سیاسی جماعتوں کی وعدہ خلافیوں کی وجہ سے ہی کشمیر میں حالات خراب ہوئے :حکیم یاسین

جموں//پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیرمین حکیم محمد یاسین نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کیچڑ اُچھالنے کے بجائے یک جُٹ ہو کر ریاستی عوام کو خونریزی اور تباہی وبربادی کے دلدل سے باہر نکالنے کی طرف اپنی توجہ مرکوز کریں۔ایک بیان میں حکیم یا سین نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر تاریخ کے ایک نازک ترین دور سے گزر رہی ہے جہاں ہر ایک سیاسی جماعت کو اپنے ذاتی مفادات کو چھوڑ کر ریاستی عوام کو خونریزی اور بربادی کے دلدل سے باہر نکالنے کے لئے بے لوث طریقے پر کا م کرنا چاہئے۔انہوںنے کہا کہ ریاست خاص کر کشمیر میں سیاستی عدم استحکام اور اقتصادی اور انتظامی بدحالی کے لئے ہر وہ سیاستی جماعت برابر کی ذمہ دار ہے جو 1947سے لیکر آج تک ریاست کی سیاست سے وابستہ رہی ہے اور ریاست کی موجودہ سیاستی صورت حال کے لئے ہر ایک جماعت برابرکے شریک ہے خواہ دانستہ یا غیر دانستہ طور ،اسلئے ایک دوسرے کے خلاف کیچڑ اچھالنے کے بجائے بہتر یہی ہے کہ اپنی سرزد ہوئی غلطیوں اور کوتا ہیوں کے لئے عوام سے معافی مانگیںاور اُن کو درپیش مشکلات اور مصائب کے چنگل سے نجات دلانے کیلئے ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں ۔حکیم یاسین نے کہا کہ ماضی میں جو بھی سیاسی جماعتیں ریاست میں بر سر اقتدار آئی، انہوںنے ہمیشہ حقیر مفادات کیلئے عوامی منڈیٹ کا غلط استعمال کیا ہے جس سے لوگوں میں سیاست سے پورا اعتبار ختم ہو گیا ہے اور وہ غیر یقینیت کے بھنور میں پھنس گئے ہیں جہاں اب باہر نکلنے کی کوئی صورتحال دکھائی نہیں دے رہی ۔انہوںنے کہا کہ ریاست میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ہی یہاں کے نوجوان بغاوت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔پی ڈی ایف چیر مین نے کہا کہ وہی سیاسی جماعتیں ریاست بالخصوص کشمیر میںحالات بگاڑنے کے ذمہ دار ہیں جنہوںنے عوام کے ساتھ بار بار وعدہ خلافیاں کی اور اپنے ذاتی مفادات اور سیاسی فائدوں کیلئے عوامی منڈیٹ کے ساتھ دغابازی کی ۔انہوںنے کہا کہ یہ سیاسی جماعتیں جب اقتدار سے باہر آجاتی ہیں تو لوگوں کو آسمان کے ستارے اور بڑے بڑے خواب دکھاتی ہیں مگر اقتدار کی کرسی ملتے ہی عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے بھول جاتی ہیں اور اپنے مرکزی آقائوں کو خوش رکھنے کیلئے لوگوں کے جذبات اور احساسات کو پائوں تلے روندھتی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ وادی میں موجودہ سیاسی ، سماجی و اقتصادی نیز استحکامی حالات کی ذمہ دار بھی یہی خود غرض اور موقع پرست سیاسی جماعتیں ہیں اور انہیں آج نہ کل ضرور عوام کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا۔حکیم یاسین نے کہا کہ لوگوں کو کبھی ریاست میں رائے شماری کروانے کے وعدے کئے گئے اور پھر حقیر سیاسی مفادات کیلئے اس عوامی تحریک کو 30برسوں کی سیاسی آوار گی کا نام دیا تو کبھی ریاست کو اندرونی خود مختاری بحال کروانے کے میٹھے میٹھے خواب دلائے گئے لیکن لوگوں کا منڈیٹ ملنے کے بعد اس اہم وعدے کو نہ صرف بھول گئے بلکہ دوسری جماعتوں کی طرف سے اس سلسلے میںکئی گئی پہل کو سبوتاژ کیا،انہی جماعتوں نے اپنے دور اقتدار میں دفعہ 370کو ریاستی آئین میں مختلف مراحل پر ترامیم کرکے بار بار کھوکھلا کیااور آج پھر یہی لوگ دفعہ 35-Aکو تحفظ دینے کا وعدہ کرکے لوگوں سے منڈیٹ مانگ رہی ہیں ۔