سڑک حادثات کا نہ تھمنے والاسلسلہ جاری رواں سال 254 لقمہ اجل اور 2342 زخمی

 

اشفاق سعید
سرینگر //جموں وکشمیر کی سڑکوں پر ہر سال اوسطاً5000سڑک حادثات میں 700لوگوں کی موت اور 6000لوگ زخمی ہوتے ہیں ۔ یہاں آئے روز ٹریفک حادثات کا رونما ہونا معمول کی بات بن گئی ہے۔رواں سال سڑکوں پر موت کا خونین رقص جاری رہا اور اپریل تک 1812سڑک حادثات کے دوران 254لوگ ہلاک اور 2342 زخمی ہوگئے ۔محکمہ کے اعداد وشمار کے مطابق رواں سال وادی میں سب سے زیادہ سڑک حادثات سرینگر ضلع میں ہوئے جہاں 143سڑک حادثات کے دوران18لوگوں کی موت ہوئی اور 129زخمی ہوئے ہیں، جبکہ جموں خطہ میں سب سے زیاد ہ سڑک حادثات جموں ضلع میں پیش آئے جس میں 376سڑک حادثات میں 65لوگوں کی موت ہوئی ہے اور 375زخمی ہوئے ۔محکمہ کے اعداوشمار کے مطابق دونوں خطوں میں جنوری کے مہینے میں 391سڑک حادثات کے دوران 54لوگوں کی موت ہوئی ہے اور522زخمی ہوگئے جبکہ فروری کے مہینے میں پوری یوٹی میں 442سڑک حادثات کے دوران 66لوگو ں کی موت ہوئی اور 549زخمی ہوئے ۔مارچ میں 480سڑک حادثات کے دوران 75لوگوں کی موت ہوئی اور 609زخمی ہوئے ۔اپریل تک جو اعداد وشمار کشمیر عظمیٰ کے پاس دستیاب ہیں ان کے مطابق اس ماہ میں جموں وکشمیر کی سڑکوں پر 499سڑک حادثات رونما ہوئے ہیں ،جس دوران 55لوگوں کی موت ہوئی اور 662لوگ زخمی ہوئے ہیں ۔گذشتہ تین برسوں کے دوران جموں وکشمیر کی سڑکوں پر ٹریفک حادثات کی شرح میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال2020میں 4860سڑک حادثات کے دوران جہاں 728لوگوں کی موت ہوئی اور 5894لوگ زخمی ہوئے،وہیںسال 2021میں سڑک حادثات کی تعداد بڑ کر5452 پہنچ گئی، جس دوران 774لوگ ہلاک اور 6972زخمی ہوئے ہیں ۔گذشتہ سال یعنی 2022میں یوٹی کی سڑکوں پر 6092سڑک حادثات کے دوران 805لوگوں کی موت ہوئی اور 8372زخمی ہوئے اور اس طرح سڑک حادثات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔محکمہ ٹریفک کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ محکمہ اپنی جانب سے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ ٹریفک حادثات پر قابو پایا جائے۔انہوں نے کہا کہ گاڑیوں میں موبائل کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے محکمہ نے ابھی تک ہزاروں چالان کئے ہیںجبکہ ہیلمنٹ کے بغیر موٹر سائیکل یا پھر موٹر سائیکل چلانے والے افراد کے علاوہ سیٹ بلٹ کا استعمال نہ کرنے والوں کو بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے تاہم اُس کے باوجود بھی تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیاں اکثر وبیشتر ٹریفک حادثات کا شکار ہو جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صرف رواں سال ہی محکمہ نے ابھی تک جموں وکشمیر میں 428220چالان کئے ہیں جن میں85174عدالتی اور 343046کمپاونڈ چالان شامل ہیں ۔محکمہ موٹر ویکل کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ محکمہ کے پاس عملے کی کمی ہے، اس کے باوجود بھی محکمہ نے ٹیموں کو تشکیل دے کر قوانیں کی خلاف واری کرنے والوں کے خلاف کارروئی عمل میں لائی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اُس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عملہ تعینات کیا جائے۔