سکول ٹرانسپورٹ کیلئے رہنما خطوط | نشستوں کی گنجائش،دستاویزات،ساخت اوررفتار وضع

بلال فرقانی

سرینگر// محکمہ ٹرانسپورٹ نے تعلیمی اداروں کی جانب سے کرایہ پر سکول بسوں اور ٹرانسپورٹ کے اجازت ناموں کو سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ حفاظتی رہنما خطوط سے مشروط رکھا ہے۔سرمائی تعطیلات کے بعد تعلیمی سرگرمیوں شروع ہونے کے بیچ ہی محکمہ ٹرانسپورٹ نے طلاب کیلئے استعمال کئے جانے والے ٹرانسپورٹ سے متعلق نشستوںکی گنجائش،سہولیات،دستاویزات ڈرائیوروں کی ذمہ داری، دروازے اور کھڑکیوں کی ساخت،رفتار،جگہ اور دیگر چیزوں سے متعلق وضاحت کی ہے۔علاقائی ٹرانسپورٹ افسر کشمیر کی جانب سے یہ ہدایتی مکتوب تمام سرکاری،معاونت شدہ اور تسلیم شدہ سرکاری سکولوں کے سربراہوں کو روانہ کیا گیا۔ آر ٹی ائو کشمیر نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اگر سکول کے بچوں کی عمر 12 سال سے کم ہے، تو بچوں کی تعداد گاڑی میںبیٹھنے کی اجازت شدہ گنجائش کے ڈیڑ ھ گنا سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے جبکہ 12 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کے ساتھ ایک شخص(مسافر) سلوک کیا جانا چاہیے۔گاڑی میںمیں ایک فرسٹ ایڈ باکس، ایک واٹر فلٹر، اور آئی ایس آئی نشان زدہ آگ بجھانے والے 2آلات ہونے چاہئیں۔رہنما خطوط کے مطابق گاڑی کا پرمٹ، فٹنس سرٹیفکیٹ، انشورنس سرٹیفکیٹ، درست ٹوکن ٹیکس کی رسید، پی یو سی سی و ایس ایل ڈی سرٹیفکیٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور جی پی ایس سرٹیفکیٹ جیسے تازہ ترین دستاویزات ہونے چاہئیں۔ ڈرائیور کے پاس ہیوی موٹر وہیکلز چلانے کا کم از کم 5 سال کا تجربہ ہونا چاہیے اور بچوں کی مکمل فہرست کے ساتھ اسکول کے ساتھ معاہدے کی ایک کاپی بھی ساتھ رکھنا لازمی ہے۔ ہدایت میں کہا گیا ہے کہ ریڈ لائٹ جمپنگ، لین ڈسپلن کی خلاف ورزی یا غیر مجاز افراد کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے پر سال میں دو بار سے زائد چالان کرنے والے ڈرائیور کو ملازم نہیں رکھا جانا چاہیے۔ تیز رفتاری، نشے میں دھت اور خطرناک ڈرائیونگ کرنے پر ایک بار بھی چالان کرنے والے ڈرائیور کو ملازم نہیں رکھا جانا چاہیے جبکہ اسکول بس کو پیلے رنگ میں رنگنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق بس کے آگے اور پیچھے ’اسکول بس‘ ،اسکول کا نام اور ٹیلی فون نمبر بھی لکھا جانا لازمی ہے۔ بس کی زیادہ سے زیادہ حد رفتار 40 کلومیٹر فی گھنٹہ ہونی چاہئے۔بس میں سیٹوں کے نیچے اتنی جگہ ہونی چاہیے کہ اسکول کے بیگ کو محفوظ طریقے سے رکھا جا سکے۔ بستوں کو گاڑی کے باہر نہیں لٹکانا ہوگا ا اور نہ ہی چھت کے کیرئیر پر رکھنا ہوگا۔گائڈ لائنز کے مطابق’’سکول بس میں ایک قابل اٹینڈنٹ ہونا چاہیے جو بس میں بچوں کو لے جانے کے لیے اور انہیں بس میں چڑھانے و اتارنے وقت مدد کریں‘۔سکول کے بچوں کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے سپرد کردہ ٹرانسپورٹ مینیجر کا نام اور رابطہ بس کے اندر اور باہر نمایاں طور پر ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔سکولوں کے سربراہوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی ٹرانسپورٹ سروس کے مالک،کرائے پر نہ لیں جس کے پاس درست پرمٹ نہ ہو یا اجازت نامے کی مطلوبہ شرائط ہدایات کو پورا نہ کرتا ہو، جبکہ ان شرائط کی کسی بھی خلاف ورزی پر نادہندگان یا خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔