سیاسی مسئلہ کو سیاسی طور حل کرنے کی ضرورت

سرینگر//نیشنل کانفرنس نے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ زمینی حقائق تسلیم کرے اور مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کیلئے ٹھوس اور کارگر اقدامات اُٹھائے تاکہ خطے میں دیر پا امن کا قائم ہوسکے۔مسئلہ کشمیر امن و قانون کی صورتحال کا مسئلہ اور نہ ہی کوئی اقتصادی مسئلہ، یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی طور پر حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس معاون جنرل ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کل پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ وزیر اعظم پیکیج کی عمل آوری کو کشمیر میں بہہ رہے عام لوگوں کے خون سے ترجیح دی جارہی ہے۔ مرکزی پروجیکٹوں کا جائزہ لینے کیلئے مرکزی سے بڑے بڑے عہدیدار سرینگر آرہے ہیں لیکن کشمیریوں کو جس اصل مسئلے کا سامنا ہے اُس کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی پیکیجوں اور پروجیکٹوں سے نہ ماضی میں یہاں امن لوٹ آیا ہے اور نہ مستقبل میں آئے گا۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ جتنی توجہ وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کو دی جارہی ہے اگر اتنی ہی توجہ کشمیر کے حالات پر دی جائے تو مسئلہ کب کا حل ہوگیا ہوتا۔مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اورمرکزی سرکار کو اس مسئلے کے سیاسی حل کیلئے پہلی کرنی چاہئے تاکہ یہاں کے لوگوں کو چین کی زندگی میسر ہوسکے۔ ڈاکٹر کمال نے کہاکہ ریاستی حکومت نے عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جبکہ مرکزی سرکار خصوصاً وزیر اعظم خاموش تماشائی کا رول ادا کررہی ہے۔ امن و قانون کی صورتحال سے نمٹنے میں ربط و ضبط اور SOPکو بالائے طاق رکھ کر لوگوں کی زندگیوں کیساتھ کھلواڑ کیا جارہاہے۔ انہوں نے پیلٹ گن کے بے تحاشہ استعمال پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہتھیار گذشتہ 2سال سے انتہائی مہلک اور جان لیوا ثابت ہوا ہے اور اس ہتھیار کے بلا جواز استعمال کی خبریں بھی آئے روز موصول ہورہی ہیں۔ ڈاکٹر کمال نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت وادی کی موجودہ بے چینی کو امن و قانون کی صورتحال اور مسئلہ کشمیر کو اقتصادی مسئلے تعبیر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر امن و قانون کا مسئلہ نہیں اور نہ ہی یہ مسئلہ اقتصادی اور روزگار پیکیجوں سے حل ہوسکتا ہے۔ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی طور پر حل کرنا لازمی ہے۔