سکمز میں مریضوں کیلئے میسر مفت اور رعایتی ادویات سے کون مستفید؟

 سرینگر//شیر کشمیر میڈیکل انسٹیچوٹ صورہ میں مفت اور رعایتی ادویات کی فہرست وارڈوں میں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مریض بازاروں سے دوائیاں اونچے داموں خریدنے کیلئے مجبور ہورہے ہیں۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال کے اندر97سے زائد ادویات مریضوںکیلئے مفت جبکہ 128سے زائد ادویات رعایتی قیمتوں پر دستیاب رکھی گئیں ہیں مگر اسپتال کے وارڈوں میں ادویات کی فہرست دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مریض مفت اور رعایتی ادویات سے استفادہ کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔وادی کے سب سے بڑے طبی ادارے میں مریضوں کی سہولیت کیلئے دستیاب رکھی گئی مفت اور رعایتی ادویات سے اسپتال میں داخل مریض فائدہ نہیں اٹھا پا رہے ہیں جس کی بڑی وجہ اسپتال کے مختلف وارڈوں میں ادویات کی فہرست کا موجود نہ ہوناہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسپتال میں 97 ادویات مفت دی جاتی ہیں جبکہ اسپتال کے سیلز کونٹر پر128ادویات رعایتی نرخوں پر دستیاب رکھیں گئی ہیںمگر جانکاری نہ ہونے کی وجہ سے مریض مستفید نہیں ہورہے ہیں۔ سرینگر کے کاٹھی دروازہ سے تعلق رکھنے والے ایک مریض وسیم احمد نے بتایا کہ اسپتال میں 20دن تک رہنے کے دوران تمام ادویات بازار سے ہی خریدنی پڑی ہیں۔ مذکورہ مریض نے بتایا کہ اسپتال کے اندر موجود ادویات  کے بارے میں جانکاری نہ ہونے کی وجہ سے مریض ادویات بازار سے خریدتے ہیں۔الطاف احمد میر نامی مریض نے بتایا کہ انفیکشن کیلئے کام آنے والی دوائیاں کئی کمپنیوں سے بن کر آتی ہیں جن میں  چند کمپنیوں کی ادویات اسپتال میں موجود ہوتے ہیں مگربازار سے خریدنے کے بعد ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوائی اسپتال کے اندر سستے داموں پر دستیاب تھیں۔ الطاف احمد نے بتایا کہ اسپتال کے اندر کام کرنے والے ڈاکٹر وارڈ میں داخل پانچ مریضوں کو پانچ کمپنیوں کی ادویات لکھتے ہیں جبکہ بازارسے خریدنے پر پتا چلتا ہے کہ ناموں سے بنائی گئی ادویات میں ایک ہی جز موجود ہے جس کی دوائی دوسرے نام سے اسپتال میں مفت یا رعایتی داموں پر دستیاب تھیں۔مذکورہ مریض نے کہا کہ اسپتال انتظامیہ کو اس سلسلے میں حکم نامہ جاری کرکے ڈاکٹروں کو بتانا چاہئے کہ وہ اسپتال کے اندر موجو دوائی ہی مریضوں کیلئے تجویز کریں۔ وادی کے اسپتال میں مریضوں کو مفت اور رعایتی ادویات پر ملنے والی ادویات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے صحت آسیہ نقاش نے کہا ’ ’ میں آج ہی اس بارے میں اعلیٰ آفیسران سے بات کررہی تھی مگر اصل حقیقت یہ لوگ اسپتال میں بغیر دیکھے مارکیٹ سے دوائیاں خرید رہے ہیں۔ آسیہ نقاش نے کہا کہ میں اس ضمن میں پھر سے ایک مٹینگ بلا رہی ہوں تاکہ مریضوں کو بھی اس بات کا پتا چلے کہ اسپتالوں میں کوئی سی ادویات مفت اور رعایتی داموں پر دستیاب رکھی گئی ہے۔