سیاسی و انتظامی عدم توجہی کا شکار علاقہ کنتواڑہ بنیادی سہولیات سے محروم

کشتواڑ//ضلع کشتواڑکی تحصیل درابشالہ کے دورافتادہ علاقہ کنتواڑہ کی عوام دور جدید میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے اور آزادی کے 75سال کے بعد بھی عوام بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔ سات ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل آبادی والے اس علاقہ کی عوام آج بھی بنیادی سہولیات کیلئے در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ اس علاقہ کو سیاسی جماعتوں نے بھی صرف ووٹ کیلئے ہی استعمال کیا اور وقتاً فوقتاً ان سے بہتر سہولیات کے وعدے کیے جاتے رہے لیکن آج تک عملی جامہ نہ پہنایا جاسکا۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انھوں نے اپنی دکھ بھری داستانیں ہر کسی کو بیان کیں لیکن نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر انھیں کوئی نہیں سنتا۔ انہوںنے کہا کہ جہاں وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ نے باضابطہ طور اعلان کیا تھا کہ علاقہ کنتواڑہ کو مرکزی حکومت کے تحت اپنایاجائے گا لیکن 7 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک ایسا نہ ہوسکاجس کے سبب علاقہ کی عوام میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ21 صدی میں بھی کنتواڑہ علاقے کے لوگ بالکل قدیم دور کی طرح ہی زندگی بسر کر رہے ہیںجبکہ سبھی نے اس علاقہ کو نظراندازکیا ہوا ہے۔مقامی نوجوان کلدیپ کمار نے بتایاکہ آج تک علاقہ سڑک رابطے سے محروم ہے۔انکا کہناتھاکہ اگرچہ گزشتہ دس سال سے سڑک کی تعمیر کا کام چل رہا ہے لیکن آج تک ایک کلومیٹر سڑک بھی تعمیر نہ ہوسکی جسے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح سے انتظامیہ علاقہ کی تعمیر و ترقی کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں امید تھی کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد اب تعمیر و ترقی ہوگی اور علاقہ کیلئے سڑک کی تعمیر جلد مکمل ہوجائے گی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔سورم سنگھ نے بتایا کہ علاقہ میں اگر کوئی شخص زیادہ بیمار ہوتا ہے تو اسے مزید علاج و معالجے کیلئے ضلع ہسپتال منتقل کرنا پڑتاہے جبکہ  علاقہ میں طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ علاقہ پہاڑی پر واقع ہے اور پیدل پہنچنے میں 6-7 گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔انھوں نے انتظامیہ سے  مانگ کی کہ علاقہ میں بہتر طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ مریضوں کا بروقت علاج ممکن ہوسکے جبکہ سڑک کی تعمیر کے کام میں سرعت لائی جانی چاہئے تاکہ سڑک جلدمکمل کی ہوسکے۔ان کاکہناتھاکہ علاقہ میں تعلیمی نظام کا حال بھی بے حال ہے، جہاں عمارتوں ، تدریسی عملے   و دیگر سہولیات کا فقدان ہے۔سماجی کارکن نے بتایا کہ علاقہ کی عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے کبھی نبھائے نہ گئے جسکے سبب اس علاقہ کی  عوام آج بھی قدیم انسانوں کی زندگی گزارنے پر مجبورہے۔ انھوں نے ملک کے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ جلد از جلد کنتواڑہ کے دورافتادہ علاقہ کو جلد از جلد اپنایا جائے تاکہ غریب عوام کی ہر ممکن مدد ہوسکے اور انکے ساتھ کئے گئے وعدے پورے ہوں۔