سہل اور عام فہم زبان

 
کوئی بھی قلم کار جب اپنی بات لکھنے بیٹھتا ہے تو وہ سب سے پہلے زبان کا انتخاب کرتا ہے کیوں کہ زبان ہی وہ واحد وصیلہ ہے، جسے ہم اپنی بات ایک دوسرے تک پہنچانے میں کامیاب ہوجاتےہیں۔ اب جب ایک قلم کار کوئی تحریر رقم کرتا ہے تو وہ ایسی زبان کا استعمال کرتا ہے جو عام فہم ہو، تاکہ اس عام فہم زبان کو زیادہ سے زیادہ لوگ سمجھ پائیں اور بات بھی زیادہ لوگوں تک پہنچ جائے تاکہ لکھنے کا مقصد پورا ہوجائے۔ عام فہم زبان کے انتخاب کا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ قارین کو پڑھتے وقت تحریر سمجھنے میں کوئی دِقت پیش نہ آجائے،ساتھ ہی ساتھ وہ اُسی معنی تک پہنچ پائے جو معنی قلم کار نے بیان کیا ہوا ہوتا ہے۔
اگر ہم ماضی کی طرف جا کر دیکھیں گے تو ہمیں تحریرات میں عام فہم زبان استعمال ہونے کی کئی مثالیں ملیں گی۔  اردو ادب کی بات کریں تو اس میں 17ویں صدی سے 20 ویں صدی تک کے زمانے میں جتنے بھی قلم کار گزرے ہیں، وہ آج بھی یاد کئے جاتے ہیں۔ کیوں کہ وہ سب اعلیٰ پائے کے مصنفین تھے، جنہیں اردو زبان پرکافی گرفت تھی لیکن ان کی تحریرات میں ہمیں سہل اور عام فہم زبان استعمال ہوتی نظر آتی ہیں۔علی گڑھ تحریک کو ہم آج بھی یاد کرتے ہیں جو اردو ادب میں سب سے بڑی تحریک مانی جاتی ہے ۔جس نے خاص طور پر اردو زبان کو نکھارنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی ۔اس وقت مسلمانوں کی خستہ حالی کو دیکھ کر سرسید احمد خان نے قوم کی اصلاح چاہی، سرسید نے قوم کی اصلاح کے خاطر اردو زبان کی مدد لی اور اردو زبان کو عام فہم زبان بنا کر قوم کے مسلمانوں تک اپنا پیغام پہنچایا۔سرسید اردو زبان کے ہر گُر سے واقف تھے،پر مشکل ڈکشن کے استعمال کے بجائے عام بول چال کو ترجیح دی، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پیغام پہنچ جائے۔سرسید کے مضامین کا مطالع جب کرتے ہیں تو ایک سے بڑھ کر ایک بات پڑھنے کو ملتی ہے۔ جو باتیں پوری زندگی ایک انسان کے لیے مشعل راہ ثابت ہو سکتی ہیں۔زبان کے استعمال نے ان مضامین کو اور بھی سود مند بنا دیا۔سرسید کے اسی انداز بیان کو ان کے رفقاء نے بھی اپنایا،جن میں الطاف حسین حالی,علامہ شبلی، نظیر احمد، محسن الملک وغیرہ قابل ذکر ہیں۔جس وقت سرسید کی تحریک چلی، اُس وقت مسلمانوں کی حالت کافی خستہ تھی، اکثر لوگ انپڑھ تھے جو غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ان کی اصلاح کے خاطر اگر سرسید نے اپنے مضامین میں مشکل پسندی اختیار کی ہوتی تو سرسید کا سارا مقصد فوت ہوجاتا اور قوم پر کسی قسم کا اثر نہیں پڑتا۔
اسی طرح مرزا غالب کا ذکر کرنا لازمی سمجھتا ہوں۔مرزا غالب کو کون نہیں جانتا، جس کی غزلیں آج بھی پوری دنیا میں گنگنائی جاتی ہیں۔ غالب نے اپنی غزلوں میں جو عام فہم اور روز مرہ زبان استعمال کی ہے ،وہ قابل داد ہے۔ آسان زبان کے استعمال پر ہی لوگوں کو غالب کے اشعار زبان پر ہیں۔اسی طرح غالب کے خطوط کا مطالعہ جب کرتےہیں تو ان خطوط میں صاف و شفاف زبان نظر آتی ہے، پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ غالب کسی عام انسان کے ساتھ عام بول چال میں گفتگو کرتے ہیں۔ غالب کے خطوط کی سب سے بڑی خوبی یہی کہی جاتی ہے کہ وہ عام بول چال کی زبان میں ہیں، اگرچہ وہ خطوط رقم کئے گئے ہیں لیکن پڑھ کر ایسا قطعی معلوم نہیں ہوتا بلکہ ایسا لگتا ہے، جیسے غالب خطاب کر رہے ہیں۔ ان سب خوبیوں کی وجہ صرف اور صرف آسان زبان کا استعمال ہے۔
زبان میں مشکل پسندی تحریر کو مجروح کرتی ہے ۔پہلے زمانے میں تحریر میں مشکل پسندی کو عیب سمجھا جاتا تھااور قارین حضرات ان تحریرات کو غیر ضروری اور بے معنی سمجھتے تھے۔ اس ضمن میں ن م راشد کی مثال ضروری سمجھتا ہوں۔ ن م راشد اردو نظم نگاری میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے جتنی نظمیں لکھیں، ان میں مشکل زبان کا استعمال کیا۔ جن کو سمجھنا عام قارئین کے بس کی بات نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی اکثر نظمیں تنقید کا شکار ہوگئ اور کئی نظمیں نظر انداز کر دی گئیں۔
الغرض ایک مصنف کو چاہیے کہ وہ اپنی تحریرات میں آسان زبان استعمال کر کے اپنی بات قارئین تک پہنچائے تاکہ لکھنے کا مقصدر پورا ہوجائے۔
رابطہ ۔ترہگام…. 9906609701