سیاسی وسماجی تنظیموں کی کال پر گول میں مکمل بنداور احتجاج تمام کاروباری ادارے بند رہے ،انتظامیہ پر سب ڈویژن گول کو نظر انداز کرنے کا الزام

زاہدبشیر

گول// سب ڈویژن گول میں لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے گول کومبینہ طورنظرانداز کرنے پر گول میں تمام کاروباری ادارے بند رہے جبکہ لوگوںنے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔بند کال یہاں کی مختلف سماجی سیاسی و غیر سیاسی اور تجارتی انجمنوں کی جانب سے دی گئی تھی بند کی کال کامقصد حکومت کو یہ باور کرانا تھا کہ سب ڈویژن گول میں سرکاری دفاتر میں لگ بھگ سبھی آفیسران کی کرسیاں خالی پڑی ہیں اور ان کو فوراً پر کیا جائے علاوہ ازیں تمام تعمیری منصوبوں پرکام بندپڑاہواہے اور زمینی سطح پرکوئی کم نہیں ہورہاہے۔ احتجاج میں شریک لوگوں کا کہنا تھا کہ بہت بڑے دعوے ہو رہے ہیں کہ ایل جی نتظامیہ میں ترقیاتی کام بہت تیزی کے ساتھ ہو رہے ہیں اور جموں کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور سبھی گورنمنٹ محکموں میں لوگوں کے کام تیزی سے ہو رہے ہیں لیکن گول میں جب محکموں میں آفیسران کی کرسیاں خالی ہیں تو پھر لوگوں کے کام کیسے ہوں گے؟ ۔ احتجاج پر بیٹھے لوگوں نے کہا کہ اگر لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے سب ڈویژن گول کی عوام کے مطالبات کو دس دنوں تک حل نہیں کیا تو یہاں کی عوام غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر بیٹھیں گے جس کی ذمہ داری پوری طرح سے انتظامیہ پرعائدہو گی۔ اسی دوران تحصیل دار گول راکیش شرما، ایس ایچ او گول نظیر احمد کے ہمراہ احتجاج پر بیٹھے لوگوں سے ملے اور کہا کہ لوگوں کے سارے مطالبات جائز ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے جائز مطالبات کو پہلے سے ہی اعلیٰ حکام تک پہنچایا گیا ہے اور امید ہے کہ مطالبات کچھ ہی دنوں میں حل ہوں گے ۔