سیدنا عمر فاروق ؓکے فضائل

آپؓ کا نام عمر، لقب فاروق اور کنیت ابوحفص تھی۔ والد کا نام خطاب اور والدہ کا نام عنتمہ بنت ہشام بن مغیرہ تھا۔ آپؓ کا تعلق قریش کی ایک شاخ عدی سے تھا۔ آپؓ کا سلسلہ نسب نویں پشت میں حضور ﷺ سے جا ملتا ہے۔ آپ583ء میں پیدا ہوئے۔ عرب کے ماحول میں تربیت حاصل کی۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا شمار مکہ کے ان لوگوں میں ہوتا تھا جو پڑھ لکھ سکتے تھے۔ جب حضور ﷺنے پہلے اسلام کی تبلیغ شروع کی تو حضرت عمرؓ اسکے مخالف تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے آپ ؓنے نبوت کے چھٹے سال ستائیس برس کی عمر میں چالیس مَردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اسی لئے آپکو مرادِ رسول ؐ کہا جاتا ہے۔’’آپؓ کے اسلام لانے پر فرشتوں نے بھی خوشیاں منائی تھیں‘‘ ۔ ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کیلئے سب نے خاموشی سے ہجرت کی، مگر آپؓ کی غیرتِ ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارا نہیںسمجھا۔ آپؓ نے تلوار ہاتھ میں لی، کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا’’تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہو جائے، اس کے بچے یتیم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے‘‘۔ مگر کسی کافر کی ہمت نہ تھی کہ آپؓ کا راستہ روک سکتا۔ رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک دفعہ ارشاد فرمایا کہ ’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، عمرؓجس راستے پر چلتے ہیں شیطان وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے‘‘۔ ہجرت کے بعد حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں رہے۔
فضائل سیدناعمر فاروق ؓقرآن میں:
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر ؓ اسلام لائے تومشرکین نے کہا،آج ہماری طاقت آدھی ہوگئی ۔اس وقت حضرت عمرؓ کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ (ترجمہ) :۔’’اے نبی (ﷺ)آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے اوروہ مسلمان، جنہوں نے آپ کی پیروی اختیارکرلی۔(سورۃ الانفال۔آیت ۔۶۴)۔آپ کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ کسی معاملے میں آپ جو مشورے دیتے یارائے پیش کرتے ،قرآن کریم آپ کی رائے کو موافق نازل ہوتا۔حضرت سیدناعلی ؓ کاارشاد ہے کہ قرآن مجید میں حضرت عمر ؓ کی آراء موجود ہیں، جن کی وحی الٰہی نے تائید فرمائی ہے ۔حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ اگربعض امورمیں لوگوں کے رائے کچھ اورہوتی اورحضرت سیدناعمر فاروق ؓ کی کچھ اور،توقرآن مجید حضرت سیدناعمرفاروق ؓ کی رائے کے موافق نازل ہوتاتھا۔(تاریخ الخلفاء:۱۹۷)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سیدناعمر فاروق ؓ نے فرمایا:’’میرے رب نے تین امورمیں میری موافقت فرمائی ۔مقام ابراہیم ؑ پر نماز کے متعلق ،پردے کے بارے میں اوربدرکے قیدیوں کے معاملے میں ‘‘۔(بخاری ومسلم)محدثین فرماتے ہیں کہ ان تین امورمیں حصرکی وجہ ان کی شہرت ہے ورنہ موافقت کی تعداداس سے زائد ہے ۔حضرت سیدناعمر فاروق ؓ کاارشاد گرامی ہے کہ میرے رب نے مجھ سے اکیس(۲۱)باتوں میں موافقت فرمائی ہے ۔یہاں پر کچھ آیتوں کاذکر کیاجاتاہے کیوں کہ اگرتمام آیتوں کاذکرکیاجائے تویہ مضمون بہت بڑاہوجائے گا۔
حجاب کے احکام سے پہلے حضرت سیدناعمر فاروق ؓ نے عرض کی ،یارسول اللہؐ !ازواجِ مطہرات کے سامنے طرح طرح کے لوگ آتے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُنہیں پردے کاحکم دیجئے ۔اس پر یہ آیت نازل ہوگئی ۔(ترجمہ) :’’اورجب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگوتو پردے کے باہر مانگو‘‘۔(سورۃ الاحزاب۔آیت ۵۳)
ایک بار آپ نے عرض کی،یارسول اللہ ﷺ ! ہم مقام ابراہیم ؑکو مصلیٰ نہ بنالیں؟اس پر یہ آیت نازل ہوگئی ۔(ترجمہ) :’’اورابراہیم ؑ کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بنائو‘‘۔(سورۂ بقرہ۔آیت ۔۱۲۵)
بدرکے قیدیوں کے متعلق بعض نے فدیہ کی رائے دی جب کہ حضرت سیدناعمر فاروق ؓ نے انہیں قتل کرنے کامشورہ دیا۔اس پر آپ کی موافقت میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ترجمہ) :ــ’’اگراللہ ایک بات پہلے لکھ نہ چکاہوتاتواے مسلمانو!تم نے جوکافروں سے بدلے کامال لے لیا،اس میں تم پر بڑاعذاب آتا‘‘۔(سورۃ الانفال۔آیت ۶۸)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کااپنی کنیز حضرت ماریہ قبطیہ ؓکے پاس جانابعض ازواجِ مطہرات کوناگوارلگاتوحضرت سیدناعمر فاروق ؓ نے ان سے فرمایا۔(ترجمہ(:’’اگروہ تمہیں طلاق دے دیں توقریب ہے کہ ان کارب اُنہیں تم سے بہتربیویاں بدل دے‘‘۔(سورۃ التحریم۔آیت ۔۳)بالکل انہی الفاظ کے ساتھ وحی نازل ہوئی ۔
ایک بار ایک شخص نے شراب کے نشہ میں نماز پڑھائی توقرآن غلط پڑھا۔اس پرحضرت سیدناعمر فاروق ؓ نے پھر وہی عرض کی تو یہ آیت نازل ہوئی ۔(ترجمہ) :’’اے ایمان والو!نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جائو‘‘۔(سورۃ النساء۔آیت ۔۴۳)
حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ ؓ پر جب منافقوں نے بہتان لگایاتورسول اللہ ؐ نے حضرت عمر فاروق ؓ سے مشورہ فرمایا۔آپؓ نے عرض کیا،میرے آقا !آپؐ کااُن سے نکاح کس نے کیاتھا؟حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ نے !اس پر آپ ؓ نے عرض کی ،کیاآپ ﷺ یہ خیال کرتے ہیں کہ آپؐ کے ربّ نے آپؐ سے اُن کے عیب کے چھپایاہوگا،بخدایہ عائشہ صدیقہ ؓ پر عظیم بہتان ہے ۔ (سورۂ نور۔آیت ۔۱۶)اسی طرح آیت نازل ہوئی ۔
چند موافقات حضرت سیدناعمر فاروق ؓ
صحیح مسلم میں ہے کہ صحابہ ؓنے نماز کے لیے بُلانے کے متعلق مختلف تجاویز دیں توحضرت سیدناعمر فاروق ؓ نے کہا،ایک آدمی کو مقررکرلوجو نماز کے وقت آواز دے کرلوگوں کو بُلائے ۔حضور ﷺ نے اس تجویز کو پسند فرمایا۔مؤ طاامام مالک میں ہے کہ ایک بارحضرت سیدناعمر فاروق ؓ کونیندسے جگانے کے لیے کسی نے ’’الصلوٰ ۃ خیر من النوم ‘‘کہاتوآپ نے فجرکی اذان میں ان کلمات کوپڑھنے کاحکم دیا۔(مشکوٰۃ )
جنگ ِیمامہ میں جب بہت سے حفاظ صحابہ کرامؓ شہید ہوگئے توحضرت سیدناعمر فاروق ؓ نے خلیفہ ٔ رسول ﷺ حضرت سیدناابوبکرصدیقؓ کی خدمت میں عرض کی ،اگراسی طرح حفاظ شہید ہوتے رہے توکہیں قرآن کی حفاظت کا مسئلہ نہ پیداہو،اس لیے قرآن کتاب کی صورت میں جمع کردیاجائے ۔آپ ؓکے باربار اصرارپر حضرت سیدناابوبکرصدیقؓ اس کام کے لیے راضی ہوئے ۔یوں آپ ؓ کی فراست ودانائی کی وجہ سے قرآن مجیدایک جگہ کتاب کی صورت میں جمع کیاگیا۔(بخاری )
اسی طرح آپ ؓ کے دورِ خلافت کے شروع تک لوگ الگ الگ تراویح پڑھتے تھے ۔آپؓ نے انہیں ایک امام کی اقتداء میں جماعت کی صورت میں تراویح پڑھنے کاحکم دیا۔گویاآج قرآن مجید کاکتابی صورت میں محفوظ ہونا،حفاظ کرام کی کثرت اورقرآن مجید کاصحیح یادرکھنایہ حضرت سیدناعمر فاروق ؓ ہی کی فراست کے صدقے میں ہے ،جنہوں نے قرآن مجید کوکتابی صورت میں جمع کرنے کی اہمیت اُجاگرکی اورتراویح کوباجماعت اداکرنے کاحکم دیا۔
فضائل ِ حضرت سیدناعمر فاروق ؓ احادیث میںحضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بے شک تم سے پہلی اُمتوں میں محدث (صاحب الہام)ہواکرتے تھے۔اگرمیری اُمت میں بھی کوئی محدث ہے توحضرت سیدناعمر فاروق ؓ ہے۔(بخاری)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم سے پہلے لوگوں یعنی بنی اسرائیل میں ایسے لوگ بھی ہواکرتے تھے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام فرمایاجاتاتھاحالانکہ وہ نبی نہ تھے۔اگران میں سے میر ی امت میں بھی کوئی ہے تووہ حضرت سیدناعمر فاروق ؓ ہے ۔(بخاری)
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدناعمر فاروق ؓکی زبان پر حق جاری فرمادیاہے ۔(ترمذی)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے دعافرمائی ،اے اللہ !اسلام کو حضرت سیدناعمر فاروق ؓکے ذریعہ غلبہ عطافرما۔(مستدرک للحاکم)
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت سیدناعمر فاروق ؓایمان لائے توحضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اورعرض کی ،یارسول اللہ ﷺ !آسمان والے حضرت سیدناعمر فاروق ؓکے ایمان لانے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔(ابن ماجہ ،حاکم )
حضرت ابن عمرؓ سے حضرت سیدناعمر فاروق ؓکے بارے میں دریافت کیاگیاتوانہوں نے فرمایا:رسول کریمﷺ کے وصال کے بعد میں نے حضرت سیدناعمر فاروق ؓجیسا نیک اورسخی نہیں دیکھاگویایہ خوبیاں توآپ کی ذات پر ختم ہوگئی تھیں۔(بخاری )
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ اگرحضرت سیدناعمر فاروق ؓکاعلم ترازوکے ایک پلے میں اورتمام اہل ِ دنیاکاعلم ترازوکے دوسرے پلے میں رکھ کرتولاجائے توحضرت سیدناعمر فاروق ؓکاپلہ ہی بھاری رہے گا،کیونکہ علم کے دس حصوں میں سے نوحصے علم آپؓ کودیاگیاہے ۔(طبرانی ،حاکم ،تاریخ الخلفاء:۱۹۵)
حضرت ابوبکرصدیق ؓ سے مرض ُالوصال میں دریافت کیاگیا،اگرآپؓ سے اللہ تعالیٰ یہ دریافت فرمائے کہ تم نے حضرت سیدناعمر فاروق ؓکوکیوں خلیفہ منتخب کیاتوآپؓ اس کاکیاجواب دیں گے ؟فرمایا:میں عرض کروں گاکہ میں نے ان لوگوں پر ان میں سے سب سے بہتر شخص کواپناخلیفہ مقررکیاتھا۔(تاریخ الخلفاء:۱۹۵)
شہادت:سیدنا عمر فاروق ؓ کا معمول تھا کہ نماز کے فرائض خود سرانجام دیا کرتے تھے۔ 26 ذوالحجہ23 ھ کو حضرت عمر فاروق ؓ حسب معمول فجر کی نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ ابولولو نامی مجوسی بھی خنجر چھپائے کھڑا تھا اور موقع ملتے ہی اس ظالم نے امیرالمومنین ؓ کو زہر میں بجھے ہوئے خنجر سے وار کرکے زخمی کردیا۔ مراد رسول ﷺ کے عزم و ہمت کے کیا کہنے کہ زخموں سے چور امیرالمومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے گرتے ہی مصلیٰ امامت حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کے سپرد کیا۔ خون میں لت پت امیرالمومنین ؓ نے اشاروں سے نماز مکمل کی کہ کہیں امامت و خلافت میں حرف نہ آجائے۔ نماز کے بعد آپؓ نے پہلا سوال یہ کیا کہ میرا قاتل کون ہے؟ معلوم ہوا کہ وہ غیر مسلم ہے تو آپ ؓ نے بلند آواز سے کہا الحمدللہ۔گویا امیرالمومنینؓ کی شہادت کی خواہش پوری ہونے کا وقت آگیا۔ فاروق اعظم ؓ کو یقین ہوگیا کہ میری خواہش ضرور پوری ہوگی۔آپؓ یکم محرم الحرام کو 63 برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں شہادت پاگئے۔ آپؓ کی تدفین حضرت عائشہ ؓ کی اجازت سے حضور ﷺ کے پہلو میں ہوئی۔ آپؓ کی نماز جنازہ حضرت صُہیب ؓ نے پڑھائی۔
 ۔موبائیل نمبر:۔8977864279