء ہی عالم اسلامی کو متحد کرنے کا ایک بڑا ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ افغانی ؒ کہتے ہیں:"ملت ِاسلامیہ ایک جسم کی طرح تھی جس کی بنیاد مضبوط اور مزاج دُرست تھا، پھر کچھ عوارض لاحق ہو گئے جن کی وجہ سے ملت بکھر گئی اور وہ عباسی ، فاطمی اور امومی سلطنتوں میں منقسم ہو گئی، اس طرح امت کی ایکتا ٹوٹ گئی اور خلافت کی عظمت کم ہو کر بادشا ہت تک سمٹ کر رہ گئی۔ 
اسلامی وحدت اور آزادی  کے بارے میں افغانی ؒ کی آراء:
بنیادی چیز درستگی  ٔعقیدہ اور عقلوں کے جمود سے چھٹکار ا پانا ہے، ثانیاً اجنبی مداخلت کا مقابلہ۔ اسلامی ممالک کو یورپ اور مغرب کے اثر و رسوخ خاص کر بر طانیہ کے تسلط اور استعادی طاقتوں کے استبداد سے آزاد کرنا نیز دستوری آزادی کی تنظیم نو۔افغانی ؒ نے اصلاح و بیدار کا ایک فریم تشکیل دیا اور عالم اسلامی کا سنی و شیعہ میں منقسم ہونے کو خطر ناک قرار دیا ہے۔ اسی طرح مذہب و علم کے درمیان ہم آہنگی کی تطبیق۔اس طور پر کہ مذہب علوم و حقائق کی مخالفت نہیں کر سکتا ہے اور اگر کسی طرح مخالفت نظر آئے تو ضروری ہے کہ اس کی مناسب توجیہہ و تاویل ہو ، علمی حقائق قرآن مقدس کے موافق ہوں اور قرآن فہمی بھی علمی حقائق کی مخالفت سے مبرا اور پاک ہو، خاص طور پر کلیات کے باب میں ۔دین اسلام کی ایسی تاویل و تفسیر کی جانی چاہئے جو عصر جدید کے تقاضوں کے مطا بق اور نئی تہذیب و تمد ن کے روح کے موافق ہو۔اجتہاد و تبصیر کے قائل ہونے کے ساتھ ساتھ افغانی ؒ تقلید محض کے مخالف تھے۔ 
افغانی کی تجدید اسلام کی دعوت اسی نہج پر تھی جس طریق پر سابقین مصلحین اور دعاہ چلتے تھے کہ قرآن وحی کا مصدر ہے اور تمام آراء و افکار کا سر چشمہ، آپ کی آراء محمد بن عبدالو ہاب اور سنوسی کے افکار سے زیادہ وسعت رکھتے تھے اور رفاعہ اور خیر الدین کے افکار سے زیا دہ گہرائی ۔ افغانی نے اپنے زمانے میں اجنبی اثر و رسوخ کی تباہ کاری کو اُجاگر کیا ، ہندوستان، الجزائر اور مصر پر غیر ملکی تسلط کو واشگاف کیا ہے۔ افغانی ؒ کو پوری دنیا کو دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ لندن، پیرس، جرمنی اور روس کے فلاسفہ اور حکمرانوں کو قریب سے دیکھنے، مختلف تہذیبوں کو پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ملا تھا۔اس لئے افغانی بخوبی سمجھتے تھے کہ سارا مغرب عالمی اسلام کو ہتھیا نے کے فراق میں ہے۔ افغانی کو دو خطرات سب سے بڑھے ہوئے نظر آتے ہیں جس میں پہلا خطرہ داخلی ہے جو جمود و جبریت کی شکل میں ہے اور دوسرا خارجی یعنی استعمار و الحاد۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے دو امور پر اپنی توجہ مرکوز کی : اولاً: فکر اسلامی کو پر وان چڑھانے کی صورت اس طور پر کہ بد عت کا مقابلہ کیا جائے اور جبر یہ کی سوچ کو اسلامی معاشرہ سے یکسر ختم کر دیا جائے۔ چنانچہ افغانی ؒ نے علماء کی کمزوریوں اور حکام اور امراء کے ظلم کو اُجا گر کیا ۔ اسلام کی حقانیت کو بھر پور انداز میں پیش کیا اور بتایا کہ یہی شفاف اور پاک دین ہے اور اس میں کسی طرح کا کوئی نقص نہیں ہے۔ اس میدان میں خاص کر اُ ن لوگوں کی نشاند ہی فرمائی جو دین و مذہب کا لبادہ اوڑھ کر ایسی چیزوں کو داخل ِ دین ٹھہراتے ہیں جن کا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہو تا ہے۔ اس طرح افغانی ؒ با طنیت اور دہر یت کے ظہور کو مسلمانو ں کے مذہبی انحطاط کا خاص سبب گر دانتے تھے۔ ثانیا: چونکہ استعمار نے الحاد و دھریت کو مسلمانوں میں پھیلانے کی حتی المقدور کوشش کی تھی اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوا تھا۔ اس لئے افغانی ؒ نے تردیداً دین حق ِکی ضرورت کو اور زیادہ شد و مد سے واضح کیا اور انسانی معاشرہ کیلئے اس کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ 
حرف ِ آخر:
سید جمال الدین افغانی ؒ کا منشاء و مقصد تمام ممالک اسلامیہ کو ایک اسلامی بلاک کے طور پر جوڑنا تھا اور ان کے بیچ وحدت و یگانگت ، اتحاد و اتفاق اور اخوت و بھائی چارہ کو فروغ دینا بشمول اُن بلاد غیر اسلامیہ کو اپنے ساتھ لے چلنا جن کو استعماری و سامراجی طاقتیں اپنے زیر ِ اثر کرنا چاہتی تھیں۔ افغانی چاہتے تھے کہ مسلم اُمہ آپسی اختلافات و نزاعات کو چھوڑ کر اپنی ذات، اپنے دین اور اپنی تہذیب و تمدن پر بھروسہ کر کے اور اُ ن تمام علوم جو قدیم صالح و جدید نافع کے زمرے میں آتے ہیں، سے آراستہ و پیراستہ ہو کر اپنی حیثیت کو پہچانے اور اپنی اُس شان رفتہ کو باز یاب کرنے کا عزم مصمم کرلے جو ماضی میں اس کی پہچان اور طاقت ہو ا کرتی تھی، جس کے نتیجے میں وہ خود دیگر اقوام و اُمم میں ممتاز و نمایاں مقام رکھتی تھی اور دوسروں کے لئے بھی باعث خیر ہوا کرتی تھی۔ یہی سید جمال الدین افغانی ؒ کا وہ پیغام عالی تھا جس کے لئے اس عظیم شخصیت کو اللہ پاک نے وجود بخشا اور یہی آپ ؒ کی زند گی کا وہ مقصد جلیل تھا جس کی خاطر جہد مسلسل اور سعیٔ پیہم فرمائی اور اسی خواب کو شر مندئہ تعبیر کرنے کے لئے اپنے نا ز و نعم اور حاکمانہ آرائش و آسائش تک کو قر بان فرما کر مسلم حکمرانوں کے لئے ایک مشعل راہ چھوڑ گئے۔ عصر حاضر میں بکھری ہوئی اُمت مسلمہ کو آج پھر کسی افغانی کا انتظار ہے جو اس کی ڈوبتی نیا کو پار لگائے۔ 
رابطہ 9622282930
 
 بانہال جموں و کشمیر