سیاسی کارکنوں کی سیکورٹی ہٹانے پر برہمی

سرینگر// بی جے پی کے ریاستی جنرل سیکریٹری اشوک کول نے دھمکی دی کہ جب تک انکے ساتھیوں کو سیکورٹی نہیں دی جاتی وہ اپنی خود ’ کی’سیکورٹی کو سرنڈر‘‘ کریں گے۔ جنوبی کشمیر کے ویری ناگ علاقے میں گزشتہ دنوں نامعلوم بندوق برداراروں کی طرف سے ہلاک کئے گئے بھاجپا لیڈ گل محمد کی ہلاکت پر سیاسی جماعتوں کے مابین شروع ہوئی بحث کے بیچ ہی سرینگر کی پریس کالونی میں بے جے پی لیڈروں اور کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کے ان افرد کو سیکورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا،جن کی سیکورٹی واپس لی گئی۔ بے جے پی کارکن اور لیڈران پارٹی کے جنرل سیکریٹری اشوک کول کی قیادت میں منگل کو ہلاکتوں کے خلاف  نعرہ بازی کی۔اس موقعہ پر پارٹی کے جنرل سیکریٹری اشوک کمار کول نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکار نے جن افراد کی سیکورٹی واپس لینے کا فیصلہ لیا،اس پر غور کیا جانا چاہے۔کول نے مزاحمتی لیڈروں کا نام لئے بغیرکہا’’ہم ان لوگوں کی سیکورٹی واپس لینے کے خلاف نہیں ہے،جو ٹھیک کام نہیں کرتے،تاہم جو لوگوں میں پہنچ کر انکے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں،انکی سیکورٹی واپس دی جانی چاہے۔‘‘ اشوک کول نے دھمکی دی کہ جب تک انکے ساتھیوں اور دیگر جماعتوں کے لیڈروں کو سیکورٹی نہیں دی جاتی وہ خود اپنی سیکورٹی بھی سرنڈر کریں گے۔اس موقعہ پر ان کے ہمراہ ایم ایل سی سریندر امبردار،ریاستی ترجمان الطاف احمد ٹھوکر اور دیگر لوگ بھی موجود تھے۔اس  دوران اشوک کول نے  سیکورٹی وینگ کے ایڈیشنل ڈیریکٹر جنرل آف پولیس کے نام ایک مکتوب روانہ کیا،جس میں انہیں سیکورٹی کی خود سپردگی کے بارے میں مطلع کیا گیا۔ اشوک کول نے جو مکتوب ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے نام روانہ کیا گیا ہے،اس میں مزید کہا گیا ہے ’’ جمہوریت پرہمارا یقین زمینی سطح پر ہے،اور اسکی بنیاد محفوظ اور پرامن ماحول تیار کرنا ہے،اور یہ تب ہی مکن ہے جب ہماری کارکن محفوظ رہے گے۔‘‘ بھاجپا کے جنرل سیکریٹری نے مکتوب میں مطلع کیا ہے کہ جب تک انکے سیاسی کارکنوں کو سیکورٹی فرہم نہیں کی جاتی،تب تک وہ پارٹی کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے وہ اپنی سیکورٹی کی بھی خود سپردگی کریں گے۔