سیاستدانوں و بیروکریٹوں کی رہائش گاہوں کا کروڑوں روپے کا بجلی فیس بقایا | محکمہ ایسٹیٹس 590کروڑ کا مقروض، محکمہ سیاحت کے ذمہ34کروڑ واجب الادا

سرینگر// سیاست دانوں اوربیروکریٹوں کے علاوہ دیگر سرکاری افسران کے زیر استعمال سرکاری رہائش گاہوں کا کروڑوں روپے کا بجلی فیس واجب الادا ہے اور محکمہ ایسٹیس محکمہ بجلی کا قریب 590کروڑ روپے کا مقروض ہے۔ سرکاری دفاتر اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں ہی نہیں بلکہ سیاست دانوں اور سرکاری افسران کے ذمہ بھی کروروں روپے کا بجلی فیس بقایا ہے۔فی الوقت محکمہ اسٹیٹس، جو سیاستدانوں اور سرکاری افسران کو سرکاری رہائش گاہیں فراہم کرتا ہے ، کے ذمہ بجلی فیس کی مد میں 587 کروڑ55لاکھ روپے واجب الاداہے۔ حق اطلاعات کے تحت فراہم کی گئی معلومات میں کہا گیا ہے کہ محکمہ ایسٹیٹس راجباغ کو220کروڑ94لاکھ روپے کا بجلی فیس جہاں ادا کرنا باقی ہے وہی محکمہ ایسٹیٹس کے شیخ باغ دفتر کو 130 کروڑ 86لاکھ روپے، کرن نگر دفتر کو 128کروڈ53لاکھ روپے اور حضوری باغ آفس کو 58 کروڑ52 لاکھ روپے کا فیس ادا کرنا ہے۔ ان معلومات میں مزید کہا گیا ہے کہ محکمہ ایسٹیٹس ڈلگیٹ آفس کو24 کروڑ 72 لاکھ روپے، کھنموہ کو16کروڑ74لاکھ روپے، ایسٹیٹس واتل کدل دفتر کو ایک کروڑ 62 لاکھ اور چھانہ پورہ آفس کے زمہ 24 لاکھ 72ہزار روپے بجلی فیس بقایا ہے۔ضلع سرینگر میں ہی نہیں بلکہ دیگر اضلاع میں بھی محکمہ ایسٹیٹس کی جانب سے فراہم کردہ دفتری و رہائشی سہولیات کیلئے درکار برقی رئو میں بجلی فیس واجب الاداہے۔ دستاویزات کے مطابق ایسٹیٹس محکمہ،کنگن دفتر کو ایک کروڑ 23لاکھ روپے، محکمہ ایسٹیٹس پلوامہ دفتر کو ایک کروڑ16لاکھ روپے اور بانڈی پورہ دفتر کو2کروڑ75لاکھ روپے کی ادائیگی کرنا باقی ہے۔ دستاویزات کے مطابق محکمہ ریلوئے بھی محکمہ بجلی کا5کروڑ83 لاکھ روپے کا مقروض ہے،جبکہ محکمہ مال و ریلیف کو9کروڑ29لاکھ روپے کی رقم ادا کرنی ہے۔ محکمہ سیاحت کو34کروڑ35لاکھ،ٹرانسپورٹ کو3کروڑ79لاکھ، محکمہ سماجی بہبود کو2کروڑ12لاکھ،محکمہ فنی تعلیم و کھیل کود کو4کروڑ60لاکھ کے علاوہ درجنوں محکمے اس فہرست میں شامل ہے،جن کو لاکھوں روپے کا بجلی فیس بقایا ہے۔