سکھ تنظیموں کا کویندر گپتا کے بیان پر اظہار برہمی

 جموں //مختلف سکھ تنظیموں پر مشتمل سکھ تنظیم سکھ اٹیلیکچول سرکل نے نو منتخب نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا کی طرف سے دیئے گئے بیان پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ نے رسانہ معاملے کو ایک چھوٹا سا معاملہ قرار دیا ہے جو قابل مذمت ہے جبکہ اس سانحہ پر ملک بھر کے لیڈران اور اقوام متحدہ نے بھی مذمت کی ۔سکھ لیڈروں نے کہا کہ سرکار متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے جبکہ جموں خطہ کے اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والی بچیوں میں خوف و ہراس کی شدت اب اور بھی بڑھ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں کیوں کہ ابھی تک ملزمان کے خلاف کو ئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔سکھ لیڈروں نے سرکار کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کٹھوعہ میں ملزمان کی حماہت میں ہندو ایکتا منچ کی طرف سے نکالی گئی ریلی میں شمولیت کرنے والے ایم ایل اے کٹھو عہ کو کابینہ کا وزیر بنا دیا گیا ہے جو قاتلوں کی حمائت کر رہے تھے جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ بی جے پی کی طرف سے اقلیتی طبقوں کو یہاں سے نکالنے کی سازش تھی۔انہوں نے مزید کہاجموں خطہ میں آپسی بھائی چارے کو ٹھیس پہنچانے کی باقائدہ  ذمہ دار ریاست کی وزیر اعلیٰ ہے کیوں کہ وہ اس معاملے پر مزید کوئی کارروائی عمل میں نہیں لا رہی ہے۔سکھ تنظیموں کے لیڈران نے اقوام متحدہ اور دوسری تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں ذاتی مداخلت کر کے متاثرہ خاندان کو انصاف دلایا جائے۔اس موقع پر نریندر سنگھ خالصہ ،امندیپ سنگھ، منجیت سنگھ، دویندر سنگھ ،ستپال سنگھ،سریندر سنگھ اور دلیپ سنگھ موجود تھے۔