سکمزکے آنکالوجی شعبہ کی حالت ڈانواں ڈول

سرینگر //صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں قائم ریجنل کینسر ادارہ  میں درج 5ہزار سے زائد کینسر مریضوں کیلئے صرف دو ماہر ڈاکٹر تعینات ہیں جن میں سے ایک آئندہ چند دنوں میں سبکدوش ہورہا ہے۔ڈی ایم پروگرام چلانے والے بھارت کے چند موقر اداروں میں سکمزصورہ بھی شامل ہے اور اس ادارے میں ڈی ایم پروگرام چلانے کیلئے اگر چہ 6فیکلٹی ممبران کی دستیابی لازمی ہے تاہم فروری مہینے کے بعد اسپتال میں علاج و معالجہ کیلئے آنے والے کینسر مریضوں اور ڈی ایم پروگرام میں زیر تربیت ڈاکٹروں کو پڑھانے کیلئے ایک ہی ماہر ڈاکٹر دستیاب ہوگا۔عالمی یوم کینسر کے دن کے موقعہ پر جہاں ریاستی سرکار کینسر مریضوں کو اعلیٰ اور معیاری علاج فراہم  کرنے کا دعویٰ کررہی ہے وہیں کشمیر میں کینسر مریضوں کی واحد اُمید ریجنل کینسر سینٹر حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ریجنل کینسر انسٹیچوٹ سکمز کے ذرائع سے کشمیرعظمیٰ کو معلوم ہوا ہے کہ میڈیکل کونسل آف انڈیا کے قواعد و ضوابط کے تحت ریجنل کینسر سینٹر میں 6فیکلٹی ممبران کی تعیناتی لازمی ہے مگر پچھلے 5سال سے ماہر ڈاکٹروں کی بھرتی نہ ہونے کی وجہ سے شعبہ میڈیکل آنکولاجی میں ماہر ڈاکٹروں کی تعداد صرف2رہ گئی ہے جن میں شعبہ میڈیکل آنکولاجی کے سربراہ اور وادی کے پہلے میڈیکل آنکولاجسٹ ڈاکٹر شیخ اعجاز احمد 23فروری 2018کو سبکدوش ہورہے ہیں۔ سکمز ذرائع نے بتایا کہ شعبہ میڈیکل آنکولاجی سے ابتک 7طلبہ فارغ ہوئے ہیں جن میں 7غیر ریاستی اور 5وادی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ شعبہ میڈیکل آنکولاجی میں پچھلے 5سال سے بھرتی نہ ہونے کی وجہ سے کینسر علاج میں مہارت حاصل کرنے والے ڈاکٹر بیرون ریاست روزگار کی تلاش میں جانے پر مجبور ہوئے ہیں جبکہ سیکمز کے شعبہ میڈیکل آنکولاجی ماہر ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے بند ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اگر شعبہ میڈیکل آنکولاجی میں ماہر ڈاکٹروں کی بھرتی عمل میں نہیں لائی گئی تو این ای ای ٹی(NEET) امتحانات کے معائنہ اور سیکمز میں پوسٹ گریجویشن کیلئے سیٹیں بڑھانے کیلئے ہونے والے معائنہ کے دوران سیکمز صورہ ڈی ایم پروگرام بھی کھو سکتا ہے۔ سیکمز صورہ میں قائم ریجنل کینسر سینٹر اور ڈی ایم پروگرام پر بات کرتے ڈائریکٹر سکمز ڈاکٹر عمر جاوید شاہ نے کہا ’’ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ریجنل سینٹرل کو چلانے کیلئے بھرتی عمل شروع کرنا لازمی ہوگیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ڈی ایم کی سہولیات بھارت کے چند ریاستوں میں ہے اور سکمز ان چند اداروں میںسے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلے حکومتی سطح پر ہوتے ہیں اور میں بھی اس معاملے پر حکومتی پالیسی کا انتظار کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایم پروگرام کو بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی کیونکہ ہم مریضوں کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کرسکتے ۔‘‘ انہوں نے کہا’’ یہ ہماری بھی تشویش رہی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ حکومت اس حوالے جلد اپنی پالیسی واضح کرے گی۔ واضح رہے کہ شیر کشمیر انسٹیچوٹ آف میڈیکل سائنسز بھارت کے چند ایسے اداروں میں ہے جہاں کینسر بیماری کیلئے ماہرین تیار کرنے کی سہولیات دستیاب ہے مگر پچھلے چند سال میں ریجنل کینسر سینٹر حکومت کی عدم توجہی کا شکار رہا ہے۔