سید جاوید ہمدانی فوت، راولپنڈی میں سپرد خاک

 میرواعظ، یاسین ملک اور بار ایسوسی ایشن کا خراج عقیدت

 
راولپنڈی//معروف کشمیری تاجر اور مزاحمتی تحریک کے سرگرم رکن سید جاوید ہمدانی کو راولپنڈی کے آئی جی پی روڈ کے نزدیک شاہ قاف قبرستان میں منگل کی دوپہر کو سپرد خاک کیاگیا۔ہمدانی پیر اور منگل کی درمیانی رات کو طویل علالت کے بعد ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی میں انتقال کر گئے ۔ان کے نماز جنازہ میں سماج کے مختلف طبقوں سے وابستہ افرادنے شرکت کی ۔مقامی لوگوں کے علاوہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقیم کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی جن میں معروف حریت لیڈران غلام محمد صفی ،محمود احمد ساگر ،میر طاہر مسعود ،سید یوسف نسیم ،سلیم ہارون،حسن البناء ،الطاف حسین وانی ،الطاف بٹ ،منظور الحق بٹ ،عبدالمجید ملک ،کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر شیخ تجمل اسلام وغیرہ شامل تھے جبکہ جنازہ کی پیشوائی ایک مقامی امام نے کی۔پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی کے سپیکر شاہ غلام قادر بھی اس موقعہ پر موجود تھے ۔مرحوم کی فاتحہ خوانی آج یعنی بدھ کو سیٹلائٹ ٹائون راولپنڈی میں انجام دی جائے گی جبکہ مرحوم ہمدانی کے خاندانی ذرائع کے مطابق سرینگر میں انکے آبائی مکان واقع نابدی پورہ حول میں مرحوم کے برادر اکبر حاجی سید حسین شاہ مکان نمبر55 میں مورخہ31 اگست بروز جمعتہ المبارک کو انکے لئے ایصال ثواب کی خصوصی مجلس آراستہ کی جائیگی جس میں مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائیگا۔سید جاوید ہمدانی اپنی مہمان نوازی کیلئے کشمیری حلقوں میں خاصے مشہور تھے اور انہوںنے اپنی شفقت اور محبت کی وجہ سے کشمیری کمیونٹی میں نام بنایاتھا۔تعزیتی تقریب پر موجود ایک فرد نے کہا’’مہمانوں کو تپاک سے استقبال کرنے کی ان کی خاصیت سے اپنا ئیت کا احسا س ہوتا تھااور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ1990کے بعد کشمیر سے ہجرت کرکے اسلام آباد اورراولپنڈ ی میں مقیم کشمیریوں میں سب سے زیادہ مشہور تھے‘‘۔سیٹلائٹ ٹائون میں ان کا گھر اور صدر میں ان کا پرنٹنگ پریس کشمیریوں کا مسکن تھا ۔وہ اُن چندمہاجر کشمیریوں میں سے ایک تھے جنہوںنے 90کے بعد پاکستان ہجرت کرنے والے کشمیریوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کئے تھے اور وہ اکثرو بیشتر ان کے گھر جایا کرتے تھے۔ہمدانی کے ایک خاندانی دوست نے کہا کہ ’’اپنے وطن سے بے پناہ محبت نے انہیں راولپنڈی میں اپنی تجارت ختم کرکے واپس لوٹنے پر آمادہ کیا جس وطن کو انہوںنے اپنے بچپن میں15سال کی عمر میں چھوڑا تھا۔بارہ سال بعد انہوںنے یہ سخت فیصلہ لیا اور راولپنڈی میں اپنا گھر اور ،صدر میں اپنی پرنٹنگ پریس اور دیگر غیر منقولہ جائیداد فروخت کیں اور کشمیرروانہ ہوگئے جہاں انہوںنے چندایک سال اپنوں کے ساتھ گزارے تاہم وادی میں نا گزیر حالات کی بناء پرانہیں اپنا فیصلہ واپس لیناپڑا اور انہوںنے دوبارہ پاکستان کی راہ لی اور واپس راولپنڈی پہنچ گئے جہاں وہ اب ایک کرایہ کے مکان میں رہتے تھے ۔انہوںنے ایک اچھی زندگی گزاری تھی ۔گوکہ ان کی زندگی کے آخری ایام انتہائی کٹھن گزرے تاہم وہ دوست مرتے دم تک ان کے شانہ بشانہ رہے جن کے ساتھ انہوںنے غم اور خوشیوں میں شرکت کی تھی‘‘۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سید جاوید ہمدانی اپنے دوستوں کے ہمراہ1948میں سرینگر سے پاکستان ہجرت کر گئے تھے۔ان کے والد انکی تلاش میں پاکستان آئے اور کراچی میں ہی انتقال کر گئے ۔مہاجرت کے ابتدائی برسوں میں انہوںنے لاہور ،کراچی اور پشاور سمیت کئی شہروں کے سفر کئے جہاں انہوں نے ایک باعزت زندگی گزارنے کیلئے سخت محنت کی اور سماج میں ایک مقام پالیا۔زندگی کے ابتدائی ایام میں کافی اتار چڑھائو دیکھنے کے بعد وہ راولپنڈی میں اپنا بزنس شروع کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔پنڈی کے صدر علاقہ میں شوکت آرٹ پریس شروع کرنے کے بعد انہیں لوگ جاوید پریس والے سے پکارنے لگے اور اسی نام سے مشہور ہوگئے ۔وہ مہاجر ملت میرواعظ محمد یوسف شاہ کے مرید تھے اور ان کے آخری وقت تک ان کے ساتھ رہے جبکہ ان کی وفات کے بعد ہمدانی کے میرواعظ یوسف شاہ کے فرزند مولو ی محمد احمد کے ساتھ بھی دوستانہ مراسم رہے ۔انہیں بانی پاکستان کے قریبی ساتھی کے ایچ خورشید کی صحبت میں رہنے کا بھی اعزاز حاصل رہا جبکہ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی امان اللہ خان اور دیگر معروف سیاسی شخصیات کے ساتھ بھی ان کے مراسم کسی سے پوشیدہ نہ تھے۔ حریت کانفرنس(ع) چیئرمین میرواعظ محمد عمر فاروق نے سید جاوید ہمدانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے انکی تحریک آزادی کشمیر کے تئیں گرانقدر خدمات اور قربانیوں پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ تعزیتی بیان میں میرواعظ نے کہا کہ مرحوم ہمدانی کشمیر کاز کے ایک سچے اور بے لوث پیروکار تھے اور انہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیر کاز اور کشمیری عوام کو انکے حقوق دلانے میں صرف کی ۔ مرحوم خاندان میرواعظین کے ایک سچے محب اور مہاجر ملت مفسر قرآن میرواعظ مولانا محمد یوسف شاہ کے فرزند مولوی محمد احمد کے قریبی رفیقوں اور ساتھیوں میں سے تھے جنہوں نے سرینگر سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر منتقل ہونے کے بعد کشمیر کاز کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ادھرلبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے سید جاوید ہمدانی کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ مرحوم کو یاد کرتے ہوئے ملک نے کہا کہ موصوف جموں کشمیر کی تحریک آزادی کے ساتھ والہانہ عقیدت رکھتے تھے اور تادم وفات اس کے ساتھ منسلک رہے۔ یاسین ملک نے مرحوم کیلئے مغفرت کی دعا کرتے ہوئے ان کے غم زدہ لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعاکی۔ جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے بھی مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔بار کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ جی این شاہین نے اپنے تعزیتی پیغام میں مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف ایک محب وطن کشمیر ی اور تحریک آزادی کے سرخیل تھے جبکہ کشمیریوں کے غم خوار اور بہی خواہ ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ پایہ کے مہمان نواز تھے ۔انہوںنے پسماندگان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ادھر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے نائب صدر محمود احمد ساغر نے بھی سید جاوید ہمدانی کی وفات پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے پسماندگان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔