سیاحت ، ماحولیات اور پائیدار ترقی

گاندربل//شعبہ سیاحت کے زیر اہتمام سنٹرل یونیورسٹی کشمیر نے ہمالیہ ویلفیئر آرگنائزیشن پہلگام کے تعاون سے گرین کیمپس گاندربل میں”سیاحت ، ماحولیات اور پائیدار ترقی“ کے موضوع پر ایک روزہ سمینار کا انعقاد کیا۔سمینار سے خطاب کرتے ہوئے سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کے وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین میر نے کہا کہ اللہ نے جموں وکشمیر کو بے شمار وسائل سے نوازا ہے جس کی وجہ سے اس میں سیاحت کی بہت صلاحیت ہے لیکن ماحول اور سیاحت کے مابین ایک توازن قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے ، جو پائیدار حکمت عملی کے ذریعہ ممکن ہے۔کوئی بھی ترقی یافتہ ممالک سے رہنمائی حاصل کرسکتا ہے کہ وہ پائیدار اقدامات کے ذریعے کس طرح سیاحت کو ترقی دے رہے ہیں۔شعبہ اسکول آف مینجمنٹ اسٹڈیز کے سربراہ پروفیسر فاروق احمد شاہ نے کشمیر کی معیشت میں سیاحت کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالی اور کشمیر میں پائیدار سیاحت کی بحالی اور ترقی کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔آئی آئی ٹی ایم گوالیار کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر سندیپ کلشیسترا نے عالمی سیاحت میں درپیش مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے تجربہ کار سیاحت اور خطے میں قائم پائیدار سیاحت کی ترقی پر زور دیا۔ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس اینڈ ہینڈلوم محمود شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر میں سیاحت کو درپیش مسائل اور چیلنجوں کے بارے میں ایک تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پائیدار ٹھوس اقدامات کی اہم ضرورت ہے جو کشمیر میں سیاحت اور ماحولیات کی پائیدار ترقی کے لئے معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا ”اگر کشمیر میں سیاحت کو انصاف کے ساتھ فروغ دیا جائے گا تو اس سے جموں و کشمیر کی معاشی نمو کو ایک بہت بڑی قوت ملے گی۔سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کے فائنانس آفیسر پروفیسر فیاض احمد نکہ نے سیاحت کے ایسے اجزاءکے بارے میں بھی غور کیا جو معاشرے اور آئندہ نسل کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ہمالیہ ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر مشتاق احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی تنظیم سیاحت اور ماحولیات کی پائیدار ترقی میں کس طرح اپنا کردار ادا کررہی ہے اور نہ صرف کشمیر بلکہ بیرونی ممالک میں بھی تقریبات کا انعقاد کرکے معاشرے کو حساس بنارہی ہے۔سمینار کے دوسرے سیشن کی سربراہی شعبہ مینجمنٹ اسٹڈیز کے سربراہ پروفیسر عبد الغنی نے کی جس دوران بہت سے ماہر تعلیم اور صنعت کے ماہرین نے اس موضوع پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اپنے صدارتی خطبہ میں پروفیسر عبدالغنی نے کہا کہ ” ضرورت اور لالچ “ کے مابین توازن پیدا کرنے کے لئے ایک بہتر طریقہ کار کے استعمال کی ضرورت پر زور دیا. انہوں نے مزید کہا کہ قدرت ہماری ضرورت کے لئے کافی ہے ، لیکن ہمارے اندر کی لالچ کے لئے نہیں ہے۔قبل ازیں اپنے استقبالیہ خطبہ میں کوآرڈی نیٹر ڈی ٹی ایس ، ڈاکٹر رامجیت نے پائیدار سیاحت اور ماحولیات کی ترقی میں متعلقین کے اہم کردار پر غور کیا۔سمینار کے دوران فیکلٹی ممبران اور مختلف شعبوں میں زیر تعلیم طلباءبھی موجود تھے۔