! سیاحت کا شعبہ پٹری پر آنے لگا

نیوز ڈیسک
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے دور روز قبل ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے موجودہ سیاحتی سیزن کو کشمیر کی سیاحتی تاریخ کا سنہرا دور قرار دیکر کہا کہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران 80 لاکھ سیاحوں نے جموں وکشمیر کی سیر کی ہے جس سے گذشتہ بیس برسوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔انہوں نے کہا کہ آج یہاں کے تمام ہوٹلوں کی بکنگ ہوئی ہے اور ملک کی باقی ریاستوں کے لوگوں کو سری نگر کی ہوائی ٹکٹ ملنا مشکل بن گیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر کا اظہار مسرت یونہی نہیں ہے بلکہ حقیقت یہی ہے کہ کشمیر میں اس وقت سیاحتی سیزن جوبن پر ہے اوراپنے منفرد قدرتی حسن و جمال کے لئے دنیا بھر میں مشہور وادی کشمیر میں سال رواں کے ابتدائی مہینوں کے دوران سیاحوں کی ریکارڈ ساز آمد درج کی جا رہی ہے۔صرف گزشتہ ماہ یعنی مارچ میں قریب 2لاکھ ملکی و غیر ملکی سیاح وادی کے حسین نظاروں سے محظوظ ہوئے ہیں جو گذشتہ ایک دہائی کے  دوران ایک ریکارڈ ہے۔سیاحوں کی تعداد میں درج ہو رہے غیر معمولی اضافے کے پیش نظر سری نگر ہوائی اڈے پر روزانہ قریب 92 پروازیں آپریٹ کر رہی ہیں جن میں روز آٹھ سے نو ہزار سیاح وارد وادی ہوجاتے ہیں۔ سری نگر اور وادی کے سیاحتی مقامات جیسے گلمرگ، پہلگام وغیرہ میں ہوٹلوں کے تمام کمروں کی بکنگ ہوئی ہے جبکہ دیگر گیسٹ ہاؤسز اور ہاؤس بوٹس بھی گنجائش کے مطابق بھرے ہوئے ہیں۔محکمہ سیاحت کے مطابق رواں سیزن کے دوران اب تک زائد از تین لاکھ سیاح وارد وادی ہو کر یہاں کے دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہوئے ہیں ۔محکمہ کے مطابق گذشتہ دس برسوں میں پہلی بار امسال سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد وارد وادی ہوئی ہے۔سیاحوں کی ریکارڈ آمد کا اندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتا ہے کہ رواں ماہ کے پہلے ہفتہ میں ہی 60ہزار سے زائد سیاح وادی کی سیر کو پہنچ گئے۔آج کل آپ کشمیر کے کسی بھی سیاحتی مقام کا رخ کریں ،آپ کو وہاں رونق ملے گی اور ہر جگہ آپ کوچہل پہل دیکھنے کو ملے گی ۔تین برسوں کے وقفہ کے بعد جس طرح صحت افزاء مقام کشمیر میں رونقیں لوٹ آئی ہیں،اُس سے سیاحتی شعبہ سے وابستہ لوگوں کے چہرے بھی کھل اٹھے ہیں اور ہوٹل مالکان سے لیکر ہائوس بوٹ اور شکارا مالکان اور ٹرانسپورٹر شادماں ہیں جبکہ کشمیر آرٹ سے جڑے لوگ بھی خوشی سے جھوم رہے ہیں کیونکہ تین سالہ مندی نے ان سبھی شعبوں سے وابستہ لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی ۔ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ کشمیر کی سیاحت میں اچانک یہ اچھال یونہی نہیں ہوا بلکہ اس کیلئے ایک مسلسل مہم چلائی گئی جو نہ صرف ملک کے تمام بڑے شہروں میں چلائی گئی بلکہ بیرون ممالک بھی تشہیری مہم وسیع پیمانے پر چلائی گئی اور مرکزی حکومت نے بھی کشمیر کو سیاحتی مقام پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر پراموٹ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔یہ انہی مشترکہ کوششوںکا نتیجہ ہے کہ آج کشمیر کا سیاحتی شعبہ پٹری پر لوٹ چکا ہے تاہم اس رجحان کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔متعلقہ حکام نے اپنا کام کردیا ۔اب جموں وکشمیر کے شہریوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس محنت کو رائیگاں نہ ہونے دیں اور قیام امن میں اپنا کلیدی رول ادا کرکے اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہاں امن وامان رہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح کشمیر کی سیاحت پر آسکیں۔منفی پروپگنڈا کا زور ختم ہوچکا ہے اور باہر کے لوگ سمجھ چکے ہیں کہ جیسا دکھایا اور سنایا جارہا تھا ،کشمیر ویسا نہیںہے بلکہ کشمیر کا ذرہ ذررہ مہمان نواز ہے اور یہاں کی ہوائوں میں ایسی تازگی ہے جو دلوں کو مسحور کرکے رکھ دیتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ملک کے کونے کونے سے آج لوگ کشمیر وارد ہورہے ہیں تاہم جموںوکشمیر کے عوام کو اپنی روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے رہنا ہوگا اور سیاحوں کا باہیں کھول کر کشمیر کی سرزمین پر استقبال کرنا ہوگا تاکہ یہاں آنے والا ہر سیاح ایک مثبت پیغام لیکر واپس چلا جائے ۔اگر ایک سیاح خوش گوار یادیں لیکر واپس چلاجاتا ہے تو وہ ہمارا سفیر بن جاتا ہے اور وہ آگے کشمیر کی تشہیر خود کر دیتا ہے ۔اسی لئے ہمارا رویہ ایسا ہونا چاہئے کہ ہم اپنے لئے زیادہ سے زیاد ہ سفیر پیدا کریں جو کشمیر کو مارکیٹ کریںگے اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ کشمیر خوشحالی کے راستے پر گامزن ہوگا۔ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ کشمیر کی معیشت بالواسطہ یا بلاواسطہ شعبہ سیاحت پر منحصر ہے اور اگر یہی شعبہ نڈھا ل رہے تو معیشت کا منجمد ہونا طے ہے اور اگر یہ شعبہ چل پڑے تو معیشت کا پہیہ بھی نہیں رکنے والا ہے ۔اس صورتحال میں ہم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم سیاحت کیلئے موافق ماحول دستیاب رکھیں اور اُن عناصر کو ناکام بنائیں جو قیام امن کے دشمن ہیں اور جو نہیں چاہتے کہ کشمیر میں سیاحت کا شعبہ چل پڑے اور کشمیری معیشت ترقی کی را ہ پر گامزن ہو۔ایک دفعہ یہ کام ہوگیا تو جموںوکشمیر کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے سے کوئی نہیں روک سکتاہے لیکن یہ سب عوام کی شراکت کے بغیر قطعی ممکن نہیںہے۔