سیاسی انتشار اور انتظامی خلفشار سے لوگوں کا جینا محال نیشنل کانفرنسی صفوں کی مضبوطی سے دشمن کے حربے ناکام: کمال

سرینگر//جموں وکشمیر کے عوام کواس وقت زبردست اور گوناگوں مشکلات کاسامناہیں۔ ہر ایک طبقہ کے لوگوں کو پہاڑ جیسے مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہیں، سیاسی انتشار اور انتظامی خلفشار نے زمینی سطح پر لوگوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ ان باتوں کا اظہارِ نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں کہا کہ جموں وکشمیر کے لو گ اس وقت نہ صرف روزمرہ کی ضروریات کے مسائل سے دوچار ہیں بلکہ سیاسی طور پر بھی ہمیں ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ آئے روز کشمیریوں کی آواز (نیشنل کانفرنس) کو کمزور کرنے کیلئے نت نئے حربے اپنائے جارہے ہیں۔ ہمارے دشمنوں نے اس مقصد کیلئے شاطر اور موقعہ پرست سیاستدانوں کو کام پر لگادیا ہے لیکن نیشنل کانفرنس کی صفوں کی مضبوطی سے ان کے تمام حربے ناکام ثابت ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکلات سے بھرے اس دور میں نیشنل کانفرنس صرف اس لئے ثابت قدم ،پُرعزم اور رواں دواں ہے کیونکہ اس جماعت کو یہاں کے عوام کی بے پناہ حمایت حاصل ہے۔ ڈاکٹر کمال نے پارٹی لیڈران، عہدیداران اور کارکنان پر زور دیا کہ وہ موجودہ دور میں دشمنوں کی چالوں سے ہوشیار رہیں اور سوچ سمجھ کر چلیں۔ کشمیرمیں موجود فرقہ پرستوں کی پراکسی جماعتوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنے آقائوں کو خوش کرنے کیلئے کشمیریوں کے مفادات، احساسات اور جذبات کو روند رہے ہیں اور اپنے حقیر مفادات کیلئے یہاںکے عوام کے حقوق کا سودا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور آزمائشوں اور امتحانات سے بھر ہوا ہے اور ایسے میں ہمیں ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔