سکمز میں کیجول ملازمین کی تعداد کتنی؟، ڈائریکٹر نے رپورٹ طلب کرلی

سرینگر //شیر کشمیر انسٹیچوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں کام کرنے والے کیجول لیبروں کی صحیح تعداد کو لیکر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے کیونکہ محکمہ فائنانس کی طرف سے جاری کی گئی کیجول لیبروں کی فہرست میں سکمز میں کام کرنے والے کیجول لیبروں کی تعداد 301دکھائی گئی ہے جبکہ یہاں کام کرنے والے کیجول لیبروں کی تعداد صرف 205ہے۔ڈائریکٹر سکمز نے کیجول لیبروں کی اصل تعداد جاننے کیلئے اعلیٰ افسران سے رپورٹ طلب کی ہے۔ محکمہ فائنانس کی جانب سے تیار کی گئی کیجول لیبروں کی فہرست میں سکمز میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد 300سے زیادہ دکھائی گئی ہے جبکہ سکمز میں صرف 205کیجول لیبر کام کررہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ سال 1995سے لیکر 31دسمبر 2015تک سکمز میں صرف 205کیجول لیبر کام کررہے تھے لیکن محکمہ فائنانس کو 300سے زائد لوگوں کی فہرست بھیجی گئی ہے۔ڈائریکٹر سکمز ڈاکٹر عمر جاوید شاہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ کیجول لیبروں کی اصل تعداد جاننے کیلئے میں نے رپورٹ طلب کرلی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ غلطی ہے تو اسکو جلد ٹھیک کیا جائے گا اور اگر کسی نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اسکے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی‘‘۔ کیجول لیبرز ایسوسی ایشن سکمز کے صدر عبدالرشید نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’ اس سلسلے میں سکمز انتظامیہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ڈائریکٹر نے اصل تعداد جاننے کیلئے رپورٹ طلب کی ہے اور کیجول لیبروں کی صحیح تعداد کا پتہ سوموار کو پتہ چلے گا ‘‘۔ادھر انسٹیچوٹ کے فائنانشل ایڈوائزر انتخاب حسین  نے کہا ’’ سکمز میں صرف  179کیجول لیبر ہی ٹریجری سے تنخواہ حاصل کررہے ہیں ‘‘۔واضح رہے کہ محکمہ فائنانس کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں سیریل نمبر 4178سے لیکر سیریل نمبر 4488تک سکمز میں کام کرنے والے کیجول لیبروں کے ناموں کا اندراج کیا گیا ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سکمز میں کام کرنے والے کیجول لیبروں کی فہرست میں چند ایسے لوگوں کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں جو سکمز میںنجی کمپنیوں کی ادویات فروخت کرنے کیلئے آتے تھے۔